
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا
تہران کی تجویز کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جوہری مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔
ایران نے پیشکش کی تھی کہ اگر امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے اور بہ شمول لبنان جنگ بندی کا احترام کرے تو تہران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کے انکار سے چند گھنٹے قبل انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کی ایک تصویر شیئر کی تھی، جس پر ’’ٹرمپ اسٹریٹ‘‘ درج تھا، جسے ایران کی پیشکش پر ان کے پہلے عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نیویارک سے تہران روانہ ہو گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اپنے خطاب میں پزشکیان نے ٹرمپ کی سخت دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کی تجویز کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جوہری مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔
ایک اہم انٹرویو میں ایرانی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں اور انہیں کسی سنگین طبی مسئلے کا سامنا نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے آغاز سے اب تک خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔



