مشرق وسطیٰتازہ ترین

ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک اور حملہ، ٹرمینل 4 میں آگ بھڑک اٹھی؛ سعودی فضائی دفاع نے کروز میزائل تباہ کر دیا

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں 6 پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رائٹرز کے ساتھ

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے ٹرمینل 4 میں آگ لگ گئی۔ یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق اتوار کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ایئرلائنز، مسافروں اور ہوائی اڈوں کے عملے کو سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

حالیہ حملے سے متعلق فوری طور پر تمام تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق نامعلوم پروجیکٹائل نے ہوائی اڈے کے ٹرمینل 4 کو نشانہ بنایا۔ اس سے ایک روز قبل ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ بھارتی سفارت خانے نے بھی تصدیق کی کہ 10 اکتوبر کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا ہے۔

ریاض کے ہوائی اڈے پر مسلسل حملوں اور حوثیوں کی جانب سے مزید کارروائیوں کی دھمکیوں نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے یمن میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکی شمولیت پر غور کرنے کا بیان دیا ہے۔

ریاض ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ٹرمینل میں آگ

یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایا کہ اتوار کے روز ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ٹرمینل 4 میں آگ لگ گئی۔ اتحاد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب آنے والے ایک کروز میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

تاہم، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے میں استعمال ہونے والا پروجیکٹائل کس نوعیت کا تھا، اسے کہاں سے داغا گیا اور آگ لگنے کے واقعے سے عمارت یا دیگر تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا۔ اسی طرح تازہ حملے میں جانی نقصان کی مکمل تفصیلات بھی فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

ہوائی اڈے پر یہ واقعہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں کو ممکنہ حملوں کا ہدف قرار دینے اور مسافروں کو وہاں جانے سے گریز کرنے کی تنبیہ کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔ مسلسل حملوں کے باعث ہوائی اڈے کی سکیورٹی، فضائی سفر اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ سعودی عرب کے اہم فضائی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور یہاں ہونے والی سرگرمیاں ملکی اور بین الاقوامی سفر کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں حملوں کے باعث اس کی بندش یا آپریشنز میں رکاوٹ سے مسافروں، ایئرلائنز اور کاروباری سرگرمیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایک روز قبل حملے میں 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی

سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں اپنی نوعیت کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی شہری اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں مختلف قومیتوں کے شہری متاثر ہوئے، جس سے واقعے کی بین الاقوامی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

سعودی حکام کے مطابق یہ حملہ ایک ہفتے کے دوران ریاض کے ہوائی اڈے پر پیش آنے والا تیسرا حملہ تھا۔ اس سے پہلے ہونے والے دو حملوں میں بھی چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک حملے کے نتیجے میں رن وے پر کھڑے ایک سعودی تجارتی طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع تھی۔

مسلسل حملوں نے اس اہم فضائی مرکز کی سکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ تاہم، حملوں کے تمام محرکات، ذمہ دار فریقوں اور نقصان کی مکمل نوعیت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی تفصیلی تحقیقات اور باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔

زخمی بھارتی شہری انتقال کر گیا، سفارت خانے کا تعزیتی بیان

بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ 10 اکتوبر کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا ہے۔

سفارت خانے نے متوفی کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ غمزدہ خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ بیان میں میت کو جلد از جلد بھارت منتقل کرنے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

حملے میں غیر ملکی شہریوں کی ہلاکت اس واقعے کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات کو نمایاں کرتی ہے۔ سعودی عرب میں مختلف ممالک کے شہری روزگار، کاروبار اور دیگر مقاصد کے لیے مقیم ہیں، جبکہ بین الاقوامی ہوائی اڈے ان کی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہیں۔

ایسے واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو معلومات کی فراہمی، زخمیوں کے علاج اور میتوں کی وطن واپسی کے انتظامات متعلقہ سفارتی مشنز اور مقامی حکام کے لیے اہم ذمہ داریاں بن جاتے ہیں۔

حوثیوں کی وارننگ: سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہیں

ریاض ہوائی اڈے پر حملے کے بعد یمن کی حوثی ملیشیا نے ایئرلائنز، مسافروں، ماہرین، ملازمین اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے افراد کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرنے کی وارننگ دی۔

حوثیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ سعودی ہوائی اڈے حملوں کی زد میں ہیں اور ان کی افواج کے لیے آپریشنل میدان بن چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو اپنی تنبیہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔

حوثیوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی حملے کو روکنے میں ناکامی ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہو گی۔

حوثیوں کی اس وارننگ نے فضائی سفر سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ریاض کے ہوائی اڈے پر مسلسل حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اگر سعودی فضائی حدود میں خطرات برقرار رہتے ہیں تو پروازوں کے شیڈول، فضائی راستوں اور ایئرلائنز کے آپریشنز پر اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم حوثیوں کی جانب سے جاری بیان کو ان کا اپنا مؤقف سمجھا جانا چاہیے۔ سعودی عرب کی فضائی حدود میں خطرات، حملوں کی نوعیت اور ان کے ذمہ داروں سے متعلق حتمی صورت حال کا تعین متعلقہ حکام کی تصدیق اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی یمن میں عسکری سرگرمیاں بڑھ گئیں

سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمن میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف حملے کیے اور یمنی حکومت کی جوابی کارروائیوں کی حمایت کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب حوثی گروپ نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ واقع بعض تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان علاقوں کی اہمیت جغرافیائی محل وقوع، بحری راستوں اور یمن میں جاری تنازعے کے تناظر میں نمایاں ہے۔

یمن میں جاری لڑائی محض مقامی سیاسی تنازع نہیں رہی بلکہ اس میں علاقائی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی نے خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔

سعودی عرب کی عسکری کارروائیوں میں اضافے اور ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کی اطلاعات کے باعث تنازعے کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم موجودہ واقعات کے درمیان براہ راست تعلق اور ہر حملے کی ذمہ داری کے تعین کے لیے مزید تصدیق شدہ معلومات درکار ہیں۔

حوثی وزارت خارجہ کی مزید سخت ردعمل کی دھمکی

یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام وزارت خارجہ نے اتوار کے روز کہا کہ یمن میں سعودی عسکری کارروائیوں کا تسلسل مزید سخت ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس کے اقدامات کا انحصار جوابی کارروائی یا باہمی ردعمل کے اصول پر ہو گا۔

حوثیوں کے زیر انتظام ٹیلی ویژن چینل المسیرہ پر نشر ہونے والے بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ جب تک سعودی عرب یمن میں اپنی عسکری کارروائیاں اور مداخلت بند نہیں کرتا، حالات مزید خراب ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی قیادت سعودی حملوں کو اپنی ممکنہ آئندہ کارروائیوں کا جواز بنا رہی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے بھی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کارروائیاں جاری رکھنے کا امکان تنازعے میں شدت پیدا کر سکتا ہے۔

اگر دونوں فریق حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایسے حالات میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

امریکہ کی حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شمولیت پر غور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں شامل ہونے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں اور یمن میں لڑائی کی شدت کے باعث علاقائی صورت حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق یہ تنازع ایران کے خلاف اس وسیع تر جنگ سے بھی جڑا ہوا ہے جس کے آغاز کے بارے میں رپورٹ میں فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

امریکہ کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا بیان خطے میں جاری کشیدگی کے بین الاقوامی دائرے کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔ تاہم اس بیان سے فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ نے حوثیوں کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

اگر امریکہ براہ راست سعودی کارروائیوں میں شریک ہوتا ہے تو اس کے اثرات یمن کے اندر جاری لڑائی کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی فریقوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

ہوائی اڈے کی بندش، تعلیمی اداروں میں آن لائن تعلیم کا فیصلہ

ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں اور سکیورٹی خدشات کے دوران سعودی حکام نے تعلیمی اداروں کے لیے بھی احتیاطی اقدامات کا اعلان کیا۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق والدین کو مطلع کیا گیا کہ طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے بالمشافہ کلاسیں معطل کی جائیں گی اور اتوار سے جمعرات تک تدریسی سرگرمیاں ریموٹ لرننگ کے ذریعے جاری رہیں گی۔

اس فیصلے کا مقصد موجودہ حالات میں طلبہ اور تعلیمی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ انتظام کن علاقوں اور کتنے تعلیمی اداروں پر لاگو کیا گیا، یا اسے کتنی مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سکیورٹی خدشات کے دوران آن لائن تعلیم کا انتظام تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن اس کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی، تدریسی وسائل اور طلبہ کی شرکت جیسے عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی کانفرنس معمول کے مطابق جاری

ریاض کے ہوائی اڈے کی عارضی بندش اور سکیورٹی صورت حال کے باوجود سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ طویل عرصے سے منصوبہ بند بین الاقوامی توانائی کانفرنس اتوار کو اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق جاری ہے۔

اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام اہم سرکاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ فضائی سفر اور سکیورٹی کے حوالے سے مشکلات برقرار ہیں۔

ریاض سعودی عرب کا ایک اہم سیاسی اور اقتصادی مرکز ہے، جہاں بین الاقوامی کانفرنسیں، کاروباری اجلاس اور سفارتی سرگرمیاں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم ہوائی اڈے پر حملوں اور فضائی سفر میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث بیرون ملک سے آنے والے شرکا کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

کانفرنس کا انعقاد جاری رہنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ شہر میں تمام معمولات مکمل طور پر بحال ہیں؛ اس کے لیے فضائی آپریشنز، سفری انتظامات اور سکیورٹی صورت حال کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔

علاقائی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بڑھتے ہوئے خدشات

ریاض کے ہوائی اڈے پر مسلسل حملوں، حوثیوں کی وارننگ، سعودی عرب کی یمن میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور امریکہ کی ممکنہ شمولیت سے متعلق بیان نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اس صورت حال میں سب سے زیادہ تشویش شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، ہوائی اڈوں اور دیگر بنیادی تنصیبات کی سلامتی اور بین الاقوامی سفر کے تسلسل کے بارے میں ہے۔ مختلف قومیتوں کے شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جاری تنازعے کے اثرات صرف جنگ میں براہ راست شریک فریقوں تک محدود نہیں رہتے۔

فضائی مراکز پر حملوں کے نتیجے میں پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں، مسافروں کو متبادل انتظامات کرنا پڑ سکتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش اور آن لائن تعلیم کی طرف منتقلی بھی شہری زندگی پر سکیورٹی حالات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

اختتامیہ

ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے اور ٹرمینل 4 میں آگ لگنے کی اطلاع نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو تباہ کیا، جبکہ ایک روز قبل ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ زخمی بھارتی شہری کی ہلاکت کی تصدیق نے متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک اور سانحے کو جنم دیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور فضائی حدود سے دور رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ان کی وزارت خارجہ نے سعودی عسکری سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے بھی تنازعے میں ممکنہ امریکی کردار کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

آنے والے دنوں میں اس تنازعے کی سمت کا انحصار سعودی عرب اور حوثیوں کی کارروائیوں، فضائی حملوں کی روک تھام، امریکہ کے ممکنہ فیصلوں اور سفارتی کوششوں پر ہو گا۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ شہری آبادی اور بنیادی تنصیبات کو تحفظ فراہم کیا جائے، حملوں کی ذمہ داری کا تعین قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہو اور کش

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button