
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بدھ کو پارلیمان میں ہونے والی ایک گرما گرم بحث کے دوران انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) کی بڑے پیمانے پر ’’ری مائیگریشن‘‘ کی پالیسی کو ’’نسلی تطہیر‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقی جرمن ریاست سیکسنی انہالٹ کے حالیہ انتخابات میں اے ایف ڈی نے میرس کی مرکز سے دائیں بازو کی طرف جھکاؤ والی جماعت سی ڈی یو کو بھاری شکست دی ہے۔ انتخابات کے صرف تین روز بعد پارلیمان میں میرس اور اے ایف ڈی کی شریک سربراہ ایلس وائیڈل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
میرس نے اے ایف ڈی کے اس مطالبے کو ہدفِ تنقید بنایا جس میں مسترد شدہ پناہ گزینوں اور غیر قانونی راستوں سے جرمنی آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی وکالت کی جاتی ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ ’’ری مائیگریشن کا لفظ دراصل نسلی تطہیر کا ہی دوسرا نام ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ری مائیگریشن رنگ، نسل اور نسلی پس منظر کی بنیاد پر کی جانے والی نسلی تطہیر کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
میرس کے اس بیان پر جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں بنڈس ٹاگ میں موجود اے ایف ڈی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔
گذشتہ اتوار کو ہونے والے سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں اے ایف ڈی نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ سی ڈی یو صرف 17 فیصد ووٹ لے سکی۔ اگرچہ اے ایف ڈی مکمل اکثریت حاصل کرنے سے تین نشستیں پیچھے رہ گئی، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں اور آزاد ارکان سے بات چیت کر رہی ہے۔
اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے جرمنی میں ان حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے ناقدین کے نزدیک اے ایف ڈی کی بعض پالیسیاں اور بیانات جرمنی کے ’’نازی‘‘ ماضی کے حساس تجربات کی یاد تازہ کرتے ہیں، جبکہ پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو امیگریشن مخالف اور قوم پرستانہ مؤقف کی نمائندہ قرار دیتی ہے۔



