بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ کا ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی اقتصادی پابندیوں کا اعلان

’’صبح کے آغاز کے ساتھ ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ شروع ہو گا، یہ کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی ہو گی۔‘‘

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق واشنگٹن پیر کے روز ایسی نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے جن کا ہدف ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور ادارے ہوں گے۔ دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر ’’اقتصادی جنگ جاری رہی‘‘ تو وہ خلیج سے اپنی تمام تیل کی برآمدات بند کر دے گا۔
روئٹرز نے مزید بتایا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو آج ایک پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔ ایران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے تقریباً مسلسل امریکی اور بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
بیسنٹ نے اتوار کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ ’’صبح کے آغاز کے ساتھ ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ شروع ہو گا، یہ کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی ہو گی۔‘‘
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کیا جائے گا، نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے اور نہ ہی خلیج فارس کے کسی اور راستے سےتصویر: AFP
ایران کی جوابی دھمکی
دونوں متحارب ممالک کے درمیان کئی ہفتوں سے براہِ راست فوجی حملے نہیں ہوئے، تاہم چھ ماہ سے جاری تنازعہ ختم کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات بھی نہیں ہو سکے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ نے نئی پابندیوں کی تفصیلات بتائے بغیر اشارہ دیا کہ امریکہ ان ’’خوف زدہ ممالک‘‘ کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو ایران کی معیشت اور مالیاتی نظام کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر ’’مصلحت پسندی‘‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ایسے ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔
ایران کو نئی امریکی پابندیوں کا پہلے سے ہی خدشہ تھا اور اس دوران ایرانی حکام کی جانب سے سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں بڑے فوجی ردعمل کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے اتوار کو اقتصادی جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو ’’ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کیا جائے گا، نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے اور نہ ہی خلیج فارس کے کسی اور راستے سے۔‘‘
رضائی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ایسے ملک کی جانب سے، جو ایرانی عوام کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ میں شریک ہو یا اس کی حمایت کرے، اس اقدام کو جنگی عمل تصور کرے گا۔
ایرانی صدر کا مشکلات کا اعتراف
خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی میں کمی لانے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر پزشکیان نے ایک خطاب میں کہا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکی کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے تقریباً چھ ماہ سے جاری فوجی تنازعے کے بعد ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ایران کو ’’مکمل اقتصادی، فوجی اور سکیورٹی جنگ‘‘ کا سامنا ہے اور دشمنوں نے ملک پر غیرمعمولی پابندیاں عائد کرنے کی کھلی دھمکیاں دی ہیں۔
تاہم ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام متحد اور ثابت قدم ہیں، اس لیے ملک اس دباؤ کا مقابلہ کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button