
دنیا بھر کے معروف سابق کرکٹرز نے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور سابق کرکٹر عمران خان کے طبی علاج کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ سابق بین الاقوامی کپتانوں کے ایک گروپ نے اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام خط لکھا ہے۔
بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت آسٹریلیا کے عظیم کرکٹرز گریگ چیپل اور ایان چیپل سمیت 22 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران دوسری مرتبہ پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے عمران خان کے طبی علاج کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
یہ تازہ اپیل ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب چند روز قبل عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ معائنے کے دوران ان کی ایک بہن بھی موجود تھیں، جس کے بعد عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل طور پر طبی طور پر فِٹ قرار دیا تھا۔
سابق کرکٹرز نے طبی معائنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھا دیا
کرکٹ کے سابق عظیم کھلاڑیوں نے عمران خان کے طبی معائنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے خط میں کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو ایسے میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنہ کرایا جائے جس میں ان کے ذاتی معالجین اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان بھی شامل ہوں۔
خط میں کہا گیا کہ عمران خان کا ہسپتال میں قیام تشویشناک طور پر صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا۔ ان کا معائنہ عدالت کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے ریاست کی جانب سے مقرر کردہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیا، انہیں ’’طبی طور پر مکمل فِٹ‘‘ قرار دیا گیا اور عدالت کے مقرر کردہ بورڈ کو اپنا کام مکمل کرنے کا موقع ملنے سے پہلے ہی انہیں اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا۔
اپریل 1992 کی اس فائل تصویر میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان (دائیں سے دوسرے) اسلام آباد میں ٹیم کی ورلڈ کپ فتح کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران پاکستان کے اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف کو ورلڈ کپ ٹرافی پیش کر رہے ہیںاپریل 1992 کی اس فائل تصویر میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان (دائیں سے دوسرے) اسلام آباد میں ٹیم کی ورلڈ کپ فتح کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران پاکستان کے اس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف کو ورلڈ کپ ٹرافی پیش کر رہے ہیں
1992 کے ورلڈ کپ کے فاتح عمران خان
عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ بعد ازاں وہ سیاست میں آئے اور 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے، تاہم 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
22 سابق قومی کپتانوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے اندرونی قانونی معاملات پر فیصلہ سنانے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کو خط ’’سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ عمران خان کے سابق ساتھیوں اور میدان کرکٹ کے حریفوں کی حیثیت سے‘‘ لکھا ہے۔
رواں سال فروری میں 14 سابق بین الاقوامی کرکٹرز نے عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت ان کے خاندان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، تاہم حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
بعد ازاں حکام نے کہا تھا کہ علاج کے بعد عمران خان کی حالت میں بہتری آئی ہے۔
عمران خان کے وکلا اور اہلِ خانہ نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، جس کے تحت عمران خان کا طبی معائنہ اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہونا تھا۔
حکومت نے گزشتہ ہفتے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا معائنہ نجی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کیا تھا، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
حکومت کا موقف
حکومت کے مطابق عمران خان کے حامیوں نے نجی ہسپتال کے باہر جمع ہونا شروع کر دیا تھا، جبکہ عدالتی حکم میں انہیں طبی مرکز سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ دیگر مریضوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت نے عمران خان کے خاندان کی جانب سے ’’ظلم، ذہنی تشدد، سزا کے طور پر تنہائی میں رکھنے اور طبی سہولیات سے محروم کرنے‘‘ کے الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔
وزارت اطلاعات نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ عمران خان کسی حکومتی حکم کے تحت نہیں بلکہ عدالتوں کی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ’’مجرم قرار دیے گئے قیدی‘‘ کی حیثیت سے جیل میں ہیں۔
وزارت کے مطابق عمران خان کو 2023 میں گرفتاری کے بعد سے اب تک خاندان کے افراد، وکلا، ڈاکٹروں، سیاسی نمائندوں اور دیگر مجاز افراد کی جانب سے 900 سے زائد ملاقاتیں فراہم کی جا چکی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے علاوہ پاکستان اور بیرونِ ملک موجود رشتہ داروں سے ٹیلی فون اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی بھی اجازت ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کی بہنوں نے بھی حال ہی میں 18 اور 19 اگست کو ان سے ملاقات کی تھی۔


