
امراض قلب سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرز زندگی ناگزیر ہے: ڈاکٹر شاہد اقبال
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام خوش آئند، ضلعی و تحصیل سطح پر کیتھیٹرائزیشن لیبز سے دل کے مریضوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی
سید قاسم بخاری- پاکستان
لاہور: معروف ماہر امراض قلب ڈاکٹر شاہد اقبال نے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دل کے مریضوں کو جدید اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے ضلعی اور تحصیل کی سطح پر کیتھیٹرائزیشن لیبارٹریز کے قیام کے اقدام کو بھی سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
قاسم بخاری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر شاہد اقبال نے کہا کہ امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی دل کے امراض کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے جدید طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ بیماری سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام خوش آئند
ڈاکٹر شاہد اقبال نے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دل کے مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے اور جدید اداروں کا قیام اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں کیتھیٹرائزیشن لیبارٹریز قائم کرنے سے مریضوں کو اپنے علاقوں کے قریب تشخیصی اور علاج کی سہولیات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق دل کے بعض امراض میں بروقت طبی مداخلت انتہائی اہم ہوتی ہے، اس لیے علاج کی سہولیات تک رسائی کا بہتر ہونا مریضوں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
امراض قلب سے بچاؤ میں احتیاط کی اہمیت
ماہر امراض قلب نے کہا کہ دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق احتیاط علاج سے بہتر ہے اور لوگوں کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے جسمانی سرگرمیوں کو معمول کا حصہ بنانے، متوازن غذا استعمال کرنے اور نقصان دہ عادات سے دور رہنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند طرز زندگی نہ صرف دل بلکہ مجموعی جسمانی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔
علامات ظاہر ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
ڈاکٹر شاہد اقبال نے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر دل کے مرض سے متعلق علامات ظاہر ہوں تو انہیں نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص سے بیماری کی نوعیت سمجھنے اور مناسب علاج شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات مریض علامات کو معمولی سمجھ کر طبی معائنہ نہیں کرواتے، جس کے نتیجے میں تشخیص اور علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے خصوصاً خود سے ادویات استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر علاج یا دوا شروع نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ غلط دوا یا غلط مقدار میں استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نوجوانوں میں دل کے امراض پر تشویش
ڈاکٹر شاہد اقبال نے نوجوانوں میں دل کے امراض سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غیر فعال طرز زندگی اور غیر صحت بخش خوراک سمیت متعدد عوامل نوجوانوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے جسمانی سرگرمیوں میں کمی، جنک فوڈ کے زیادہ استعمال اور تمباکو نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ عادات میں شمار کیا۔ ان کے مطابق سگریٹ کے علاوہ شیشہ، ای سگریٹ اور ویپس کا استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو ان عادات سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔
ورزش اور متوازن غذا پر زور
ماہر امراض قلب نے نوجوانوں سمیت تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں اور روزمرہ معمولات میں جسمانی سرگرمی کو شامل کریں۔ انہوں نے باقاعدگی سے ورزش کرنے کو صحت مند طرز زندگی کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے مناسب مقدار میں پانی پینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سردیوں کے موسم میں بھی پانی کے استعمال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق موسم کی شدت سے قطع نظر جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹر شاہد اقبال نے تازہ پھلوں، سبزیوں اور خشک میوہ جات کو متوازن خوراک کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا جبکہ چکنائی سے بھرپور غذاؤں کے زیادہ استعمال سے گریز پر زور دیا۔
علاج کے ساتھ آگاہی اور احتیاط بھی ضروری
انہوں نے کہا کہ دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے لیے صرف ہسپتالوں اور طبی سہولیات میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ عوام میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق امراض قلب سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو اپنی خوراک، جسمانی سرگرمی، تمباکو اور دیگر نقصان دہ عادات پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح بیماری کی ممکنہ علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر شاہد اقبال نے کہا کہ پنجاب میں کارڈیالوجی کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کے اقدامات اور عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی، دونوں مل کر دل کے امراض کے بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، نقصان دہ عادات سے اجتناب اور بروقت طبی معائنہ دل کی صحت کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات ہیں۔



