
سید عاطف ندیم-ادارتlخصوصی رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی، سکیورٹی کے نئے اور پیچیدہ چیلنجز اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے تناظر میں پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خطے کے ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کرتے ہوئے انتہائی محتاط، متوازن اور دوراندیش پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک ان معاہدوں سے سفارتی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی فوائد تو حاصل کر سکے، تاہم کسی بڑے علاقائی تنازع یا عالمی طاقتوں کی پراکسی کشمکش کا حصہ بننے سے بھی محفوظ رہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے پروٹوکول کو دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ 27 اگست کو پاکستان اور کویت کے درمیان طے پانے والا یہ پروٹوکول دراصل 2023 میں ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توسیع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خلیجی خطے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور عسکری تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
اس تعاون کے تحت پاکستان تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیت سازی، سرحدی انتظام، دفاعی منصوبہ بندی اور عسکری شعبے کے دیگر معاملات میں کویت کی معاونت کر سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی متعدد خلیجی ممالک کی افواج کی تربیت اور ان کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے میں کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کے باعث اسے اس شعبے میں ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
خلیجی خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورا خلیجی خطہ متعدد سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ علاقائی کشیدگی، سرحدی تنازعات، غیر ریاستی عناصر، میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات اور سائبر سکیورٹی جیسے غیر روایتی خطرات نے خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر ازسرِنو توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ریاستیں اب صرف روایتی فوجی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے تربیت یافتہ افرادی قوت، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور مشترکہ سکیورٹی انتظامات کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا رہی ہیں۔
ایسے حالات میں پاکستان کے لیے اپنی فوجی مہارت اور طویل تجربے کو سفارتی اور معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کا ایک موقع موجود ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی مواقع
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہا ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اسلام آباد کے لیے متعدد نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ دفاعی تعاون صرف فوجی تعلقات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات سفارت کاری، تجارت، سرمایہ کاری اور وسیع تر سیاسی تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات رکھتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ریاستوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی ترسیلات زر کا ایک بڑا حصہ بھی اسی خطے سے پاکستان پہنچتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دفاعی تعاون سیاسی اعتماد کو مزید مضبوط بناتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کو سرمایہ کاری، تجارت، روزگار اور معاشی تعاون کے مزید مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔
دفاعی مصنوعات اور اسلحے کی برآمدات کا امکان
پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو اپنی دفاعی صنعت کو وسعت دینے کا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان فوجی سازوسامان اور دفاعی مصنوعات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنی شناخت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔
پاکستان خصوصاً چھوٹے ہتھیاروں، گولہ بارود اور مختلف دفاعی مصنوعات کی تیاری میں تجربہ رکھتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی صلاحیت صرف اسی شعبے تک محدود نہیں۔ دفاعی تعاون کے نئے معاہدے پاکستان کے لیے اپنی دفاعی مصنوعات اور عسکری خدمات کو خلیجی ممالک تک پہنچانے کے مزید مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اپنی دفاعی صنعت، تربیتی اداروں اور تکنیکی صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرے تو ایسے معاہدے ملکی دفاعی برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں بعض حلقے پاکستان اور کویت کے درمیان نئے دفاعی پروٹوکول کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں۔
لیکن کیا پاکستان کو حقیقی فائدہ ہو گا؟
دوسری جانب بعض تجزیہ کار ان دفاعی معاہدوں کے ممکنہ فوائد کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بظاہر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے عملی طور پر کیا خدمات فراہم کرے گا اور بدلے میں اسے حقیقتاً کیا حاصل ہو گا۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں وہ بڑی طاقتوں کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی منصوبوں میں محض ایک مہرے کے طور پر تو استعمال نہیں ہو رہا۔
ان کے مطابق پاکستان ایک جوہری طاقت رکھنے والا ملک ہے اور اسے اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے انتہائی احتیاط سے کرنے چاہئیں۔ پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ اس کے عسکری اور سکیورٹی تعاون کا بنیادی مقصد قومی مفادات کا تحفظ ہو، نہ کہ کسی دوسری طاقت کے علاقائی مقاصد کی تکمیل۔
ناقدین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کتنے دفاعی معاہدے کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ ان معاہدوں سے ملک کو معاشی، سفارتی اور سکیورٹی کے اعتبار سے قابلِ پیمائش اور دیرپا فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔
امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ تبدیلی اور پاکستان کا کردار
مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی براہِ راست فوجی موجودگی کے انداز کو تبدیل یا بعض معاملات میں کم کرنا چاہتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ واشنگٹن خطے میں اپنا سیاسی اور جغرافیائی اثر و رسوخ بھی مکمل طور پر کم کر دے۔
ایسی صورتحال میں علاقائی ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں دفاعی تربیت، افرادی قوت، پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر سکیورٹی خدمات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ تاثر پیدا ہونے سے بچنا چاہیے کہ وہ کسی بڑی طاقت یا علاقائی اتحاد کے لیے پراکسی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔
کیا پاکستان کسی جنگ کا حصہ بنے گا؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدوں کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی جنگ میں براہِ راست شریک ہو گا۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ دفاعی تعاون تربیت، مشاورت، پیشہ ورانہ استعداد، مشترکہ مشقوں، دفاعی منصوبہ بندی اور ممکنہ طور پر پاکستانی فوجی ماہرین یا اہلکاروں کی تعیناتی جیسے معاملات تک محدود رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے مطابق واضح حدود متعین کرنا ہوں گی تاکہ ملک کسی ایسے تنازع میں براہِ راست شامل نہ ہو جس کا پاکستان کی قومی سلامتی سے تعلق نہ ہو۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی تعاون کرتا رہا ہے، اس لیے موجودہ معاہدوں کو فوری طور پر کسی نئی جنگی صف بندی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں ہر دفاعی معاہدے کے سیاسی اور جغرافیائی نتائج کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اندرونی استحکام پاکستان کے لیے بنیادی شرط
تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان اگر بین الاقوامی سطح پر ایک مؤثر سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے تو اسے اپنی داخلی صورتحال پر بھی توجہ دینا ہو گی۔
ان کے مطابق ملک کے اندر سیاسی استحکام، معاشی بہتری، انصاف کی فراہمی اور مختلف داخلی تنازعات میں کمی پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک طرف بین الاقوامی سطح پر جنگوں اور تنازعات کو کم کرنے کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب اسے اپنے اندرونی مسائل کے حل کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔
ان کے مطابق داخلی امن اور استحکام کے بغیر پاکستان کے لیے طویل مدت تک دوسرے ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر کے طور پر کردار ادا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط اندرونی معیشت، سیاسی استحکام اور مؤثر داخلی سکیورٹی پاکستان کو بین الاقوامی دفاعی تعاون میں زیادہ بااعتماد اور مضبوط پوزیشن فراہم کر سکتی ہے۔
سیاسی اعتماد اور وسیع تر سکیورٹی شراکت داری
مبصرین کے مطابق پاکستان اور کویت جیسے ممالک کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں ہوتے۔
یہ معاہدے سیاسی اعتماد، سفارتی ہم آہنگی، انٹیلی جنس تعاون، علاقائی سلامتی اور طویل المدتی شراکت داری کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اہم بات یہ ہو گی کہ وہ اپنے دفاعی تعاون کو معاشی سفارت کاری کے ساتھ جوڑے۔ اگر عسکری تعلقات کے نتیجے میں سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں، توانائی تعاون، پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار اور دفاعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسے معاہدوں کے فوائد مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
فوج اور قومی معیشت کے لیے ممکنہ فوائد
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی فوجی اہلکاروں، تربیتی ماہرین اور دفاعی شعبے سے وابستہ اداروں کے لیے بیرونِ ملک پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ طور پر پاکستانی فوجی اہلکار خلیجی ممالک میں تربیت یا دفاعی تعاون کے منصوبوں کے تحت تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دفاعی تربیت اور آلات کی فراہمی سے پاکستان کو معاشی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ان فوائد کو صرف مخصوص اداروں یا شعبوں تک محدود نہ رہنے دیا جائے بلکہ دفاعی تعاون سے حاصل ہونے والے معاشی اور سفارتی فوائد کو وسیع تر قومی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔
پاکستان کو متوازن پالیسی کیوں درکار ہے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھاتے ہوئے علاقائی طاقتوں اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہو گا۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ کسی ایک علاقائی یا عالمی طاقت کے کیمپ میں مکمل طور پر شامل ہونے کے بجائے اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات، علاقائی امن اور معاشی ترقی کے اصولوں پر استوار رکھے۔
پاکستان کو ایسے معاہدوں میں شامل ہوتے وقت یہ واضح رکھنا ہو گا کہ:
- پاکستان کسی غیر ضروری علاقائی جنگ کا فریق نہ بنے۔
- دفاعی تعاون براہِ راست قومی مفادات سے منسلک ہو۔
- دفاعی معاہدوں سے معاشی اور سفارتی فوائد حاصل کیے جائیں۔
- پاکستانی دفاعی مصنوعات اور خدمات کی برآمدات کو فروغ دیا جائے۔
- خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں۔
- داخلی سیاسی اور سکیورٹی استحکام کو قومی ترجیح بنایا جائے۔
نتیجہ
پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا پروٹوکول بلاشبہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے عسکری اور سکیورٹی تعلقات کی ایک اہم علامت ہے۔ پاکستان کے پاس اپنی فوجی تربیت، پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی صلاحیتوں کو سفارتی اور معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کا موقع موجود ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی علاقائی تنازعات، عالمی طاقتوں کی کشمکش اور سکیورٹی کے غیر یقینی حالات کا شکار ہے۔
ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملی یہی ہو سکتی ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کرے لیکن اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو مکمل طور پر قومی مفادات، علاقائی امن اور داخلی استحکام کے اصولوں کے تحت برقرار رکھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو کویت اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ملک کے لیے صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی سطح پر بھی اہم فوائد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن اگر ان معاہدوں کی حدود، مقاصد اور قومی فوائد واضح نہ ہوں تو پاکستان کو ایسے علاقائی معاملات میں غیر ضروری خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو قومی خوشحالی، معاشی استحکام اور سفارتی اثر و رسوخ میں کس حد تک تبدیل کر پاتا ہے۔



