کالمزپیر مشتاق رضوی

پی ٹی آئی کے احتجاج کا خوف یا ناراض عوام کا ڈر ……..پیر مشتاق رضوی

پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور دوسری طرف ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دارالحکومت میں امن و امان اور سرکاری املاک کو محفوظ رکھے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پورا ملک ایک بار پھر کنٹینرستان بنا دیا گیا ہے۔ موٹروے بند ہے، جی ٹی روڈ بند ہے، اٹک پل پر رکاوٹیں کھڑی ہیں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ہزاروں کنٹینرز لگا کر ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت اسلام آباد میں 1,550 شپنگ کنٹینرز کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ 4 کروڑ 65 لاکھ روپے کا بھاری بل ادا کرے گی، حالانکہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنا منصوبہ بند لانگ مارچ اور احتجاج 27 ستمبر سے ملتوی کر کے 4 اکتوبر 2026 کر دیا ہے گردش کرنے والی ایک تخمینہ رپورٹ گردش میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی ہونے سے خزانے کو اربوں کا دھچکا لگا ہے، اسلام آباد میں سیکیورٹی اخراجات دگنے ہو گئے ہیں، کنٹینرز کا روزانہ کرایہ ساڑھے 4 کروڑ روپے ہے، کھانے پر یومیہ 12 لاکھ، افسران کے کرائے کا یومیہ 7 لاکھ 54 ہزار اور مجموعی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہیں، ساتھ فوج، رینجرز، بکتر بند گاڑیاں، سنائپرز موجود ہیں، پولیس کو جدید نیٹ گنز دی گئی ہیں اور اہلکاروں کو روزانہ ایک ہزار روپے خصوصی الاؤنس دیا جا رہا ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی چین سے اربوں روپے کے سیکیورٹی آلات کی خریداری میں مصروف ہیں۔ یہ اعداد و شمار سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق موجود نہیں ہے، لیکن یہ وہی بیانیہ ہے جو ہر لانگ مارچ اور دھرنے کے موقع پر سامنے آتا ہے، چاہے وہ کسی بھی جماعت کا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ کنٹینر لگانا اب ایک پرانی انتظامی روایت بن چکی ہے۔ 2014ء سے لے کر آج تک ہر حکومت نےچاہے وہ پی ٹی آئی کی ہو، ن لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، احتجاج روکنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا ہے۔ اس سے حکومت کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے، کاروبار بند ہو جاتا ہے، ایمبولینسز پھنس جاتی ہیں، مزدور اپنی دیہاڑی سے محروم ہو جاتا ہے اور خود کنٹینر مالکان کا کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور دوسری طرف ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دارالحکومت میں امن و امان اور سرکاری املاک کو محفوظ رکھے۔ جب بھی سڑکیں بند ہوتی ہیں تو نقصان صرف احتجاج کرنے والے یا حکومت کا نہیں ہوتا، بلکہ نقصان عام عوام، مریض، طالب علم اور دیہاڑی دار مزدور کا ہوتا ہے اور یہ اربوں روپے کا خرچہ بالآخر قومی خزانے یعنی عوام کے ہی ٹیکس کے پیسے سے نکلتا ہے۔ اس لیے بہتر راستہ کنٹینر لگانا نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور عدالتوں سے طے شدہ پرامن احتجاج کی جگہ مختص کرنا ہے تاکہ عوام کا آئینی حق بھی متاثر نہ ہو اور ملک بھی کنٹینرستان نہ بنے۔اگر پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی تاریخ دیکھی جائے تو اس نے اب تک چار بڑے لانگ مارچ کیے ہیں۔ پہلا اور سب سے طویل لانگ مارچ 14 اگست 2014ء سے 17 دسمبر 2014ء تک جاری رہنے والا آزادی مارچ تھا جس کی قیادت عمران خان اور طاہر القادری نے کی اور 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 126 دن تک ڈی چوک میں دھرنا دیا گیا۔ یہ حکومت گرانے میں ناکام رہا لیکن اسی دھرنے نے عمران خان کو ایک قومی لیڈر بنا دیا اور یہی مقبولیت 2018ء میں ان کے وزیراعظم بننے کی بنیاد بنی۔ دوسرا مارچ 25 مئی 2022ء کو ہوا جب اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان نے فوری الیکشن کا مطالبہ کیا، لیکن شدید شیلنگ، گرفتاریوں اور کنٹینرز کی وجہ سے وہ مارچ چھ دن کا الٹی میٹم دے کر ختم کرنا پڑا اور اسے پی ٹی آئی کے اندر ہی ناکام مارچ سمجھا گیا۔ تیسرا مارچ 28 اکتوبر 2022ء کو حقیقی آزادی مارچ کے نام سے لاہور سے شروع ہوا اور 3 نومبر کو وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد اس کی رفتار ٹوٹ گئی اور وہ راولپنڈی میں ختم ہو گیا۔ 2023ء سے 2025ء تک باقاعدہ لانگ مارچ نہیں ہوا بلکہ 9 مئی 2023ء، جیل بھرو تحریک اور 26 نومبر 2024ء کا ڈی چوک کا فائنل کال احتجاج ہوا جو تصادم اور گرفتاریوں پر ختم ہوئے۔ان تمام احتجاجی مارچوں کا اگر سیاسی جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کا کوئی بھی لانگ مارچ اپنے فوری ہدف یعنی موجودہ حکومت کو گرا کر فوری الیکشن کرانے میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن اس نے بالواسطہ طور پر تین بڑے سیاسی مقاصد حاصل کیے ہیں پی ٹی آئی نے اپنے ووٹر کو مسلسل متحرک رکھا اور اپنے بیانیے کو زندہ رکھا۔ دوسرا یہ کہ اس نے خود کو ملک کی سب سے بڑی اسٹریٹ پاور کے طور پر منوایاجس کا ثبوت 8 فروری 2024ءکے انتخابات میں آزاد امیدواروں کی صورت میں ملا۔حالیہ احتجاجی لانگ مارچ جس کے بارے میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہناتھاکہ گذشتہ چار سالوں میں پی ٹی آئی کو ایک بھی لانگ مارچ نہیں کرنے دیا گیا اور اس دوران ہائی کورٹ میں 25 اور سپریم کورٹ میں 19 درخواستیں دینا پڑیں، اس کا مقصد حکومت گرانے سے زیادہ عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی کا مطالبہ ہے۔مذکورہ احتجاج سے قومی معیشت کو اب تک مجموعی طور پر کتنا نقصان ہوا ہے۔ اس کا کوئی باقاعدہ سرکاری اعداد وشمارموجود نہیں ہین کیونکہ ہر مارچ پر الگ اخراجات آتے ہیں، لیکن نقصان دو طرح کا ہے۔ ایک براہ راست سیکیورٹی اخراجات ہیں، صرف موجودہ مارچ کے لیے اسلام آباد پولیس نے ایک ہفتے کے لیے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے مانگے تھے جس میں پنجاب سے 19 ہزار اور سندھ سے 1950 اہلکاروں کا کھانا اور رہائش شامل ہے اور پی ٹی آئی کے مارچ ملتوی کرنے سے یہ خرچہ ڈبل ہو کر ایک ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ دوسرا اور سب سے بڑا نقصان بالواسطہ معاشی نقصان ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پلاننگ کمیشن کے ساتھ مل کر بتایا ہے کہ ملک میں ہڑتال، دھرنے، لانگ مارچ اور سڑکیں بند ہونے سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، جس میں سروسز سیکٹر کو 86 ارب، انڈسٹری کو 25 ارب، زراعت کو 9 ارب اور حکومت کو ریونیو کی مد میں 17 ارب روپے کا روزانہ نقصان ہوتا ہے۔ اگر اس فارمولے کو 2014ءکے 126 دن کے دھرنے اور اس کے بعد کے تمام احتجاجوں پر لگایا جائے تو مجموعی نقصان ہزاروں ارب روپے بنتا ہے جو وزیر خزانہ کے الفاظ میں خود کو لگایا گیا زخم ہے۔آخر میں سوال یہ ہے کہ حکومت اتنی خوفزدہ کیوں ہے، کیا یہ پی ٹی آئی کے احتجاج کا خوف ہے یا ناراض عوام کا ڈر ہے۔ دراصل حکومت کی اس قدر سخت حکمت عملی کے پیچھے تین خوف اکٹھے ہیں۔ پہلا خوف پی ٹی آئی کی اسٹریٹ پاور کا ہے، حکومت جانتی ہے کہ اگر 20 سے 30 ہزار لوگ بھی ڈی چوک پہنچ گئے تو انہیں نکالنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسرا خوف 9 مئی 2023ھ کے واقعات کے دوبارہ ہونے کا ہے، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ خود کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں توڑ پھوڑ کا ریکارڈ ہے اس لیے انہیں اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تیسرا اور اصل خوف ناراض عوام کا ہے۔ اس وقت مہنگائی، بجلی کے بل اور بے روزگاری کی وجہ سے عام آدمی ویسے ہی ناراض ہے اور حکومت کو ڈر ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں وہ ناراض عوام بھی شامل ہو جائے گی جس کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے لیکن وہ اپنا غصہ نکالنے سڑک پر آ جائے گی۔ اس لیے یہ کہاجا سکتا ہےکہ حکومت کو بیک وقت دو ڈر ہیں، سامنے پی ٹی آئی کا منظم کارکن ہے اور پیچھے خاموش لیکن ناراض عوام کا سمندر ہے، اور حکومت کنٹینر لگا کر دونوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کنٹینر سے احتجاج نہیں رکتا بلکہ عوام کا غصہ مزید بڑھتا ہے اور معیشت کو اربوں کا نقصان الگ ہوتا ہے۔#

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button