کاروبارتازہ ترین

آئی ایم ایف کا پاکستان سے 1.21 ارب ڈالر کے فنانسنگ کا معاہدہ

مالی سال کے لیے مجموعی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ

آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو سکے گی، تاہم اس کے لیے اب بھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو سکے گی، تاہم اس کے لیے اب بھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔

آئی ایم ایف کی مذاکرات کار ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستانی حکام نے ”مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور مضبوط پالیسیوں نے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔‘‘

ایران جنگ اور  عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل میں خلل کے دوران پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات مشکلات کی شکار معیشت پر مزید دباؤ کی شکل میں سامنے آئے۔  حالانکہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے بڑے شہروں میں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے اشیائے خورد و نوش، ایندھن اور مکانات کے کرایوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل اور محفوظ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

پیٹرووا کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران پاکستان کی حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں چار فیصد اضافہ ہوا، ”اگرچہ توانائی کی بلند قیمتوں اور رسد میں رکاوٹوں نے اس رفتار کو کسی حد تک متاثر کیا۔‘‘

پیٹرووا نے مزید کہا کہ ‘مئی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد، ستمبر میں مجموعی مہنگائی کم ہو کر تقریباً 10.3 فیصد رہ گئی، جب کہ بنیادی مہنگائی قابو میں رہی۔‘

آئی ایم ایف کا لوگو
آئی ایم ایف کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی،توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بگڑتی ہوئی عالمی مالیاتی صورتحال  اور تجارتی سرگرمیوں میں خلل کے باعث خطرات بدستور زیادہ ہیںتصویر: Maksym Yemelyanov/Zoonar/picture alliance

پاکستان اب بھی بیرونی مالیاتی امداد پر منحصر

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ سے معاہدے کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور ماحولیات پر مرکوز ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے، جس سے ان دونوں پروگراموں کے تحت ملنے والی کل رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

پاکستان اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور قرضوں کی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی فنانسنگ پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا، ”توسیعی فنڈ سہولت کے تعاون سے پاکستانی حکام نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور مضبوط پالیسیوں نے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔‘‘

تاہم آئی ایم ایف کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی،توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بگڑتی ہوئی عالمی مالیاتی صورتحال  اور تجارتی سرگرمیوں میں خلل کے باعث خطرات بدستور زیادہ ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے ماہر اقتصادیات احمد مبین نے رواں سال کے اوائل میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے تک جاری رہنے والا تنازع پاکستان کو ایشیا بحرالکاہل کی بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمدات، ترسیلاتِ زر اور خطے سے ملنے والی مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button