
مریم نواز سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری فاطمہ خان ہولچ کی ملاقات، زراعت، آئی ٹی اور تجارت پر گفتگو
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات میں مزید وسعت کے وسیع امکانات موجود ہیں
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری فاطمہ خان ہولچ نے ملاقات کی، جس میں پنجاب اور یورپی شراکت داروں کے درمیان زراعت، آئی ٹی و ٹیکنالوجی کے فروغ، تجارت اور معاشی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری فاطمہ خان ہولچ کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران میری فاطمہ خان ہولچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کیے گئے خلوصِ میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور پنجاب میں جاری مختلف عوامی فلاحی منصوبوں کے حوالے سے اظہارِ تحسین کیا۔
ملاقات میں اس امر پر گفتگو کی گئی کہ پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ فریقین نے ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کو باہمی تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر زیرِ بحث لایا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و معاشی تعلقات میں مزید وسعت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملاقات میں پنجاب کے زرعی شعبے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ زرعی معیشت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے، پیداوار میں بہتری اور جدید طریقہ ہائے کاشت کے فروغ سمیت ایسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی جن سے کسانوں اور زرعی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پنجاب کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے امکانات بھی ملاقات کا حصہ رہے۔ فریقین کے درمیان اس بات پر گفتگو ہوئی کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یورپی پارلیمنٹ کی رکن میری فاطمہ خان ہولچ نے پنجاب میں جاری عوامی فلاحی منصوبوں کو سراہا۔ یورپی وفد کی جانب سے اقلیتوں کے لیے پنجاب حکومت کے **مینارٹی کارڈ** کے اقدام کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔
ملاقات میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود، انہیں سہولیات کی فراہمی اور معاشرے میں ان کی مؤثر شمولیت کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات کا بھی ذکر ہوا۔ مینارٹی کارڈ کے اقدام کو اقلیتی شہریوں تک حکومتی سہولیات اور فلاحی اقدامات کی رسائی کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت عوامی فلاح، معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور تمام شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان موجود تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پنجاب کی معیشت میں زراعت، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔ فریقین نے باہمی تعاون اور رابطوں کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون ملک کی برآمدات، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ پنجاب، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باعث زرعی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں، آئی ٹی اور انسانی وسائل کے اعتبار سے اس تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ملاقات میں اس امر کا اعادہ بھی ہوا کہ باہمی رابطوں اور تعاون کے ذریعے تجارت، ٹیکنالوجی، زراعت اور عوامی فلاح کے شعبوں میں مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔



