یورپتازہ ترین

یورپ کے 98.7 فیصد شہروں میں گرمی سے اموات میں ریکارڈ اضافہ

محققین کے مطابق یورپ کے شہر پولن (گردِ گل) کی بڑھتی ہوئی مقدار سے بھی متاثر ہو رہے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ڈی پی اے کے ساتھ

جمعرات کو جاری ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق 98.7 فیصد یورپی شہروں میں گرمی سے متعلق اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی 2026 یورپ سٹیز رپورٹ کے مطابق جنوبی یورپ کے  شہر گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنوبی یورپی  شہروں میں 2015 سے 2024 کے دوران فی 10 لاکھ آبادی پر گرمی سے متعلق اضافی 132 اموات ریکارڈ کی گئیں، جو 1991 سے 2000 کے عرصے کے مقابلے میں 161 فیصد زیادہ ہیں۔

اس کے برعکس مغربی یورپ کے شہروں میں اسی مدت کے دوران فی 10 لاکھ آبادی  اوسطاً 64 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جو براعظم بھر کے اوسط اضافے، یعنی 82 اموات، سے کم ہیں۔

محققین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی  سے نمٹنے میں شہروں کا کلیدی کردار ہے۔ ان کے مطابق مؤثر حکمت عملیاں نہ صرف ماحول دوست اور پائیدار معاشرے تشکیل دے سکتی ہیں بلکہ مقامی معیشت اور شہریوں کی صحت کو بھی بہتر بنا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور گرمیوں  میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت معمول بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات شہری آبادی پر بڑھتے جا رہے ہیں۔

جنوب مغربی فرانس  میں جنگل میں لگی آگ بجھانے والے عملے کے اراکین سرگرم نظر آ رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہےتصویر: AP/picture alliance

تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے زہریلے دھویں کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2003 سے 2023 کے درمیان یورپ بھر میں ایسے دنوں کی تعداد میں سات فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں زہریلے دھویں نے شہریوں کو شدید متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی اور مشرقی یورپ کے شہر اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہوئے۔

مطالعے کے مطابق عالمی حدت یورپی شہروں میں ان متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا رہی ہے جنہیں ماضی میں  صرف گرم یا استوائی خطوں کی بیماریاں سمجھا جاتا تھا۔ ان میں ڈینگی،  زیکا اور چکن گونیا شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان وائرسز کو منتقل کرنے والے مچھروں کی اقسام اب یورپ میں تیزی سے اور مستقل بنیادوں پر پھیل رہی ہیں، جس سے ان بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

2015 سے 2024 کے دوران یورپی شہروں میں ڈینگی بخار کے خطرے میں 1981 سے 2010 کے عرصے کے مقابلے میں اوسطاً 111 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مشرقی یورپ کے شہروں میں یہ اضافہ سب سے زیادہ 369 فیصد رہا۔ محققین نے زیکا اور چکن گونیا جیسی بیماریوں کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کے رجحانات دیکھے۔

محققین کے مطابق یورپ کے شہر پولن (گردِ گل) کی بڑھتی ہوئی مقدار سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ نتائج 800 سے زائد یورپی شہروں میں  موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے جائزے کے  بعد سامنے آئے ہیں۔

روم، اٹلی میں یکم جولائی 2025 کو پیازا ڈیل پوپولو میں 40 ڈگری تک پہنچنے والے درجہ حرارت  سے پریشان ایک خاتون ایک فوارے کے قریب کھڑی ہیں
عالمی حدت یورپی شہروں میں متعدی بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہے، فائل فوٹوتصویر: Antonio Masiello/Getty Images

یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف شدید گرمی تک محدود نہیں رہے بلکہ فضائی الرجی پیدا کرنے والے پولن (زرِ گل) کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق مشرقی یورپ کے شہروں میں برچ (Birch) کے درختوں سے جھڑنے والے پولن کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں 2015 سے 2024 کے دوران برچ پولن کی مقدار میں اوسطاً 137 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

اسی طرح جنوبی یورپ میں زیتون کے درختوں کے پولن کی مقدار میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جس کے باعث موسمی الرجی اور سانس کی بیماریوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

مطالعے میں کہا گیا ہے کہ 1991 سے 2000 کے عرصے کے مقابلے میں مغربی یورپ کے شہروں میں بھی برچ پولن کی موسمی مجموعی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مثال کے طور پر جرمن دارالحکومت برلن میں اس میں 66 فیصد اور بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں 82 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچنے کے لیے درختوں کا کردار نہایت اہم ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button