
مدثر احمد-ادارت
نیویارک: پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے سمیت خطے کے تمام تصفیہ طلب معاملات کو طاقت، محاذ آرائی یا مزید کشیدگی کے بجائے پرامن ذرائع، سفارتی رابطوں اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تشدد میں اضافہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کے موضوع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مسلسل کشیدگی، دشمنی اور تنازعات کا سامنا کر رہا ہے اور حالیہ واقعات نے صورتحال کی نزاکت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث سفارتی حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے ارکان کی توجہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ دنوں کے دوران تشدد میں ہونے والے اضافے کی جانب مبذول کراتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں تشدد کی نئی لہر امن کے امکانات کو متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ خطے سے باہر بھی سلامتی اور استحکام کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے پُرامن حل اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔
ایران کے جوہری مسئلے پر سفارتی راستہ برقرار رکھنے پر زور
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تشدد میں دوبارہ اضافہ اور سفارت کاری کا تعطل ایران کے جوہری مسئلے پر جاری غور و خوض کو بھی متاثر کر رہا ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی سطح پر ہونے والی بحث بھی شامل ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ ایران کے جوہری معاملے سمیت تمام متنازع اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی راستہ برقرار رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ متعلقہ فریقین کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اختلافات اور تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق، سفارت کاری محض ایک متبادل راستہ نہیں بلکہ موجودہ پیچیدہ علاقائی صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی حمایت
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے قیام اور وسیع تر علاقائی استحکام کے حصول کے لیے شروع ہی سے تعمیری سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں مزید تصادم کو روکنا، فریقین کے درمیان رابطے کے امکانات کو برقرار رکھنا اور ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دینا ہے جس میں پیچیدہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرے یا سفارتی کوششوں کے لیے دستیاب گنجائش کو محدود کر دے۔
عدم پھیلاؤ اور علاقائی امن
سلامتی کونسل کی بریفنگ میں ایران کے جوہری مسئلے کا ذکر ایسے وقت میں ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر علاقائی سلامتی کے معاملات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے اس تناظر میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام اور علاقائی امن کے درمیان تعلق کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کے مطابق جوہری معاملات سمیت حساس سلامتی کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کرنے کے لیے تصادم کے بجائے ایسے سفارتی فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں متعلقہ فریقین اپنے تحفظات اور مؤقف پیش کر سکیں اور باہمی اتفاقِ رائے کی طرف پیش رفت ممکن ہو۔
پاکستان کا متوازن سفارتی مؤقف
پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں پیش کیے گئے مؤقف میں ایک جانب خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ دوسری جانب تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر واپس آنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف عارضی طور پر کشیدگی کم کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے بنیادی تنازعات اور سلامتی سے متعلق خدشات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنا ضروری ہے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ قرار
پاکستان کے مستقل مندوب کا بیان اس وسیع تر پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ایران کے جوہری مسئلے سمیت علاقائی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت، سفارتی رابطوں اور پرامن ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستان کے مطابق موجودہ بحرانوں کا حل طاقت کے استعمال یا مزید محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مذاکرات کے تسلسل، باہمی اعتماد سازی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری میں ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری ترجیح کشیدگی میں کمی، سفارتی رابطوں کی بحالی اور تمام متعلقہ معاملات کے پرامن حل کے لیے بامعنی مذاکرات ہونی چاہیے۔
یوں پاکستان نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر واضح کیا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے سمیت پیچیدہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو ہی بنیادی اور رہنما اصول کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے، تاکہ خطے کو مزید تصادم سے بچایا اور پائیدار امن و استحکام کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔



