مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کا این پی ٹی سے نکلنے کا عندیہ، امریکہ اور یورپ پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی نئی حکمت عملی؟

تہران کے جوہری عزائم پر عالمی تشویش، معاہدے سے علیحدگی کے کیا خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں؟

ڈی پی اے کے ساتھ

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران بعض ایرانی قانون سازوں نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث شروع کر دی ہے کہ ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکل جانا چاہیے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ قاسم روانبخش نے کہا ہے کہ معاہدے سے نکلنے کی ایک تجویز جمع کرائی گئی ہے اور اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے جواب میں این پی ٹی سے علیحدگی ”بہترین ردعمل‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ایرانی حکام اور قانون ساز ماضی میں بھی مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی کے ادوار میں بارہا این پی ٹی سے نکلنے کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا تہران واقعی اس معاہدے سے الگ ہونے کی تیاری کر رہا ہے یا پھر صرف اس امکان کو بطور سفارتی دباؤ استعمال کرنا چاہتا ہے۔

این پی ٹی سے نکلنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

ایران نے سن 1970 میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی توثیق کی تھی، جو دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے، پرامن جوہری تعاون کو فروغ دینے اور جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے بنیادی بین الاقوامی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے 191 رکن ممالک ہیں۔ این پی ٹی کے تحت کوئی بھی ملک، اگر یہ سمجھتا ہو کہ غیرمعمولی حالات اس کے اہم قومی مفادات کے لیے خطرہ بن گئے ہیں، تو معاہدے سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم اسے دیگر رکن ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تین ماہ پہلے مطلع کرنا اور اپنی وجوہات بیان کرنا ہوتی ہیں۔

جوہری امور کے ماہر اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق مشیر بہروز بیات کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے نکلتا ہے تو عالمی برادری اسے اس بات کا اشارہ سمجھے گی کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتا ہے یا اس سمت میں پیش رفت پر غور کر رہا ہے۔

اصفہان، ایران، 2 مئی 2025: سیٹلائٹ سے لی گئی اس تصویر میں ایران کے اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (تصویر: پلانیٹ لیبز پی بی سی، بذریعہ اے پی)
ایران کے خلاف یہ الزام بارہا دہرایا گیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض حصے دنیا سے پوشیدہ رکھے، فائل فوٹوتصویر: Planet Labs PBC/AP/picture alliance

بہروز کے بقول اس تاثر کے نتیجے میں ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مزید فوجی کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے ان کا خیال ہے کہ این پی ٹی سے نکلنے کی دھمکی، ایران کے لیے ایک عملی پالیسی کے بجائے سفارتی دباؤ بڑھانے اور مذاکرات میں اپنا مؤقف مضبوط بنانے کا زیادہ مؤثر ذریعہ ہے۔

تہران کے لیے این پی ٹی سے علیحدگی فائدہ مند ہو سکتی؟

روم کی LUISS یونیورسٹی  سے وابستہ بین الاقوامی سلامتی کے تجزیہ کار شاہین مدرس کے مطابق این پی ٹی سے علیحدگی کی حالیہ بحث کو یورینیم کی افزودگی اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق تعطل کا شکار مذاکرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

آئی اے ای اے کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام ایسی یورینیم موجود ہے، جو ساٹھ فیصد تک افزودہ کی جا چکی ہے۔ یہ سطح 90 فیصد کے اُس درجے سے زیادہ دور نہیں جسے جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار معیار سمجھا جاتا ہے۔

جون سن 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آئی اے ای اے کے معائنہ کار اس مواد کے ایک بڑے حصے کے مقام کی تصدیق نہیں کر سکے تھے۔

دوسری جانب ایران پہلے ہی بین الاقوامی نگرانی کو نمایاں حد تک محدود کر چکا ہے۔ جولائی سن 2025 میں صدر مسعود پزشکیان نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی ایران میں رسائی اس وقت تک معطل کر دی گئی، جب تک جوہری تنصیبات کی ”سلامتی‘‘ کی ضمانت نہیں دی جاتی۔

شاہین مدرس کے مطابق یہ صورت حال تہران کے لیے این پی ٹی سے باضابطہ علیحدگی کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے، ”معاہدے سے دستبرداری اس ابہام کو ختم کر دے گی، جبکہ اس کے بدلے ایران کو کوئی واضح فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ اس طرح موجودہ تنازعہ، جو معاہدے کی پاسداری سے متعلق ہے، براہ راست ایران کے ارادوں کے کھلے اعلان میں تبدیل ہو جائے گا۔‘‘

شاہین نے مزید کہا، ”این پی ٹی میں باضابطہ طور پر شامل رہتے ہوئے اور معائنے محدود کر کے ایران اپنی صلاحیتوں اور ارادوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھ سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام سے کھلم کھلا علیحدگی اختیار کرے۔ معاہدے سے نکلنے کی صورت میں یہ ابہام بڑی حد تک ختم ہو جائے گا۔‘‘

معاہدے سے علیحدگی کا اعلان خود سلامتی کے خدشات بڑھا سکتا ہے

این پی ٹی سے دستبرداری ایران کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے بھی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ معاہدے کے آرٹیکل 10 کے تحت کسی بھی ملک کو اس سے علیحدگی کے لیے تین ماہ قبل نوٹس دینا ہوتا ہے۔ اس مدت کے دوران اسرائیل، امریکہ اور دیگر ممالک کو ایران کے عزائم کا دوبارہ جائزہ لینے کا موقع مل جائے گا۔

بعض ماہرین کے مطابق ایران کے پاس موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے اگر تہران این پی ٹی سے نکلنے کا اعلان کرتا ہے تو اسے اس بات کے اشارے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے مزید قریب جا رہا ہے۔

ایرانی امور کے ماہر بہروز بیات کے مطابق یہی وجہ ہے کہ معاہدے سے واقعی نکلنے کے بجائے اس کی دھمکی دینا ایران کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول این پی ٹی سے علیحدگی ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بھی مشکل بنا سکتی ہے۔

بیات نے کہا، ”این پی ٹی غیر جوہری ممالک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک وسیع قانونی اور سیاسی فریم ورک مہیا کرتی ہے۔ روس اب بھی ایران کے سول جوہری شعبے، بالخصوص بوشہر جوہری بجلی گھر، میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران باضابطہ طور پر این پی ٹی سے دستبردار ہو جاتا ہے تو مستقبل میں جوہری شعبے میں بین الاقوامی تعاون قانونی اور سیاسی لحاظ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

ایران میں بھی اتفاق رائے نہیں

ایران میں این پی ٹی سے علیحدگی کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ تہران سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار رحمان قہرمان پور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ معاہدے سے نکلنے کی تجویز ماضی میں بھی کئی بار سامنے آ چکی ہے، لیکن یہ کبھی حکومتی پالیسی نہیں بنی۔

ان کے بقول، ”این پی ٹی سے علیحدگی کا معاملہ کوئی نیا نہیں، یہ ماضی میں بھی متعدد بار اٹھایا جا چکا ہے۔ تاہم اس وقت قانونی اور سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں اور ایران کے اندر بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔‘‘

قہرمان پور کے مطابق اگر ایران این پی ٹی کے آرٹیکل 10 کے تحت معاہدے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو عالمی برادری اس اقدام کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ وہ شمالی کوریا کی مثال دیتے ہیں، جس نے سن 2003 میں این پی ٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

این پی ٹی سے دستبرداری کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ضروری نہیں۔ اس کے لیے صرف سلامتی کونسل اور دیگر رکن ممالک کو باضابطہ اطلاع دینا ہوتی ہے۔

قہرمان پور کے نزدیک اس معاملے میں قانونی پہلو سے زیادہ سیاسی پیغام اہم ہے۔ ان کا خیال ہے کہ این پی ٹی سے علیحدگی کی بات دراصل واشنگٹن اور بالخصوص یورپی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ رعایتیں دینے پر آمادہ ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button