پاکستان پریس ریلیز

پاکستان آرمی کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 11 فتنہتہ الہندستان دہشت گرد ہلاک، 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائیاں 6 اور 7 ستمبر کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خاران اور واشک کے اضلاع میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ ایک کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائیاں 6 اور 7 ستمبر کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کیں۔ فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق ہلاک کیے جانے والے دہشت گرد ایک ایسے گروہ سے وابستہ تھے جسے پاکستان بھارتی سرپرستی میں سرگرم پراکسی قرار دیتا ہے۔

https://x.com/TruthDeskpk/status/2095916034511523916/video/1

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 6 ستمبر کو خاران کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے سڑک بلاک کرنے اور مقامی ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو روکا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

فائرنگ کے نتیجے میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے باعث دہشت گردوں کی جانب سے سڑک بند کرکے عوامی نقل و حرکت متاثر کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق دہشت گردوں کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معمول کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن

دوسری کارروائی 7 ستمبر کو ضلع واشک میں کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی، جس پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن شروع کیا گیا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

شدید جھڑپ کے نتیجے میں مزید 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جس کے بعد دونوں کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 11 ہوگئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ مواد مبینہ طور پر دیسی ساختہ بم اور دیگر تخریبی آلات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کو سیکیورٹی اداروں نے اہم کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ اس مواد کو دہشت گرد شہری علاقوں، شاہراہوں، سیکیورٹی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حملوں کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

کلیئرنس آپریشن جاری

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی مکمل ہونے کے بعد بھی علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش کر رہی ہیں تاکہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں، اسلحہ و بارود کے ذخائر اور تخریبی سرگرمیوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی مہم

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ عزمِ استحکام مہم کے فریم ورک میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مکمل رفتار کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک میں غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعظم نے خاران میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک بلاک کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہا۔

انہوں نے واشک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے پر بھی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت انٹیلی جنس ایکشن کی تعریف کی۔

وزیراعظم نے کارروائی کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیے جانے پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے پوری قوم کے تعاون اور حمایت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کے بیان کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے امن، سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال اور مسلسل کارروائیاں

بلوچستان ایک وسیع جغرافیائی خطہ ہونے کے باعث سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک پیچیدہ آپریشنل ماحول رکھتا ہے۔ مختلف علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سڑکوں، سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

ایسے حالات میں سیکیورٹی ادارے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیوں کو انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ خاران اور واشک میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جن میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت، ان کے ٹھکانوں اور دھماکہ خیز مواد کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے صرف مسلح افراد کے خلاف آپریشن کافی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع، اسلحہ و بارود کی فراہمی اور دیگر معاون نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔

2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اہم پیش رفت

واشک میں 2.9 ٹن دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی حالیہ کارروائی کا ایک اہم پہلو ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گرد گروہ دیسی ساختہ بم تیار کرنے کے لیے اس نوعیت کے مواد کو استعمال کر سکتے ہیں۔

دھماکہ خیز مواد کی بڑی مقدار کی برآمدگی سے نہ صرف ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے آپریشنل نیٹ ورک اور ان کی تخریبی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رہنے کا مقصد کسی بھی ممکنہ خفیہ ٹھکانے، سہولت کار یا ذخیرہ شدہ اسلحے اور بارود کی موجودگی کو ختم کرنا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عزمِ استحکام

حالیہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مربوط اقدامات پر زور دیا ہے۔ عزمِ استحکام کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔

خاران اور واشک میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

قوم کا سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سلام

بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی جنگ نہیں بلکہ یہ ملک کے امن، استحکام اور شہریوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ایک قومی جدوجہد ہے۔

خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کی جانے والی کارروائیوں میں 11 دہشت گردوں کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کو سیکیورٹی اداروں نے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مکمل رفتار سے جاری رہیں گی، جبکہ حکومت نے بھی ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button