
قومی کھیل ہاکی کے زوال کا ذمہ دار کون. ؟ پیر مشتاق رضوی
یہ نتیجہ محض ایک میچ کی جیت نہیں ہے بلکہ گزشتہ 20 سالوں میں ورلڈ کپ کی سطح پر پاکستان ہاکی کی بہترین کارکردگی ہے
راقم خود بھی ہاکی کا کھلاڑی رہا ہے اور مجھے 1984ء میں 34ویں قومی ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے، اس لیے ہاکی کا زوال مجھے ذاتی طور پر بھی تکلیف دیتا ہے۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور ایک وقت تھا جب دنیا کے ہر میدان میں پاکستان کا راج تھا۔ اولمپکس کے 3 طلائی تمغے، ورلڈ کپ کے 4 عالمی اعزازات اور چیمپئنز ٹرافی کی فتوحات سمیت تمام بڑے اعزازات پاکستان کے پاس تھے اور حریف ٹیمیں گرین شرٹس کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتی تھیں۔ لیکن آج وہی قومی کھیل زوال کا شکار ہے۔ پاکستان ہاکی کا سنہری دور قصۀ پارینہ بن چکا ہے نہ اولمپکس میں کوالیفائی ہو پا رہا ہے، نہ ورلڈ کپ میں کوئی قابلِ ذکر کارکردگی اور نہ ہی گھریلو سطح پر کوئی مضبوط ڈھانچہ موجود ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم نے حالیہ ہاکی ورلڈ کپ کے کلاسیفکیشن میچ میں جنوبی افریقہ کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 3 کے مقابلے میں 4 گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں شریک 16 ٹیموں میں سے 11ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یہ نتیجہ محض ایک میچ کی جیت نہیں ہے بلکہ گزشتہ 20 سالوں میں ورلڈ کپ کی سطح پر پاکستان ہاکی کی بہترین کارکردگی ہے۔ گرین شرٹس نے موجودہ ورلڈ کپ میں دو فتوحات حاصل کیں جو 2006ء کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی بار ہوا ہےکہ پاکستان نے کسی ورلڈ کپ میں دو میچ جیتے ہوں۔ آخری بار 2006ء میں پاکستان نے ورلڈ کپ میں دو میچ جیتے تھے اور اس کے بعد آنے والے چار ورلڈ کپ ایڈیشنز میں قومی ٹیم دو مرتبہ 12ویں پوزیشن پر رہی جبکہ دو مرتبہ تو کوالیفائی ہی نہ کر سکی۔گرچہ 11ویں پوزیشن پاکستان ہاکی کے شاندار ماضی کے مقابلے میں وہ مقام نہیں جس کی قوم توقع رکھتی ہے، لیکن موجودہ حالات اور گزشتہ دو دہائیوں کی کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو اسے بہتری کی جانب ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک وقت تھا جب دنیا پاکستان ہاکی کے نام سے کانپتی تھی۔ گرین شرٹس نے اولمپکس میں کل 8 تمغے جیتے جن میں 3 طلائی، 3 چاندی اور 2 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ 1956ءسے 1972ءتک پاکستان نے مسلسل 5 اولمپک فائنلز کھیلے اور دنیا کو بتایا کہ فیلڈ ہاکی اصل میں کیسے کھیلی جاتی ہے۔ 1960ءکے روم اولمپکس میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو 1-0 سے شکست دے کر پہلی مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل جیتا۔ اس جیت نے قوم کے دل میں ہاکی کے لیے ایک الگ ہی جگہ بنا دی۔ 1968ھ کے میکسیکو سٹی اولمپکس میں پاکستان نے دوسری بار طلائی تمغہ حاصل کر کے ثابت کیا کہ 1960ء کی جیت اتفاق نہیں تھی۔ پھر 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان نے تیسرا اور آج تک کا آخری اولمپک گولڈ جیتا۔ یہ وہ دور تھا جب شہناز شیخ، حنیف خان، حسن سردار، سمیع اللہ ،کلیم اللہ ،اختر رسول اور منصور احمد جیسے کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کر رہے تھے۔ اولمپکس کے علاوہ پاکستان نے 4 بار1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ءہاکی ورلڈ کپ بھی جیتا یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے جو آج تک کوئی ٹیم نہیں توڑ سکی۔ چیمپئنز ٹرافی میں بھی پاکستان نے 3 بار کامیابی حاصل کی۔ 1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستان نے آخری مرتبہ اولمپک میڈل جیتا جو کانسی کا تمغہ تھا اس کے بعد جیسے پاکستان ہاکی کی قسمت نے پلٹا کھایا۔2012ء کے لندن اولمپکس میں پاکستان آخری مرتبہ اولمپکس میں شریک ہوا اور ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد 2016ء ریو، 2020ء ٹوکیو اور 2024ء پیرس اولمپکس میں پاکستان کوالیفائی ہی نہ کر سکا۔ ورلڈ کپ کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں رہی۔2014ھ اور 2018ء میں 12ویں پوزیشن کے بعد 2023ء کا ورلڈ کپ پاکستان کے بغیر کھیلا گیا۔ دنیا پر راج کرنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم آج اولمپکس اور ورلڈ کپ کے دروازے پر دستک دینے کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ صرف ایک کھیل کا زوال نہیں ہے، یہ پاکستان کے کھیلوں کے ورثے کا زوال ہے۔ وہ ورثہ جس نے پوری دنیا کو ہاکی کھیلنے کا سلیقہ سکھایا تھا۔ اس زوال کی وجوہات کئی ہیں۔اس زوال کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں ڈالی جا سکتی اس میں سپورٹس پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا، فیڈریشن کی اندرونی سیاست، مالی بحران، جدید تربیت اور سائنسی کوچنگ سے دوری، اسکول و کلب کی سطح پر ہاکی کا ختم ہو جانا اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایکسپوژر نہ ملنا سب شامل ہیں۔ جب تک ہم ذمہ داری کا تعین کر کے ایک طویل المدتی منصوبے کے تحت ہاکی کو دوبارہ اسکولوں، گراس روٹ اور قومی سطح پر بحال نہیں کریں گے، یہ قومی کھیل یونہی ماضی کی یاد بن کر رہ جائے گا۔مالی بحران، اندرونی سیاست، کوچنگ میں تسلسل کا نہ ہونا، ڈومیسٹک سطح پر مضبوط لیگ کا نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر جدید ہاکی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہو پانا۔ جب دنیا نے مصنوعی ٹرف، ویڈیو ریفرل اور سائنسی تربیت کو اپنایا تو ہم ابھی بھی پرانے طریقوں پر چلتے رہے۔ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایکسپوژر نہ ملنا اور پاکستان ہاکی فیڈریشن میں استحکام کا فقدان بھی بڑی وجوہات ہیں۔موجودہ ورلڈ کپ میں 11ویں پوزیشن اگرچہ مثالی نہیں لیکن علامتی طور پر بہت اہم ہے۔ دو میچ جیتنا، جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو ہرانا اور شوٹ آؤٹ میں اعصاب کا امتحان پاس کرنا یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر کھلاڑیوں کو موقع اور اعتماد دیا جائے تو وہ ابھی بھی لڑ سکتے ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں نے جرات دکھائی ہے اور ٹیم میں ایک نئی توانائی نظر آئی ہے۔ ہاکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارکردگی پاکستان ہاکی کی بحالی کا پہلا قدم ہو سکتی ہے بشرطیکہ اسے مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ بار کوچ اور ٹیم میں تبدیلیاں کرنے کے بجائے موجودہ اسکواڈ کو وقت دینا ہوگا۔ ان کی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دینا ہوگا اورانہیں بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں مسلسل کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔پاکستان ہاکی کی بحالی کوئی شارٹ کٹ سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ سب سے پہلے گراس روٹ لیول پر ہاکی کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ہاکی کے ٹورنامنٹ کروانے ہوں گے۔ پاکستان ہاکی لیگ کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم ملے اور اسپانسرز کی دلچسپی بھی پیدا ہو۔کوچنگ اور تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ غیر ملکی کوچز کے ساتھ مقامی کوچز کو بھی جدید تربیت دینی ہوگی۔ فٹنس، نیوٹریشن اور اسپورٹس سائنس پر خصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ آج کی ہاکی صرف اسکل کی نہیں بلکہ فٹنس کی بھی جنگ ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سیاسی مداخلت ختم کر کے ایک مستحکم اور پیشہ ورانہ نظام لانا ہوگا۔ کھلاڑیوں کو مراعات، انشورنس اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے مواقع دینے ہوں گے تاکہ والدین اپنے بچوں کو ہاکی کی طرف بھیجنے سے نہ گھبرائیں۔بین الاقوامی سطح پر مسلسل کھیلنا ہوگا۔ ایف آئی ایچ کے چھوٹے ٹورنامنٹس، فور نیشن سیریز اور بیرون ملک کیمپ لگانے ہوں گے تاکہ کھلاڑی دباؤ میں کھیلنا سیکھیں۔11ویں پوزیشن کوئی جشن منانے کا مقام نہیں ہے لیکن یہ مایوسی کے دور میں ایک امید کی کرن ضرور ہے۔ پاکستان نے دنیا کو بتایا تھا کہ ہاکی کیسے کھیلی جاتی ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ہاکی کو دوبارہ وہ مقام دلائیں جس کی وہ حقدار ہے۔ قوم ابھی بھی اپنے ہاکی کے قومی ہیروز کو یاد رکھتی ہے۔ ابھی بھی بچے گلیوں میں ہاکی اسٹک لے کر کھیلتے ہیں۔ ابھی بھی لوگ ٹی وی پر میچ دیکھنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ بس ضرورت ہے عزم کی، منصوبہ بندی کی اور تسلسل کی۔اگر آج ہم نے درست سمت میں قدم اٹھایا تو وہ دن دور نہیں جب گرین شرٹس دوبارہ اولمپکس کے فائنل میں کھیلیں گی، ورلڈ کپ کا فائنل کھیلیں گی اور دنیا ایک بار پھر پاکستان ہاکی کا سکہ مانے گی۔



