بین الاقوامیتازہ ترین

نیپال اور چین میں ہولناک سیلابی تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 800 ہو گئی، تین ہزار سے زائد افراد لاپتا

3,044 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے نیپال اور چین کی فوج، ریسکیو اداروں، انجینیئرنگ ٹیموں اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارتl رپورٹ

نیپال اور چین کے ہمالیائی سرحدی علاقوں میں آنے والی ہولناک سیلابی تباہی نے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، جہاں تازہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 800 ہو گئی ہے جبکہ 3,044 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔

امدادی اور ریسکیو ٹیمیں اتوار کے روز بھی انتہائی دشوار حالات میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔ شدید کیچڑ، مسلسل بڑھتے دریائی پانی، تباہ شدہ سڑکوں اور نئی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی نئی جھیل کسی بھی وقت مزید تباہی کا سبب بن سکتی ہے، جس کے باعث چینی امدادی ٹیموں کو بھی بعض خطرناک علاقوں سے حفاظتی مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا خوفناک ریلا

یہ ہولناک قدرتی آفت بدھ کے روز ہمالیائی خطے میں شروع ہوئی، جب پانی، برف، چٹانوں اور ملبے پر مشتمل ایک انتہائی طاقتور ریلا اچانک نشیبی علاقوں کی طرف بڑھا اور اس کی زد میں آنے والے درجنوں دیہات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔

سیلابی ریلے نے راستے میں آنے والی سڑکوں، پلوں، رہائشی عمارتوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جبکہ کئی علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیپال اور چین میں مجموعی طور پر 800 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے اور پانی میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب 3,044 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے نیپال اور چین کی فوج، ریسکیو اداروں، انجینیئرنگ ٹیموں اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔

لاشیں سرحد پار بھارت تک پہنچنے کا خدشہ

امدادی حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد افراد اور گاڑیاں کئی کلومیٹر دور تک بہہ گئیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے بعض افراد کی لاشیں دریاؤں کے بہاؤ کے ساتھ سرحد پار بھارت کے علاقوں تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔

دریائی نظام میں پانی کی غیر معمولی رفتار اور مسلسل بارشوں نے امدادی کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کو یہ تعین کرنے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ سیلابی ریلہ کن راستوں سے گزرا اور کتنے دیہات اس کی زد میں آئے۔

گلیشیئر کے اچانک منہدم ہونے سے تباہی کا آغاز

ماہرین نے ابتدائی تحقیقات میں اس تباہی کو گلیشیئر کے اچانک منہدم ہونے سے جوڑا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق قدرتی آفت کا آغاز ایک گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے سے ہوا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں برف، پانی، چٹانیں اور ملبہ تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیپال میں لیرونگ چوٹی کی جنوبی ڈھلوان پر موجود ایک گلیشیئر اچانک ٹوٹ گیا۔

گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے گرا، جس کے نتیجے میں پانی اور ملبے کا طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ یہ ریلا 20 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرتے ہوئے تبت میں گیرونگ پورٹ کے علاقے تک پہنچا اور راستے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیائی خطے میں موجود گلیشیئرز اور ان کے اطراف کی جغرافیائی ساخت موسمیاتی تبدیلیوں، درجہ حرارت میں اضافے اور شدید بارشوں کے باعث زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں بھی ایسے واقعات کے خطرات موجود رہتے ہیں۔

نئی جھیل نے امدادی کارروائیوں کو مزید خطرناک بنا دیا

اتوار کے روز تبت کی سرحد کے قریب ایک اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جب مٹی، چٹانوں اور ملبے نے پانی کے قدرتی بہاؤ کو روک دیا اور ایک نئی جھیل بن گئی۔

حکام کو خدشہ ہے کہ اگر اس نئی جھیل کے گرد موجود قدرتی بند ٹوٹ گیا تو اچانک پانی کا ایک بڑا ریلا نشیبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقے میں کام کرنے والی بعض چینی امدادی ٹیموں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

چینی اور مقامی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ انجینیئرنگ ماہرین نئی جھیل، لینڈ سلائیڈنگ کے مقام اور دریائی بہاؤ کا جائزہ لے رہے ہیں۔

نیپال میں ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن

نیپال میں سب سے اہم اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن تریشولی تھری اے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی سرنگ میں جاری ہے، جہاں بڑی تعداد میں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق نیپالی فوج اور انجینیئرز نے انتہائی مشکل حالات میں سرنگ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی اور ایک پائپ اندر داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اس پائپ کے ذریعے سرنگ کے اندر پھنسے ممکنہ افراد تک ہوا پہنچائی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگر سرنگ کے اندر کارکن موجود ہیں تو انہیں زندہ رکھنے کے لیے ہوا کی مسلسل فراہمی ضروری ہو سکتی ہے۔

ریسکیو ٹیمیں اب سرنگ تک مزید رسائی حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے کارکنوں کو نکالنے کے لیے مختلف انجینیئرنگ طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔

رات بھر بارش، دریاؤں میں طغیانی سے ریسکیو آپریشن متاثر

ادھر رات بھر ہونے والی شدید بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے امدادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹس کے مطابق تریشولی تھری اے منصوبے کے قریب کھدائی اور ریسکیو کا علاقہ پانی سے بھر گیا تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔

تاہم موسم میں نسبتاً بہتری اور پانی کی سطح میں کمی کے بعد ریسکیو ٹیموں نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔

امدادی کارکنوں کو مٹی کے تودوں، مسلسل کیچڑ، تباہ شدہ راستوں اور پانی کے تیز بہاؤ سمیت متعدد خطرات کا سامنا ہے۔

بعض علاقوں تک بھاری مشینری پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کیونکہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

933 ہائیڈرو پاور کارکن لاپتا

نیپال کے متاثرہ ہمالیائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہائیڈرو پاور منصوبے قائم ہیں، جہاں ہزاروں مقامی اور غیر ملکی کارکن کام کرتے ہیں۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتا ہونے والے افراد میں 933 ہائیڈرو پاور ورکرز بھی شامل ہیں۔

ان کارکنوں کی گمشدگی نے امدادی حکام کے لیے ایک نیا اور بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے کیونکہ متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں قائم ہیں۔

بعض منصوبوں تک جانے والی سڑکیں اور پل سیلابی ریلوں کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر مواصلاتی رابطہ بھی منقطع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم اجازت دے گا، مزید ٹیموں اور بھاری مشینری کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

589 غیر ملکی شہری بھی لاپتا

یہ سانحہ صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہا بلکہ متعدد غیر ملکی شہری بھی قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق 589 غیر ملکی شہری تاحال لاپتا ہیں۔

ان لاپتا افراد میں غیر ملکی سیاح، کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے لیے آنے والے افراد کے علاوہ مذہبی سفر پر موجود ہندو زائرین بھی شامل ہیں۔

متاثرہ افراد میں ایسے زائرین کی بھی بڑی تعداد موجود ہونے کا خدشہ ہے جو تبت میں واقع مقدس کوہ کیلاش کے مذہبی سفر پر گئے ہوئے تھے۔

کوہ کیلاش کی یاترا کے لیے ہر سال مختلف ممالک سے ہزاروں ہندو زائرین نیپال اور چین کے راستے تبت کا سفر کرتے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ شدید موسمی صورتحال، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے متعدد راستوں کو بند کر دیا، جس کے باعث کئی افراد متاثرہ علاقوں میں پھنس گئے۔

مختلف ممالک کے سفارتی حکام بھی اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے نیپالی اور چینی حکام سے رابطے میں ہیں۔

ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

ریسکیو حکام نے خبردار کیا ہے کہ لاپتا افراد کی بڑی تعداد اور کئی علاقوں تک محدود رسائی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

متعدد علاقوں میں امدادی ٹیمیں ابھی تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکیں جبکہ بعض دیہات ایسے مقامات پر واقع ہیں جہاں صرف فضائی راستے یا پیدل دشوار گزار پہاڑی راستوں سے پہنچا جا سکتا ہے۔

حکام نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو دریاؤں، لینڈ سلائیڈنگ کے مقامات اور غیر مستحکم پہاڑی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارش، برف پگھلنے کے عمل اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید غیر یقینی رہ سکتی ہے۔

ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کا بڑھتا خطرہ

یہ تازہ سانحہ ایک مرتبہ پھر ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز، شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

نیپال، چین اور بھارت کے پہاڑی اور سرحدی علاقوں میں لاکھوں افراد ایسے دریائی نظاموں کے قریب آباد ہیں جن کا انحصار ہمالیائی گلیشیئرز اور برفانی ذخائر پر ہے۔

گلیشیئرز کے اچانک ٹوٹنے، برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید بارشوں کے واقعات ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسانی اور معاشی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس وقت نیپال اور چین کی امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف ایک مشکل جنگ لڑ رہی ہیں، جہاں ہر گزرتا گھنٹہ لاپتا افراد کی زندگی بچانے کے امکانات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

800 افراد کی تصدیق شدہ ہلاکت اور تین ہزار سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کے بعد یہ ہمالیائی خطے کی حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button