انٹرٹینمینٹتازہ ترین

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں قومی خطاطی نمائش ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ کا انعقاد

نمائش میں موجود فن پاروں نے شرکاء کو اسلامی خطاطی کی خوبصورتی، اس کی تاریخی اہمیت اور اس فن کے ذریعے مذہبی و اخلاقی پیغامات کی ترسیل کے منفرد انداز سے روشناس کرایا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز نے شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن، ڈویژن آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، لوئر مال کیمپس کے اشتراک سے ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے قومی خطاطی نمائش ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ کا انعقاد کیا۔ نمائش یونیورسٹی کے ٹاؤن شپ کیمپس میں منعقد ہوئی، جس میں ملک کے معروف اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے والے خطاطوں نے شرکت کی اور اسلامی خطاطی کے مختلف روایتی و جدید اسالیب میں اپنے فن پارے پیش کیے۔

نمائش کا بنیادی مقصد حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی خطاطی کے عظیم اور صدیوں پر محیط فنّی و تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر پیش کیے گئے فن پاروں میں قرآنِ کریم کی آیات، اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ ﷺ سے وابستہ مختلف روحانی و اخلاقی مضامین کو نہایت خوبصورت اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نجم نے نمائش کا افتتاح کیا

قومی خطاطی نمائش ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ کا افتتاح پرو وائس چانسلر انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر، پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نجم نے کیا۔

افتتاحی تقریب کے موقع پر انہوں نے نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں کا مشاہدہ کیا اور خطاطوں کی فنی کاوشوں کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نجم نے فن پاروں کے اعلیٰ فنی معیار، تخلیقی انداز اور ان میں موجود روحانی و فکری گہرائی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

انہوں نے اس امر کو بھی سراہا کہ اسلامی خطاطی جیسے قدیم اور باوقار فن کو عصری تقاضوں کے ساتھ نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی نمائشیں نہ صرف فنونِ لطیفہ کے فروغ میں معاون ثابت ہوتی ہیں بلکہ نوجوانوں کو اسلامی تہذیب، فن اور روحانی اقدار سے بھی جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔

معروف خطاطوں کے فن پاروں کی نمائش

نمائش میں پاکستان کے قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ خطاطوں نے شرکت کی۔ خطاطوں نے روایتی اور جدید دونوں اسالیب کو بروئے کار لاتے ہوئے قرآنِ کریم کی آیات اور اسلامی تعلیمات پر مبنی فن پارے پیش کیے۔

ان فن پاروں میں اسلامی خطاطی کی مختلف فنی جہتوں کو نمایاں کیا گیا۔ کہیں روایتی خطاطی کے کلاسیکی انداز کو برقرار رکھا گیا تو کہیں جدید فنّی تکنیک اور تخلیقی اسلوب کے ذریعے مقدس آیات اور اسلامی پیغامات کو پیش کیا گیا۔

نمائش میں موجود فن پاروں نے شرکاء کو اسلامی خطاطی کی خوبصورتی، اس کی تاریخی اہمیت اور اس فن کے ذریعے مذہبی و اخلاقی پیغامات کی ترسیل کے منفرد انداز سے روشناس کرایا۔

محبتِ رسول ﷺ اور اسلامی اقدار کا پیغام

’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس نمائش کا مرکزی تصور حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت و عقیدت اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو فن کے ذریعے اجاگر کرنا تھا۔

نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں کے ذریعے ایمان، رحمت، عدل، صبر، عاجزی، حسنِ اخلاق اور کردار سازی جیسے اہم موضوعات کو نمایاں کیا گیا۔ یہ وہ بنیادی اخلاقی اور انسانی اقدار ہیں جنہیں سیرتِ طیبہ ﷺ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

خطاطوں نے مقدس آیات اور اسلامی تعلیمات کو خوبصورت بصری انداز میں پیش کرکے یہ پیغام اجاگر کیا کہ اسلامی فنون صرف جمالیاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور فکری پیغامات کی ترسیل کا بھی مؤثر وسیلہ ہیں۔

اسلامی خطاطی کا عظیم تہذیبی ورثہ

اسلامی خطاطی صدیوں سے مسلم تہذیب اور فنونِ لطیفہ کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ قرآنِ کریم کی کتابت سے لے کر مساجد، مدارس، کتب، مخطوطات اور مختلف فنّی نمونوں تک خطاطی نے اسلامی ثقافت کے فروغ اور تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں بھی خطاطی کی ایک مضبوط اور قابلِ فخر روایت موجود ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستانی خطاطوں نے روایتی خطاطی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید فنون سے ہم آہنگ کرکے اس فن کو نئی جہتیں دی ہیں۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں منعقدہ نمائش اسی تسلسل کی ایک کڑی کے طور پر سامنے آئی، جہاں قدیم اسلامی فن کو جدید تخلیقی اظہار کے ساتھ پیش کیا گیا۔

نوجوان نسل کو اسلامی فنون سے جوڑنے کی کوشش

تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کو نوجوان نسل میں فن، ثقافت اور تہذیبی ورثے کے شعور کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی جانب سے ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ نمائش کا انعقاد بھی اسی مقصد کی جانب ایک قدم ہے۔

نمائش کے ذریعے طلبہ اور دیگر شرکاء کو نہ صرف معروف خطاطوں کے فن پارے دیکھنے کا موقع ملا بلکہ اسلامی خطاطی کے مختلف اسالیب، تخلیقی امکانات اور فکری پہلوؤں سے بھی آگاہی حاصل ہوئی۔

اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنون، ثقافت اور تخلیقی اظہار کے مختلف شعبوں سے جوڑنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

روایتی اور جدید فن کا امتزاج

نمائش کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اسلامی خطاطی کے روایتی اسلوب کے ساتھ جدید فنّی رجحانات کو بھی جگہ دی گئی۔ اس امتزاج نے فن پاروں کو ایک طرف اسلامی خطاطی کی کلاسیکی شناخت سے جوڑے رکھا جبکہ دوسری طرف انہیں عصری جمالیاتی تقاضوں کے مطابق بھی پیش کیا۔

قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات پر مبنی فن پاروں میں خط، ترتیب، ساخت اور فنّی اظہار کے مختلف انداز دیکھنے کو ملے۔ اس سے یہ پہلو بھی نمایاں ہوا کہ اسلامی خطاطی ایک زندہ فن ہے جو وقت کے ساتھ نئے اسالیب اور تکنیکوں کو قبول کرتے ہوئے اپنی بنیادی روح اور شناخت برقرار رکھ سکتا ہے۔

روحانی اور فکری گہرائی کو سراہا گیا

افتتاحی تقریب کے دوران پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نجم نے نمائش کے فن پاروں میں موجود روحانی اور فکری پہلوؤں کو خصوصی طور پر سراہا۔

انہوں نے فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کی جانب سے اسلامی تعلیمات کو فنّی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کو قابلِ قدر قرار دیا۔ ان کے مطابق اعلیٰ معیار کی خطاطی نہ صرف دیکھنے والے کو جمالیاتی طور پر متاثر کرتی ہے بلکہ مقدس آیات اور اخلاقی پیغامات کے باعث غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہے۔

Screenshot

’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ کی مناسبت سے پیش کیے گئے فن پاروں میں حضور اکرم ﷺ کی سیرت سے وابستہ محبت، رحمت، اخلاق، عدل اور انسانی کردار کی تعمیر جیسے موضوعات کی عکاسی اس نمائش کو محض ایک فنّی سرگرمی کے بجائے ایک فکری اور روحانی تجربہ بھی بناتی ہے۔

یونیورسٹی کے علمی و ثقافتی کردار کا اظہار

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں ہونے والی یہ نمائش اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی ادارے طلبہ کی علمی تربیت کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس سرگرمی نے فنونِ لطیفہ اور اسلامی تہذیبی ورثے کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پیش کیا۔

اس اقدام کے ذریعے طلبہ، اساتذہ اور فنون سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو معروف خطاطوں کے کام سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم ہوا، جبکہ اسلامی خطاطی کے فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

ربیع الاول کی مناسبت سے منفرد ثقافتی سرگرمی

ماہِ ربیع الاول مسلمانوں کے لیے خصوصی روحانی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی مناسبت سے ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ جیسی نمائش کا انعقاد مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ اسلامی فن و ثقافت کے فروغ کا بھی ذریعہ بنا۔

نمائش کے عنوان نے اس کے مرکزی پیغام کو واضح کیا کہ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کی تعلیمات سے وابستگی کو مختلف مثبت اور تخلیقی ذرائع سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی خطاطی اس حوالے سے ایک منفرد ذریعہ ہے کیونکہ اس میں لفظ، فن اور روحانی مفہوم ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی آیات اور اسلامی تعلیمات کو خوبصورت خطاطی کے ذریعے پیش کرنا صدیوں سے مسلم فنّی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔

فنی و روحانی ورثے کے تحفظ کی ضرورت

نمائش کے ذریعے اس بات کی اہمیت بھی سامنے آئی کہ اسلامی خطاطی جیسے فنون کے تحفظ اور فروغ کے لیے تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو مزید مواقع پیدا کرنے چاہییں۔

جدید ڈیجیٹل دور میں فنونِ لطیفہ کے روایتی شعبوں کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے نمائشوں، ورکشاپس، تربیتی پروگراموں اور تخلیقی سرگرمیوں کا انعقاد اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی یہ کاوش بھی اسی سلسلے میں ایک مثبت سرگرمی کے طور پر سامنے آئی، جس میں اسلامی خطاطی کو نہ صرف فن کے طور پر پیش کیا گیا بلکہ اس کے ذریعے اخلاقی، روحانی اور فکری اقدار کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اختتامیہ

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے ٹاؤن شپ کیمپس میں منعقد ہونے والی قومی خطاطی نمائش ’’در عشقِ محمد ﷺ‘‘ نے اسلامی خطاطی کے فنی حسن اور سیرتِ طیبہ ﷺ سے وابستہ روحانی و اخلاقی پیغامات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا۔

نمائش میں پاکستان کے معروف خطاطوں کے روایتی و جدید فن پاروں نے اسلامی فن کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا، جبکہ ایمان، رحمت، عدل، صبر، عاجزی، حسنِ اخلاق اور کردار سازی جیسے موضوعات نے نمائش کے فکری پہلو کو نمایاں کیا۔

پرو وائس چانسلر انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر پروفیسر ڈاکٹر نجمہ نجم کی جانب سے فن پاروں کے اعلیٰ فنی معیار اور روحانی و فکری گہرائی کو سراہا جانا بھی اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ اسلامی خطاطی نہ صرف ایک قدیم فنّی روایت بلکہ آج بھی فکری اور روحانی اظہار کا مؤثر ذریعہ ہے۔

ایسی نمائشیں اسلامی فنون کے عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے، نئی نسل کو اس سے متعارف کرانے اور فن و تعلیم کے درمیان مضبوط تعلق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button