
سوڈان میں امدادی نظام چند ہفتوں میں منہدم ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ
سوڈان میں اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے متاثرہ سوڈان میں انسانی امداد کی ترسیل کا ایک اہم نظام فوری اضافی فنڈنگ نہ ملنے کی صورت میں چند ہفتوں کے اندر مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی سربراہ ایمی پوپ نے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پورا انسانی امدادی نظام چند ہفتوں میں منہدم ہونے کا خطرہ ہے اور نئی فنڈنگ کے بغیر ضرورت مندعلاقوں تک امداد پہنچانا ممکن نہیں رہے گا۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے ملکی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق اس کے زیر انتظام ’کامن ہیومینیٹیرین پائپ لائن‘ نامی لاجسٹک نظام کے ذریعے 100 سے زیادہ ملکی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں سوڈان میں پناہ گاہوں، خوراک اور دیگر ضروری امدادی سامان پہنچاتی ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس نظام کے ذریعے 28 لاکھ 40 ہزار افراد تک امداد پہنچائی جا چکی ہے۔
تاہم فنڈز میں کمی کے باعث اس نظام کی رسائی مسلسل سکڑ رہی ہے، جبکہ انسانی ضروریات ریکارڈ سطح پر ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق 2024 میں اس نظام کے ذریعے 10 لاکھ سے زیادہ افراد تک امداد پہنچائی گئی تھی، لیکن 2026 میں اب تک صرف 3 لاکھ 30 ہزار افراد کو پناہ گاہوں اور ہنگامی امدادی کٹس سمیت دیگر مدد فراہم کی جا سکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق فوری مالی مدد نہ ملنے کی صورت میں پناہ گاہوں، صفائی ستھرائی اور گھریلو استعمال کی ہنگامی اشیا کے موجودہ ذخائر ستمبر کے آخر تک ختم ہو سکتے ہیں، جبکہ امداد ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کا نظام موجودہ وسائل کے ساتھ صرف دسمبر 2026 تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
آئی او ایم کا کہنا ہے کہ اس نظام کو کم از کم موجودہ سطح پر اگلے 12 ماہ تک برقرار رکھنے کے لیے 15 ملین ڈالر درکار ہیں، جبکہ اسے 2024 کی سطح پر بحال کرنے کے لیے 42 ملین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پناہ گاہوں کی امداد رکنے کے اثرات محض بے گھری تک محدود نہیں ہوں گے۔ خراب موسم، بیماریوں اور عدم تحفظ کا طویل سامنا صنفی بنیاد پر تشدد، خاندانوں کی جدائی اور گنجائش سے زیادہ بھرے کیمپوں سے بے دخلی کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ایمی پوپ کے مطابق پناہ گاہ تحفظ، صحت اور بحالی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ امدادی نظام رک جاتا ہے تو صرف گودام خالی نہیں ہوں گے بلکہ سوڈان میں مجموعی انسانی امدادی کارروائیاں بھی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائیں گی۔



