
رائٹرز کے ساتھ
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر برقرار غیر یقینی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے پیش کی گئی امن تجویز مسترد کیے جانے کی خبر نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا، جبکہ خطے میں مزید حملوں اور توانائی کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا۔
کاروباری سرگرمیوں کے ابتدائی مرحلے میں برینٹ کروڈ فیوچرز 1.32 ڈالر، یعنی 1.27 فیصد اضافے کے ساتھ 105.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ اسی دوران امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 70 سینٹ، یعنی 0.76 فیصد اضافے کے بعد 93.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار 28 ستمبر 2026 کو 0036 GMT، یعنی پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً 5:36 بجے کے ہیں۔
ایران کی امن تجویز اور امریکی ردعمل
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے ایک امن تجویز پیش کی تھی۔ تہران کے مطابق یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔ تاہم اتوار کو Axios کو دیے گئے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں شریک ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ موجودہ مرحلے پر مذاکرات میں تعطل دکھائی دے رہا ہے، تاہم سفارتی رابطوں کے مکمل خاتمے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
توانائی کی عالمی منڈی میں اس صورتحال کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کا براہِ راست تعلق خلیجی خطے، خصوصاً آبنائے ہرمز سے ہے۔ یہ سمندری گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ سے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز پر عالمی منڈی کی نظریں
حالیہ تنازع کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں اس راستے سے خام تیل کی ترسیل میں کچھ بحالی ہوئی ہے، تاہم خطے میں سکیورٹی خطرات برقرار ہیں۔
توانائی سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے Kpler کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ستمبر میں خام تیل کی مجموعی برآمدات تقریباً 12.8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اس خطے کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ تاہم یہ مقدار فروری کے تقریباً 18.8 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ کم ہے۔
Kpler کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بھی ستمبر میں تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی راہ پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید رکاوٹوں کے باوجود کچھ بحالی ہوئی ہے۔
سعودی عرب کی برآمدات میں نمایاں اضافہ
مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بحالی کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے برآمدی سرگرمیوں میں اضافہ بھی ہے۔
Kpler کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب ستمبر میں تقریباً 5.4 ملین بیرل یومیہ خام تیل برآمد کرنے کی راہ پر ہے، جبکہ اگست میں یہ مقدار تقریباً 2.446 ملین بیرل یومیہ تھی۔
سعودی عرب کی خلیج میں واقع راس تنورہ بندرگاہ سے ستمبر میں ترسیل تقریباً 3.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جو اگست کے تقریباً 929,000 بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ تاہم یہ اب بھی فروری میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 6.411 ملین بیرل یومیہ سے کم ہے۔
Kpler کے مطابق گزشتہ ہفتے 19 بہت بڑے خام تیل بردار بحری جہاز (VLCCs) آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں سے ہر ایک تقریباً 20 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ البتہ ٹریکنگ کے یہ اعداد ان جہازوں کو شامل نہیں کرتے جنہوں نے ممکنہ طور پر نگرانی سے بچنے کے لیے اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) بند کر رکھے ہوں۔
سعودی پائپ لائن کو نقصان اور برآمدی راستوں میں تبدیلی
تیل کی ترسیل کے موجودہ نقشے پر سعودی عرب کی مشرق-مغرب پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ حملوں کے بعد سعودی عرب نے بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع کے بجائے خلیج میں واقع اپنی بندرگاہوں سے برآمدات میں اضافہ کیا۔
رائٹرز کے مطابق ستمبر میں سعودی عرب نے راس تنورہ سے تیل کی لوڈنگ میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ خطے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بھی بحال ہونا شروع ہوئی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک نے توانائی کی ترسیل کے لیے دستیاب متبادل راستوں اور بندرگاہی سہولیات کو زیادہ استعمال کرنا شروع کیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز بدستور عالمی توانائی کی سپلائی چین کا مرکزی راستہ ہے۔
حوثی حملوں سے علاقائی سپلائی کو خطرہ
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور وجہ سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات ہیں۔
ANZ کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور بلند ہیں، جبکہ ایران اور حوثیوں سے منسوب حملوں کے باعث علاقائی توانائی کی ترسیل خطرے سے دوچار رہ سکتی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حالیہ دنوں میں کہا کہ اس نے سعودی عرب کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو مار گرایا۔ ایسے واقعات نے مارکیٹ میں اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ اگر حملوں کا دائرہ بڑھا تو تیل کی پیداوار، تنصیبات یا شپنگ روٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی ڈیزل مارکیٹ بھی دباؤ میں
عالمی خام تیل کی قیمتوں کے علاوہ امریکی ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ANZ تجزیہ کاروں کے مطابق ریفائنڈ تیل کی مصنوعات اب بھی دباؤ کا ایک اہم مرکز ہیں، جبکہ امریکی ڈیزل کی بلند قیمتیں مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے امریکا سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کیا ہے۔
اگر امریکا ڈیزل کی برآمدات محدود کرتا ہے تو امریکی مارکیٹ میں سپلائی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن امریکا سے باہر دستیاب ڈیزل کی مقدار کم ہونے کے باعث عالمی اور خصوصاً یورپی مارکیٹ میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ اور WTI کی مختلف سمت
حالیہ ہفتے کے دوران دونوں اہم عالمی تیل بینچ مارکس کی کارکردگی بھی یکساں نہیں رہی۔
برینٹ کروڈ میں گزشتہ ہفتے تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ WTI میں تقریباً 7.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں کمی کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی بتایا گیا کہ واشنگٹن بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے، جس سے امریکی ریفائنریوں کی پیداوار اور عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے لیے اہم موڑ
موجودہ صورتحال میں عالمی تیل مارکیٹ بیک وقت دو متضاد عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں ستمبر کے دوران کچھ بحالی ہوئی ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برآمدات بڑھائی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل بھی بہتر ہوئی ہے۔ دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل، خطے میں حملوں اور اہم توانائی تنصیبات و شپنگ روٹس کو لاحق خطرات نے مارکیٹ میں خطرے کا پریمیم برقرار رکھا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اس امر سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ راستہ روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت دیکھتا تھا اور عالمی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کے تقریباً 20 فیصد سے منسلک تھا۔ حالیہ تنازع کے دوران یہاں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
آئندہ قیمتوں کا انحصار سفارت کاری اور سپلائی پر
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ بڑی حد تک امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، سعودی عرب اور دیگر بڑے پروڈیوسرز کی برآمدی صلاحیت، اور خطے میں حملوں کی شدت پر منحصر رہے گا۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عملی پیش رفت ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل میں مزید بہتری آتی ہے تو سپلائی سے متعلق خدشات کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات مزید تعطل کا شکار ہوتے ہیں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستوں پر حملے بڑھتے ہیں تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر اضافی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
یوں موجودہ مرحلے پر تیل کی عالمی منڈی میں سفارتی پیش رفت اور جغرافیائی سیاسی خطرات ایک دوسرے کے مقابل اثرانداز ہونے والے اہم عوامل بن گئے ہیں، جبکہ ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کی برآمدات میں ہونے والی بحالی کے باوجود خطے کی مجموعی ترسیل اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصی کم ہے۔



