مشرق وسطیٰتازہ ترین

شام: ’بیرل بم مفتی‘ احمد حسون کو عمر قید کی سزا

انہیں مارچ 2025 میں دمشق کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل وہ طویل عرصے تک روپوش رہنے کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ شام کی ایک عدالت نے پیر کے روز معزول صدر بشار الاسد کے دور کے سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
احمد حسون کو ان کے بیانات اور بشار الاسد حکومت کی حمایت کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے ’’بیرل بم مفتی‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ان پر اسد حکومت کے اقدامات کو مذہبی جواز فراہم کرنے کا بھی الزام تھا۔
احمد حسون 2005 سے 2021 تک، تقریباً 16 سال، شام کے مفتی اعظم رہے۔ وہ بشار الاسد حکومت کے اہم مذہبی حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور جنگ کے دوران حکومت کے حق میں متعدد بیانات دیتے رہے۔ وہ مذہبی مواقع پر اکثر بشار الاسد کے ہمراہ نظر آتے تھے۔
انہیں مارچ 2025 میں دمشق کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے تقریباً ایک ماہ قبل وہ طویل عرصے تک روپوش رہنے کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔
حسون کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت 25 جون کو شروع ہوئی تھی، جس کے بعد عدالت نے پیر کو انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔
دمشق کی فوجداری عدالت نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے حسون کو متعدد جرائم کا مجرم قرار دیا، جن میں تشدد پر اکسانا، ہلاکتوں کو جائز قرار دینا اور اپنے سرکاری مذہبی عہدے کا ناجائز استعمال شامل ہیں۔
احمد حسون نئی شامی حکومت کے تحت سزا پانے والے اسد دور کے دسویں اہم عہدیدار ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button