بین الاقوامیاہم خبریں

اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی کی بھارت پر سخت تنقید، دلتوں، قبائلی عوام اور اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ

کمیٹی کی رکن سٹاماتیا سٹاورناکی نے دلتوں کے حوالے سے کہا کہ ایسے قابلِ اعتماد اشاریے ضروری ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ سماجی علیحدگی میں مؤثر اور حقیقی کمی واقع ہوئی ہے۔

مدثر احمد – ادارت

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نسلی امتیاز کے خاتمے (CERD) نے بھارت میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں، دلتوں، قبائلی برادریوں، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق متعدد خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

کمیٹی نے خاص طور پر ماورائے عدالت ہلاکتوں، تشدد، طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال، طویل یا بلاجواز حراست، نسلی پروفائلنگ اور مختلف اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم سے متعلق اطلاعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ سفارشات کمیٹی کے بھارت کے بارے میں تازہ جائزے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بھارت نے 2007 کے بعد پہلی مرتبہ رواں سال کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹ اور حکومتی مؤقف پیش کیا۔ CERD کا 118 واں اجلاس 10 سے 25 اگست 2026 تک جنیوا میں منعقد ہوا، جس میں بھارت سمیت متعدد ممالک کا جائزہ لیا گیا۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھارت سے کیا مطالبہ کیا؟

CERD نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لے جن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے بعض نسلی، مذہبی اور سماجی گروہوں کے خلاف مبینہ طور پر طاقت کا غیر ضروری استعمال اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

کمیٹی کی تشویش میں بالخصوص شیڈولڈ ٹرائبز، شیڈولڈ کاسٹس، دلتوں، مقامی و قبائلی عوام اور غیر شہریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق ایسے الزامات کی مؤثر تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ نتائج میں بھارت سے متعلق دستاویز کو CERD/C/IND/CO/20-21 کے عنوان سے جاری کیا گیا ہے۔

ماورائے عدالت قتل اور پولیس تشدد پر تشویش

CERD نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار سے متعلق متعدد سنگین الزامات کا حوالہ دیا۔

کمیٹی کے مطابق اسے ایسی اطلاعات پر تشویش ہے جن میں نسلی یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد، طاقت کے حد سے زیادہ استعمال، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاری اور طویل حراست، تشدد، بدسلوکی اور جنسی تشدد جیسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے بھارت سے کہا ہے کہ ایسے تمام الزامات کی مکمل، مؤثر، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی اہلکار یا دوسرے فرد کی ذمہ داری ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

دلتوں اور قبائلی عوام کے حقوق کا معاملہ

بھارت میں ذات پات کا نظام ایک طویل عرصے سے سماجی اور معاشی عدم مساوات کا اہم مسئلہ رہا ہے۔ دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کو تاریخی طور پر تعلیم، روزگار، زمین، وسائل اور سماجی مواقع تک رسائی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

CERD نے اس معاملے میں اس بات پر زور دیا کہ صرف قوانین اور آئینی ضمانتیں کافی نہیں بلکہ حکومت کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ امتیازی سلوک اور سماجی علیحدگی میں حقیقی کمی آئی ہے۔

کمیٹی کی رکن سٹاماتیا سٹاورناکی نے دلتوں کے حوالے سے کہا کہ ایسے قابلِ اعتماد اشاریے ضروری ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ سماجی علیحدگی میں مؤثر اور حقیقی کمی واقع ہوئی ہے۔

ذات پات اب بھی بڑا سماجی چیلنج

کمیٹی کے جائزے میں بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز بھی اہم موضوع رہا۔

بھارتی معاشرے میں ذات پات تاریخی طور پر سماجی حیثیت، پیشے، وسائل اور مواقع سے جڑی رہی ہے۔ اگرچہ بھارتی آئین اور مختلف قوانین امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے عملی سطح پر اس مسئلے کی موجودگی کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔

CERD کا مؤقف ہے کہ قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی نگرانی ضروری ہے کہ قوانین حقیقی زندگی میں کس حد تک نافذ کیے جارہے ہیں۔

بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم پر تشویش

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھارت میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے حوالے سے بھی خاص طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔

کمیٹی نے بھارت پر زور دیا کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور نفرت انگیز تقریر سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔

CERD کے ماہرین نے اقلیتوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں اور شناختی جانچ کے بعض طریقوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔

روہنگیا، مہاجرین اور پناہ گزین بھی جائزے کا حصہ

کمیٹی نے بھارت میں روہنگیا، بنگالی بولنے والے مسلمانوں، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا۔

CERD نے کہا کہ بعض قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں میں ایسے افراد کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو نسلی یا مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

کمیٹی نے خاص طور پر شناختی چیکنگ اور پولیس تلاشی کے ایسے طریقوں پر تشویش ظاہر کی جن کے بارے میں شکایت ہے کہ ان میں نسلی پروفائلنگ شامل ہوسکتی ہے۔

نسلی پروفائلنگ کے نتائج پر تشویش

CERD کے مطابق نسلی یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو مشکوک سمجھنا یا انہیں زیادہ سخت نگرانی کا سامنا کرانا انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں بلاجواز گرفتاری، حراست، تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس نے بھارت پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح اصول اور احتساب کا ایسا نظام یقینی بنایا جائے جس میں کسی فرد کو محض اس کی نسلی، مذہبی یا سماجی شناخت کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔

اجتماعی ملک بدری پر بھی تحفظات

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے ان افراد کی جبری ملک بدری اور واپسی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

CERD نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان اقدامات سے گریز کیا جائے جن کے نتیجے میں کسی مخصوص گروہ کے افراد کو اجتماعی طور پر ملک بدر کیا جائے۔

کمیٹی کے مطابق پناہ گزینوں اور دیگر افراد کے معاملات میں بین الاقوامی تحفظ کے اصولوں اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم روکنے کا مطالبہ

CERD نے بھارت سے واضح طور پر کہا کہ امتیاز، نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

کمیٹی کے مطابق محض قانون بنانا کافی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

کمیٹی کی رکن سٹاورناکی نے جواب دہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر قوانین موجود ہوں لیکن ان پر عمل نہ کیا جائے تو نفرت انگیز جرائم کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔

انسانی حقوق کے محافظوں کے تحفظ کا مسئلہ

جائزے کے دوران بھارت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کو بتایا کہ وہ انسانی حقوق کے محافظوں کے کردار اور حقوق کا احترام کرتا ہے۔

تاہم CERD کی رکن سٹاورناکی کے مطابق عملی سطح پر انسانی حقوق کے محافظوں کو درپیش خطرات، نفرت انگیز تقریر، نفرت انگیز جرائم اور مجموعی منفی ماحول کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔

اس تناظر میں کمیٹی نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور محافظوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔

نجی شعبے میں نسلی امتیاز کے خلاف قانونی خلا

CERD نے بھارت کے قانونی نظام میں ایک اور اہم خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے میں نسلی امتیاز کو واضح طور پر ممنوع قرار دینے کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امتیاز کے خلاف قانونی تحفظ صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ روزگار، کاروبار، خدمات اور دیگر نجی شعبوں میں بھی مؤثر تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

کمیٹی نے اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک اور مؤثر شکایتی و احتسابی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔

بھارت کا مؤقف کیا ہے؟

جائزے کے دوران بھارتی وفد نے اپنے ملک کے آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی نظام کا دفاع کیا۔

جائزے کے بعد بھارتی مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وفد نے ملک کے کثیرالثقافتی نظام، تنوع، بڑے پیمانے اور پیچیدگی، آئینی و قانونی ڈھانچے اور حفاظتی اقدامات کو اجاگر کیا۔

بھارتی مؤقف کے مطابق ملک تمام شہریوں کے لیے مساوات، وقار اور مواقع یقینی بنانے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

یوں ایک جانب اقوام متحدہ کی کمیٹی نے عملی سطح پر انسانی حقوق کے نفاذ اور جواب دہی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے، جبکہ دوسری جانب بھارت نے اپنے آئینی اور قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اقدامات کو اجاگر کیا۔

2007 کے بعد بھارت کا پہلا جائزہ

بھارت کا CERD کے سامنے حالیہ پیش ہونا بھی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ملک نے 2007 کے بعد پہلی مرتبہ کمیٹی کے ساتھ اس سطح پر مکالمہ کیا۔

اس بار بھارتی وفد کی قیادت سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کی۔

اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق بھارت 118 ویں نشست میں زیرِ جائزہ آنے والے ممالک میں شامل تھا، اور اس کے ریاستی رپورٹنگ دستاویزات بھی اجلاس کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

CERD کیا ہے اور اس کا کردار کیا ہے؟

کمیٹی برائے نسلی امتیاز کے خاتمے (CERD) اقوام متحدہ کے معاہداتی اداروں میں سے ایک ہے جو نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے۔

کمیٹی آزاد ماہرین پر مشتمل ہے اور رکن ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات اور حتمی مشاہدات جاری کرتی ہے۔

اس کنونشن کا بنیادی مقصد نسلی امتیاز کی مختلف شکلوں کا خاتمہ، قانون کے سامنے مساوات کا تحفظ اور امتیازی پالیسیوں و طریقوں کی روک تھام ہے۔

کمیٹی کی سفارشات قانونی حکم نہیں

CERD کی سفارشات کی ایک اہم قانونی حیثیت یہ ہے کہ یہ عام طور پر کسی ملک کی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے براہ راست قانونی حکم کی نوعیت نہیں رکھتیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے معاہدے کے تحت ہونے والے جائزے کی وجہ سے ان سفارشات کی بین الاقوامی، اخلاقی اور سفارتی اہمیت ہوتی ہے۔

متعلقہ ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سفارشات پر غور کرے، ضروری اصلاحات کرے اور مستقبل میں ہونے والے جائزوں کے دوران اپنی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کرے۔

بھارت کے لیے سفارشات کا دائرہ وسیع

CERD کے تازہ جائزے میں صرف پولیس کارروائیوں کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا بلکہ نسلی اور مذہبی امتیاز کے وسیع تر پہلوؤں کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔

ان میں شامل ہیں:

  • قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احتساب
  • ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات
  • تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام
  • دلتوں اور قبائلی عوام کا تحفظ
  • نفرت انگیز جرائم کے خلاف کارروائی
  • نفرت انگیز تقریر کی روک تھام
  • نسلی پروفائلنگ کا خاتمہ
  • پناہ گزینوں اور مہاجرین کے حقوق کا تحفظ
  • اجتماعی ملک بدری سے گریز
  • انسانی حقوق کے محافظوں کا تحفظ
  • نجی شعبے میں امتیاز کے خلاف مؤثر قانون سازی

جواب دہی کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا

CERD کے تازہ مؤقف میں ایک اہم نکتہ جوابدہی ہے۔

کمیٹی کے مطابق اگر قانون موجود ہو لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے تو قانونی تحفظ مؤثر نہیں رہتا۔

اسی لیے کمیٹی نے تحقیقات، استغاثہ اور سزا کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔

یہ مسئلہ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ ریاستی اہلکاروں کے خلاف شکایات کی آزادانہ تحقیقات اور احتساب انسانی حقوق کے تحفظ کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔

اقلیتوں کے تحفظ کی بحث

بھارت دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل ہے اور اس میں مذہبی، لسانی، نسلی اور ثقافتی تنوع انتہائی وسیع ہے۔

CERD کے جائزے میں یہی تنوع انسانی حقوق کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری کو اہم بناتا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں کے حقوق کا تحفظ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر جانب دارانہ طریقے سے کام کریں اور کسی فرد یا گروہ کو اس کی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہ ہو۔

عالمی سطح پر بھارت کے لیے اہم پیغام

اقوام متحدہ کی کمیٹی کی سفارشات بھارت کے لیے ایک اہم بین الاقوامی انسانی حقوق کا جائزہ ہیں۔

اگرچہ بھارت نے اپنے آئینی اور قانونی نظام کا دفاع کیا ہے، تاہم CERD نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قانونی ضمانتوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر ان کے مؤثر نفاذ کے شواہد بھی ضروری ہیں۔

دلتوں، قبائلی برادریوں، اقلیتوں، مہاجرین اور پناہ گزینوں سے متعلق مسائل کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے کمیٹی نے انہیں امتیاز اور جواب دہی کے وسیع تر تناظر میں دیکھا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

CERD کی سفارشات کے بعد بھارت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ان خدشات کے جواب میں عملی اقدامات کس حد تک کرتا ہے۔

ممکنہ طور پر توجہ ان شعبوں پر مرکوز ہوگی جہاں کمیٹی نے فوری کارروائی پر زور دیا ہے، خصوصاً نفرت انگیز جرائم، پولیس کے احتساب، دلتوں اور قبائلی عوام کے تحفظ، پناہ گزینوں کے حقوق اور نسلی پروفائلنگ کے الزامات۔

مستقبل میں بھارت کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس اور اقوام متحدہ کے اگلے جائزوں میں ان اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

اہم نکات ایک نظر میں

  • اقوام متحدہ کی CERD نے بھارت میں نسلی اور مذہبی امتیاز سے متعلق تشویش ظاہر کی۔
  • کمیٹی نے دلتوں، قبائلی عوام اور دیگر پسماندہ گروہوں کے تحفظ پر زور دیا۔
  • ماورائے عدالت قتل، تشدد، بدسلوکی اور طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
  • بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے پر زور دیا گیا۔
  • روہنگیا، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
  • نسلی پروفائلنگ کے نتیجے میں مبینہ گرفتاریوں اور حراست پر تشویش ظاہر کی گئی۔
  • اجتماعی ملک بدری سے گریز کرنے پر زور دیا گیا۔
  • نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
  • انسانی حقوق کے محافظوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضرورت اجاگر کی گئی۔
  • نجی شعبے میں نسلی امتیاز کے خلاف قانونی تحفظ کو مزید واضح کرنے کی سفارش کی گئی۔
  • بھارت نے اپنے آئینی اور قانونی نظام اور کثیرالثقافتی ڈھانچے کو اجاگر کیا۔
  • بھارت نے 2007 کے بعد پہلی مرتبہ CERD کے سامنے اپنا جائزہ پیش کیا۔
  • کمیٹی کا تازہ جائزہ 10 سے 25 اگست 2026 تک ہونے والے 118 ویں اجلاس کا حصہ تھا۔

نتیجہ

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نسلی امتیاز کے خاتمے کی جانب سے بھارت کے بارے میں جاری تازہ سفارشات نے ملک میں اقلیتوں، دلتوں، قبائلی عوام، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق بحث کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کردیا ہے۔

CERD نے بنیادی طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ آئینی اور قانونی ضمانتوں کے ساتھ عملی تحفظ، مؤثر تحقیقات اور جواب دہی بھی یقینی بنائی جائے۔ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف سنگین الزامات، نفرت انگیز جرائم، نسلی پروفائلنگ اور کمزور طبقات کے حقوق کے معاملات میں ریاستی ردعمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارت نے اپنے کثیرالثقافتی معاشرے، آئینی ڈھانچے اور تمام شہریوں کے لیے مساوات و وقار کے عزم کو اجاگر کیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی کی سفارشات کے بعد بھارت عملی سطح پر کون سے اقدامات کرتا ہے اور آئندہ جائزوں میں ان اقدامات کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔

CERD کے بھارت سے متعلق سرکاری اختتامی مشاہدات اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں دستیاب ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button