پاکستاناہم خبریں

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا برطانیہ کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم

برطانیہ کا فیصلہ ایک وسیع تر عالمی ردعمل کی بنیاد بنے گا اور دیگر ریاستیں بھی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی بستیوں سے منسلک تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

سعودی عرب، پاکستان اور دیگر چھ عرب و مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیا کی درآمد پر برطانیہ کی جانب سے عائد کی جانے والی تجارتی پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور وہاں جاری سرگرمیوں کے خلاف عملی اور مؤثر اقدامات کرے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے برطانیہ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ فیصلہ دیگر ممالک کو بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق اسی نوعیت کے اقدامات کرنے کی ترغیب دے گا۔

آٹھ ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کو روکنے کے لیے محض بیانات اور مذمت تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔

غیر قانونی بستیوں کے خلاف مزید اقدامات پر زور

مشترکہ موقف میں مسلم ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری ان تنظیموں اور افراد کو بھی جواب دہ ٹھہرائے جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ان ممالک کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

مسلم ممالک نے امید ظاہر کی کہ برطانیہ کا فیصلہ ایک وسیع تر عالمی ردعمل کی بنیاد بنے گا اور دیگر ریاستیں بھی بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی بستیوں سے منسلک تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گی۔

پاکستان کا واضح مؤقف

پاکستانی دفتر خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور دیگر غیر قانونی اقدامات فلسطینی عوام کے حقوق کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان نے برطانیہ کے حالیہ فیصلے کے علاوہ ان ممالک کے اعلانات کا بھی خیرمقدم کیا ہے جو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے جن ممالک کے اقدامات یا اعلانات کا خیرمقدم کیا گیا ہے ان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن شامل ہیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایسے اقدامات فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ایک واضح اور دوٹوک پیغام ثابت ہو سکتے ہیں۔

دو ریاستی حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی فلسطینی عوام کی جائز اور منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان ایک ایسی خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

اسلام آباد کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے فلسطینی عوام کے سیاسی اور بنیادی حقوق کا احترام ضروری ہے۔

برطانیہ کا اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر اقدام

برطانیہ نے منگل کے روز فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی بعض اشیا کے خلاف تجارتی پابندیوں کا اعلان کیا۔

یہ اقدام اسرائیل کے خلاف مغربی ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے حالیہ سفارتی اور اقتصادی اقدامات میں سے ایک ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا جواز دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد پر عالمی برادری مزید خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کہا کہ برطانیہ کو ناانصافی اور انسانی تکالیف کی صرف نشاندہی کرنے کے بجائے بستیوں کی توسیع کی مخالفت کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ مزید تکالیف اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم ہوتے ہوئے دیکھنے کا محض تماشائی نہیں بن سکتا۔

برطانیہ طویل عرصے سے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کرتا رہا ہے۔

اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے حالیہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی صورتحال اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنقید کا سامنا ہے۔

مختلف مغربی اور دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے حوالے سے موقف زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں اسرائیلی بستیوں سے منسلک مصنوعات پر تجارتی پابندیوں کا معاملہ صرف اقتصادی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے وسیع سفارتی اور سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

امریکا کا برطانوی فیصلے پر اعتراض

برطانیہ کے اس اقدام پر امریکا کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے ذریعے برطانوی پابندیوں پر اعتراض کیا گیا ہے۔

اسرائیل کے بعض وزرا نے بھی برطانیہ کے خلاف جوابی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے مغربی ممالک کے اندر بھی پالیسی اور ردعمل کے معاملے میں اختلافات موجود ہیں، خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی ریاست کے مستقبل کے حوالے سے۔

اسرائیل کا برطانیہ کے خلاف جوابی اقدام

برطانوی پابندیوں کے اعلان کے بعد اسرائیل نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے یروشلم میں موجود برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور اس کے ردعمل میں برطانیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے پس منظر میں سامنے آیا۔

اسرائیل نے غزہ میں امریکی ثالثی سے جاری جنگ بندی منصوبے کی نگرانی کرنے والے مرکز میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کے حوالے سے بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی تربیت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 12 برطانوی حکام کے ملک میں داخلے پر پابندی لگانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

غزہ جنگ کے تناظر میں بڑھتا ہوا عالمی دباؤ

یہ تمام سفارتی پیش رفت غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی علاقوں میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے وسیع تر تناظر میں سامنے آ رہی ہے۔

غزہ میں جنگ، انسانی امداد کی رسائی، شہریوں کے تحفظ اور مستقبل کے سیاسی انتظام کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع بھی فلسطین اسرائیل تنازع کے بنیادی مسائل میں شامل ہے۔

فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیر اور موجودہ بستیوں کی توسیع کو فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک دو ریاستی حل کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی بستیوں کی توسیع روکنے پر زور دیتے ہیں۔

مسلم ممالک کا مشترکہ پیغام

سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کا مشترکہ موقف اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ آٹھ ممالک نے ایک ساتھ عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان ممالک نے برطانیہ کے فیصلے کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر ریاستیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کریں گی۔

مشترکہ مؤقف میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کو جواب دہ بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو محض سیاسی بیانات تک محدود نہ رکھا جائے۔

پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا حل بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دو ریاستی فارمولے کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستان کے مطابق ایک آزاد، خودمختار، متصل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس ہو، خطے میں پائیدار امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی، اس کا مسلم ممالک کی جانب سے خیرمقدم اور اسرائیل کی جانب سے جوابی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فلسطین کے معاملے پر سفارتی محاذ ایک بار پھر تیزی سے متحرک ہو رہا ہے۔

اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک کے یہ اقدامات کس حد تک وسیع ہوتے ہیں، آیا مزید ممالک بھی اسرائیلی بستیوں سے منسلک تجارتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ان فیصلوں کا اسرائیل فلسطین تنازع کے سیاسی حل اور دو ریاستی فارمولے کے مستقبل پر کیا اثر پڑتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button