بین الاقوامیاہم خبریں

ماؤ زے تنگ کی وفات کے 50 برس، سینکڑوں افراد کا خراج عقیدت

ایک ہزار افراد نے اسی مقام پر ایک تقریب میں شرکت کی۔ بعض شرکا ماؤ سے منسوب مخصوص طرز کے لباس پہنے ہوئے تھے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی کے ساتھ

کمیونسٹ چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی پچاسویں برسی پر سینکڑوں چینی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے آبائی شہر پہنچے ۔ ماؤ تاہم چینی انقلاب کے مرکزی کردار اور ایک متنازع شخصیت بھی ہیں۔

وسطی صوبے ہونان میں واقع شاؤشان میں ماؤ کے دس میٹر بلند کانسی کے مجسمے کے سامنے لوگوں نے پھولوں کے ہار رکھے اور چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی۔ آنے والوں میں بڑی تعداد یونیورسٹی طلبہ کی بھی تھی۔ بعض افراد نے ماؤ کے مجسمے کے سامنے چینی شراب اور سگریٹ بھی رکھے۔

ماؤ کی تصویروں والے بیج
ماؤ کی برسی کے موقع پر ان کی تصویروں والے بیچ بھی فروخت ہو رہے ہیںتصویر: Hector Retamal/AFP

ایک رات قبل تقریباً ایک ہزار افراد نے اسی مقام پر ایک تقریب میں شرکت کی۔ بعض شرکا ماؤ سے منسوب مخصوص طرز کے لباس پہنے ہوئے تھے جبکہ کئی افراد کے ہاتھوں میں ماؤ کی تصاویر اور ان کے اقوال پر مشتمل مشہور ”لٹل ریڈ بک‘‘ بھی تھی۔ شرکا نے انقلابی گیت گائے اور ”چیئرمین ماؤ زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔

ماؤ دسمبر 1893 میں شاؤشان میں پیدا ہوئے تھے۔ چینی سرکاری میڈیا اس مقام کو ”ریڈ ٹورازم‘‘کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دیتا رہا ہے، جہاں کمیونسٹ انقلاب اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ سے وابستہ مقامات دیکھنے کے لیے ملک بھر سے لوگ آتے ہیں۔

چین میں ماؤ آج بھی کمیونسٹ پارٹی کی اہم ترین تاریخی شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کی تصویر چینی کرنسی پر موجود ہے اور بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر پر بھی ان کا ایک بڑا پورٹریٹ نصب ہے۔ شاؤشان کی دکانوں پر ماؤ سے منسوب بیجز، مجسمے، ٹوپیاں اور ٹی شرٹس بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔

ماؤ کی سن 1969 کی ایک تصویر
ماؤ کا دور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی عکاس ہےتصویر: akg-images/picture alliance

تاہم ماؤ کا تاریخی ورثہ انتہائی متنازع بھی ہے۔ ان کے دور میں شروع کیے گئے گریٹ لیپ فارورڈ کے دوران قحط سے کروڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ 1966 سے 1976 تک جاری رہنے والے ثقافتی انقلاب میں بڑے پیمانے پر تشدد، سیاسی جبر اور سماجی و اقتصادی انتشار پیدا ہوا۔ گریٹ لیپ فارورڈ (Great Leap Forward) چین کی کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین ماؤ زے تنگ کی قیادت میں 1958ء سے 1962ء تک جاری رہنے والی ایک اقتصادی اور سماجی مہم تھی۔

چینی کمیونسٹ پارٹی ماضی میں اس دور کی بعض پالیسیوں کو غلطی قرار دے چکی ہے، لیکن سرکاری بیانیے میں ماؤ کو اب بھی ایک عظیم انقلابی رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

چین کے 70 برس پر ایک نظر

حالیہ برسوں میں، خصوصاً نوجوان چینی باشندوں کے ایک گروپ  میں ماؤ کے دور کے برابری پر مبنی نظریات کے لیے دلچسپی اور ماضی پرستی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض مبصرین اسے موجودہ معاشی سست روی، روزگار اور زندگی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے جوڑتے ہیں۔

شاؤشان آنے والے 28 سالہ ڈینگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ماؤ کی شخصیت سے متاثر ہیں اور 50ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ان کے مطابق ثقافتی انقلاب متنازع ضرور تھا لیکن وہ ماؤ کی کوششوں کو چین کے لیے ایک مثالی اور مساوی معاشرے کی تلاش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button