
ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ مسترد، دہشت گردی کے خلاف ناکامیوں کا حساب بھی لیا جائے: مولانا فضل الرحمان
وفاقی حکومت بھی مبینہ دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہوئی، پھر ایمرجنسی صرف خیبر پختونخوا میں کیوں؟ آئین، صوبے اور ملک کو سیاسی بیانیے کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، مولانا فضل الرحمان
ویب ڈیسک
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی، فوجی آپریشنز کے نتائج اور ماضی کی ناکامیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر موجودہ آرمی چیف کے دور تک اگر ملک میں بدامنی بڑھی، دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور بار بار آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے تو ان ناکامیوں کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف صوبائی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ ان پالیسیوں، حکمت عملیوں اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جن کے تحت گزشتہ برسوں میں مختلف فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ان کے مطابق اگر بار بار کارروائیوں کے باوجود حالات بہتر نہیں ہوئے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان آپریشنز کے نتائج کیا نکلے اور ناکامیوں کی وجوہات کیا تھیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آپریشنز کی حمایت کریں اور اس بات کو تسلیم کریں کہ حالات درست کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ انہیں ملک کے امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ 2010 سے اب تک کیے جانے والے آپریشنز کے نتائج کیا رہے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتائج پر سوالات
مولانا فضل الرحمان نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور سکیورٹی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر مختلف ادوار میں کیے گئے آپریشنز کے باوجود دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے تو اس صورت حال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
ان کا مؤقف تھا کہ کسی بھی حکمت عملی کی کامیابی کا اندازہ اس کے عملی نتائج سے لگایا جاتا ہے۔ اگر طویل عرصے تک کارروائیاں جاری رہیں، وسائل استعمال کیے گئے اور متعدد آپریشنز کیے گئے، لیکن شہریوں کو امن اور تحفظ فراہم نہ ہو سکا تو پھر ان پالیسیوں کے بارے میں سوالات اٹھانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے صرف دہشت گردوں کی کارروائیوں کا ذکر کرنا کافی نہیں، بلکہ ان حالات اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جن کے باعث بدامنی پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ حکمت عملی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے، ناکامیوں کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور مستقبل کے لیے ایسی پالیسی اختیار کی جائے جس سے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آزادی مارچ کے دور کا حوالہ، آج حالات زیادہ خراب ہونے کا دعویٰ
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اپنے خطاب میں ماضی کے آزادی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے دور دراز علاقوں، بدین، گلگت، کوہستان اور چترال سمیت مختلف خطوں سے قافلے آزادی مارچ میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں حالات نسبتاً بہتر تھے، جبکہ آج صورت حال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ بعض علاقوں میں شہریوں کی معمول کی نقل و حرکت بھی متاثر ہے۔
انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں امن و امان کے حالات پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان کے بقول پولیس اہلکار بعض مقامات پر رات کے وقت تھانوں میں قیام کرنے کے بجائے قریبی آبادیوں کے گھروں میں رات گزارتے ہیں اور تھانے خالی ہو جاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے ان دعوؤں کو دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے نتائج پر سوال اٹھانے کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حالات میں بہتری نہیں آئی تو اس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔ ان کے بیان کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے کا حل صرف آپریشنز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ مؤثر حکمت عملی، عوام کا اعتماد اور مقامی حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
’’صرف دہشت گردوں کی بات کیوں، ناکامیوں کا ذکر بھی ہونا چاہیے‘‘
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے صرف مسلح گروہوں اور ان کی کارروائیوں کو موضوع کیوں بنایا جاتا ہے، جبکہ ان پالیسیوں اور حکمت عملیوں پر بھی بات ہونی چاہیے جن کے نتیجے میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مذمت اور اس کے خاتمے کی حمایت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حق بھی برقرار رہنا چاہیے کہ ریاستی پالیسیوں، آپریشنز اور ان کے نتائج پر سوالات اٹھائے جائیں۔
ان کے مطابق اگر کسی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے تو اس کا جائزہ لینا تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ مستقبل میں بہتر فیصلوں کے لیے ضروری عمل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے امن کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے، تاہم کسی بھی فریق کو ناکامیوں کے احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔
’’ایمرجنسی نافذ کرنی ہے تو وفاقی سطح پر بھی غور کیا جائے‘‘
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت حالات کو غیر معمولی قرار دے رہی ہے تو اس معاملے کو صرف ایک صوبے تک محدود رکھنے کے بجائے وفاقی حکومت کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کے قیام پر بھی اعتراضات اٹھائے اور اسے مبینہ دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف ناکامیوں کی بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے تو وفاقی سطح پر ہونے والی ناکامیوں کا حساب کون لے گا؟
انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے نتائج پر جامع بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر حکومت اپنی مرضی کا سیاسی بیانیہ قائم کرنے کے لیے صوبے، آئین اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ کسی سیاسی اختلاف کو بنیاد بنا کر پورے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنے یا آئینی اختیارات میں مداخلت کرنے کے فیصلے پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔
آئین اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں آئین کے تحفظ اور صوبائی حکومت کے اختیارات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پر ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہییں جن سے آئینی نظام اور جمہوری ادارے متاثر ہوں۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات ضرور کیے جائیں، لیکن ان کے لیے آئینی حدود اور قانونی طریقہ کار کا احترام بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق ریاستی اداروں اور سیاسی حکومتوں کے درمیان اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اعتراضات ہیں تو ان کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز موجود ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان میں یہ مؤقف نمایاں تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک میں امن کے قیام کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے آئین، سیاسی حقوق اور عوام کے اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔
علما، کارکنوں اور شہریوں کی قربانیوں کا ذکر
مولانا فضل الرحمان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جے یو آئی (ف) کے علما، کارکنوں اور دیگر افراد کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے طویل عرصے سے جانی نقصان برداشت کیا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی جماعت کے سرکردہ علما اور کارکنوں سمیت بڑی تعداد میں افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اجتماعات میں لاشیں اٹھانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان قربانیوں کی وجوہات اور پس منظر پر بھی بات ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق ان قربانیوں کو نظر انداز کر کے دہشت گردی کے مسئلے کو صرف ایک سیاسی تنازعے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ملک اور آئین کے لیے قربانیاں دی ہیں اور اس کے باوجود وہ مسلح راستہ اختیار کرنے کے بجائے سیاسی جدوجہد اور دلیل کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے، لیکن سیاسی جماعتوں، علما اور شہریوں کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں بیان کردہ ہلاکتوں اور قربانیوں سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
’’ہم اسلحہ نہیں اٹھاتے، دلیل اور سیاسی کردار کی بات کرتے ہیں‘‘
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی اختلافات کے باوجود دلیل، مکالمے اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت نے اپنے مؤقف کے اظہار کے لیے اسلحے کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ سیاسی کردار، آئینی حقوق اور اختلافِ رائے کے ذریعے بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت کی پالیسیوں یا ریاستی حکمت عملی پر تنقید کرتی ہے تو اس کا جواب سیاسی اور قانونی طریقے سے دیا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنا اور اس بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنانا جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے ان کے طریقہ کار اور نتائج پر سوالات بھی اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے قربانیاں دینے والے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
غیر مسلح افراد کے تحفظ کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں غیر مسلح افراد کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو محض اختلافِ رائے یا سیاسی مؤقف کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک غیر مسلح شخص کے ساتھ مسلح تصادم کا جواز پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عمر رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، کیونکہ وہ عام طور پر مسلح کارروائیوں میں شریک نہیں ہوتے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا احترام اور شہریوں کی حفاظت ہر صورت مقدم رہنی چاہیے۔ سیاسی اختلافات یا ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے باوجود شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان کے مطابق ان کی جماعت نے جن قربانیوں کا سامنا کیا، ان میں اختلافِ رائے اور سیاسی مؤقف کا عنصر بھی اہم رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری یا سیاسی کارکن کو اس کے مؤقف کی وجہ سے تشدد یا غیر قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سیاسی اختلافات کو دہشت گردی سے الگ رکھنے کی ضرورت
مولانا فضل الرحمان کے خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سیاسی اختلافات کے درمیان فرق واضح کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر تعاون ضروری ہے، لیکن اس مقصد کو سیاسی اختلاف رکھنے والی جماعتوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے تو اس کا حل تلاش کرنے کے لیے متعلقہ اداروں، صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کی کامیابی کا انحصار صرف کارروائیوں پر نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، مقامی آبادی کے تعاون، مؤثر حکمرانی اور قانون کی بالادستی پر بھی ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ناکامیوں کا جائزہ لینے، ذمہ داریوں کا تعین کرنے اور مستقبل کی حکمت عملی بہتر بنانے کے لیے جامع عمل اختیار کرے۔ ان کے مطابق محض سیاسی بیانیے کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف سیاسی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس کے خلاف مختلف آئینی اور قانونی فورمز سے رجوع کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) عوامی فورم، پارلیمان اور عدالتوں کے ذریعے اپنے اعتراضات سامنے لائے گی۔ ان کے مطابق جماعت کی سطح پر بھی اس معاملے کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور آئینی معاملات کو قانونی اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کرے گی اور متعلقہ فورمز پر اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔
اس اعلان کے بعد خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کے اقدامات کے خلاف سیاسی ردعمل مزید اہم ہو گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ پارلیمان میں اس معاملے پر کیا بحث ہوتی ہے، قانونی فورمز پر کیا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے اور سیاسی جماعتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے کس حد تک مذاکرات کا راستہ اپناتی ہیں۔
دہشت گردی، آئینی بحران اور سیاسی مفاہمت کے چیلنجز
مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورت حال، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختلافات اور پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کے باعث سیاسی ماحول کشیدہ ہے۔
وفاقی حکومت اپنے فیصلے کو سکیورٹی اور انتظامی ضرورت سے جوڑتی ہے، جبکہ مخالف سیاسی حلقے اسے صوبائی خودمختاری اور آئینی نظام کے لیے تشویش ناک قرار دے رہے ہیں۔ اس صورت حال میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور آئینی تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں ماضی کے آپریشنز کے نتائج، دہشت گردی میں اضافے، سیاسی کارکنوں کی قربانیوں اور غیر مسلح شہریوں کے تحفظ کے معاملات کو ایک ساتھ اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں کا جائزہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر لیا جائے۔
ان کے مطابق ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کی کامیابی اور ناکامی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین ہو اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مکالمے اور آئینی طریقہ کار سے حل کیا جائے۔
اختتامی کلمات
مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ 2010 سے اب تک کیے گئے آپریشنز کے نتائج اور ناکامیوں کا حساب بھی سامنے لایا جائے۔ انہوں نے اپنی جماعت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے اسلحے کے بجائے دلیل، سیاسی جدوجہد اور آئینی راستے کو اختیار کیا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت فیصلے کے خلاف عوامی، پارلیمانی اور عدالتی فورمز پر اپنا مؤقف پیش کرے گی اور پارٹی سطح پر آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔
ان کے بیان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے آئینی پہلوؤں، پارلیمانی کارروائی اور سیاسی جماعتوں کے ردعمل پر توجہ مرکوز رہے گی۔



