پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کا تجارتی عمل آسان بنانے، برآمدات بڑھانے اور کاروباری لاگت کم کرنے پر زور

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور ملک میں تجارت و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، کاروباری لاگت میں کمی اور پاکستانی برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں تجارت سے متعلق مختلف طریقہ کار، بندرگاہوں پر کارگو کلیئرنس، کسٹمز کے نظام، نان ٹیرف اقدامات، رسک مینجمنٹ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی سہولت کاری اور پاکستان کو علاقائی و عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور اہداف کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارت کا فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد اور برآمد کنندگان کو غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں، پیچیدہ طریقہ کار اور طویل کلیئرنس مراحل سے نجات دلانا ضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں تک کم وقت اور کم لاگت میں پہنچ سکیں۔

تجارت میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تجارتی عمل میں جہاں کہیں غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ موجود ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں کمی اور تجارت کے عمل کو تیز کیے بغیر پاکستان کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے روایتی اور پیچیدہ طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں ڈیجیٹل، خودکار اور باہمی مربوط نظام متعارف کرائے جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجارت میں سہولت کاری کا مقصد صرف درآمد و برآمد کے عمل کو تیز کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنا بھی ہے۔

ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ زیادہ حجم کی حامل بندرگاہوں پر تمام متعلقہ سرکاری ادارے کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنے کے لیے مربوط نظام تشکیل دیں، تاکہ تاجروں اور درآمد و برآمد سے وابستہ اداروں کو مختلف محکموں کے درمیان بار بار رابطے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

وزیراعظم کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور مشترکہ کارروائی تجارتی عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی اخراجات اور وقت دونوں میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مشترکہ انسپیکشن اور پروفائلنگ کا نظام

وزیراعظم نے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے الگ الگ معائنوں کے بجائے مشترکہ انسپیکشن اور مشترکہ پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی کارگو یا شپمنٹ کی مختلف اداروں کی جانب سے بار بار جانچ پڑتال سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مربوط نظام کو بہتر بنایا جائے۔

محمد شہباز شریف نے تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ تجارت کے راستے میں حائل غیر ضروری قواعد، شرائط اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کیا جا سکے۔

نان ٹیرف اقدامات کا جامع جائزہ

وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یہ ورکنگ گروپ غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر روڈ میپ پیش کرے۔

حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد ایسے ضوابط اور طریقہ کار کی نشاندہی کرنا ہے جو تجارت کے لیے ضروری نہ ہوں یا جن کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری تاخیر پیدا ہوتی ہو۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی سہولت کاری کے اقدامات کا عملی نتیجہ کاروباری برادری کو نظر آنا چاہیے اور اصلاحات کو محض پالیسی دستاویزات تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔

پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست شپنگ لائنز لانے پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ براہِ راست شپنگ سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں اور پیداواری مراکز سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل زیادہ آسان اور تیز ہو سکے گی۔

براہِ راست شپنگ روابط میں بہتری سے پاکستانی برآمد کنندگان کو ٹرانزٹ کے اضافی مراحل اور وقت میں کمی کا فائدہ مل سکتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی ہدایت

وزیراعظم نے قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی بھی ہدایت کی، جس کے ذریعے ملک میں تجارتی عمل کی کارکردگی کو باقاعدہ اور قابلِ پیمائش اشاریوں کی بنیاد پر جانچا جا سکے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس انڈیکس میں مختلف اہم اشاریوں کی پیمائش شامل ہوگی، جن میں:

  • کارگو ڈویل ٹائم
  • کسٹمز کلیئرنس
  • لاجسٹکس
  • شپ کلیئرنس ٹائم
  • پوسٹ کلیئرنس آڈٹ
  • پری کلیئرنس

اور تجارت سے متعلق دیگر اہم اشاریے شامل ہوں گے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی نظام کی کارکردگی کو اعداد و شمار کی بنیاد پر جانچا جائے تاکہ جہاں کمزوریاں موجود ہوں وہاں بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔

ایس ایم ایز کی تجارت میں شمولیت بڑھانے کا فیصلہ

اجلاس میں وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی تجارت میں شمولیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم تجارتی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے انہیں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے ایس ایم ایز کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کی میپنگ کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ چھوٹے کاروبار درآمد و برآمد کے عمل کے دوران کن مراحل میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

ان رکاوٹوں کی نشاندہی کے بعد متعلقہ اداروں کو انہیں کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔

رسک مینجمنٹ نظام مزید مؤثر بنانے کی ہدایت

وزیراعظم نے تجارت میں سہولت کے لیے رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر کارگو کی یکساں اور تفصیلی جانچ پڑتال کے بجائے خطرے کی بنیاد پر نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، تاکہ کم خطرے والے کارگو کو تیزی سے کلیئر کیا جا سکے اور متعلقہ ادارے اپنی صلاحیت زیادہ اہم اور زیادہ خطرے والے معاملات پر مرکوز کر سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کنٹرولز کو پری ارائیول سے پوسٹ ریلیز مرحلے تک وسعت دی جائے اور صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے۔

مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے کی ہدایت

محمد شہباز شریف نے تجارتی عمل کو تیز اور رسک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے استفادہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے ذریعے کارگو کے خطرات کا بہتر انداز میں تعین کیا جا سکتا ہے، جس سے کلیئرنس کے عمل میں غیر ضروری تاخیر کم کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور اس مقصد کے تحت دیا گیا ہے کہ تجارتی نظام کو زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے اور انسانی مداخلت کے غیر ضروری مراحل کو کم کیا جا سکے۔

پری ارائیول کلیئرنس اور گرین چینل کے اہداف

اجلاس میں شرکاء کو تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت کارگو کی بندرگاہ پر آمد سے قبل ضروری کارروائی مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سامان پہنچنے کے بعد کلیئرنس کے عمل میں کم سے کم وقت لگے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مجاز اقتصادی آپریٹرز (Authorized Economic Operators) کی تعداد رواں مالی سال کے اختتام تک 50 سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف کی منظوری

وزیراعظم نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف کی منظوری دے دی۔

اس نظام کا مقصد بندرگاہوں پر کارگو کے قیام اور کلیئرنس کے دوران لگنے والے وقت کو کم کرنا اور تجارتی عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط انداز میں کام کیا جائے اور پیش رفت کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے۔

کاروباری برادری کے لیے سہولت حکومت کی ترجیح

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جہاں کاروباری افراد کو غیر ضروری دفتری کارروائی، طویل انتظار اور متعدد اداروں سے الگ الگ رابطے جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ان کے مطابق تجارت میں آسانی پیدا ہونے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستان کو عالمی سپلائی چینز سے مزید مؤثر انداز میں منسلک کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اجلاس میں اعلیٰ حکام کی شرکت

ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ اور جنید انور چوہدری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس میں تجارتی سہولت کاری کے مختلف پہلوؤں، بندرگاہوں کے نظام، کسٹمز کلیئرنس، رسک مینجمنٹ، نان ٹیرف اقدامات، ایس ایم ایز کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

تجارتی نظام میں اصلاحات کا جامع ایجنڈا

ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے حکومت کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستان کے تجارتی نظام کو زیادہ تیز، مؤثر اور کاروبار دوست بنایا جائے۔

پری ارائیول کلیئرنس میں اضافہ، گرین چینل کا دائرہ بڑھانا، مجاز اقتصادی آپریٹرز کی تعداد میں اضافہ، مشترکہ انسپیکشن، نان ٹیرف اقدامات کا آڈٹ، براہِ راست شپنگ لائنز کے لیے اقدامات، مصنوعی ذہانت سے رسک مینجمنٹ اور قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس کی تیاری جیسے اقدامات کا مقصد مجموعی طور پر تجارتی عمل میں وقت اور لاگت کم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ تجارت میں سہولت کاری پاکستان کی معاشی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا تجارتی ماحول تشکیل دینا ہے جس میں پاکستانی کاروباری ادارے، بالخصوص ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان، ملکی اور عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق متعلقہ اداروں کو اب مقررہ اہداف کے حصول، غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور تجارتی عمل کو تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس حوالے سے نان ٹیرف اقدامات کا جائزہ لینے والے ورکنگ گروپ کی جانب سے ایک ماہ میں روڈ میپ پیش کیے جانے کو بھی اصلاحاتی عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت کے مطابق تجارتی سہولت کاری کے ان اقدامات کا حتمی مقصد کاروباری لاگت کم کرنا، کلیئرنس کا وقت گھٹانا، برآمدات کو فروغ دینا اور پاکستان کو علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں زیادہ مضبوط مقام دلانا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button