
سائبر سکیورٹی کے نئے چیلنجز……. علی عباس کاظمی
ٹیکنالوجی کے بارے میں مبالغہ آرائی کی تردید کرتے ہوئے ہمیں دوسری انتہا پر بھی نہیں جانا چاہیے
موبائل فون نے ہماری زندگی آسان ضرور بنائی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی تو سیکھ لی، مگر اس کے استعمال کی اخلاقی ذمہ داری سیکھنے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔سائبر کرائم کے خلاف کارروائیوں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں جذبات سے زیادہ حقیقت کو اہمیت دینی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے عام ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہر موبائل میں موجود تصاویر اور ویڈیوز کو مسلسل دیکھتی ہے، مشکوک مواد کی خودکار شناخت کرتی ہے اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دے دیتی ہے۔ مگر کیا واقعی ہر فون کے اندر ایسا کوئی نظام کام کر رہا ہے؟ کیا ہر ایپ اپنے صارف کی تمام فائلوں تک رسائی رکھتی ہے؟ کیا کسی مشتبہ چیز کی موجودگی خودبخود جرم ثابت کر دیتی ہے؟ ان سوالات کے جواب محض سنسنی خیز ویڈیوز یا کسی کے اعتماد سے بھرپور لہجے میں نہیں مل سکتے۔ ٹیکنالوجی کے حقیقی طریقۂ کار، متعلقہ قانون اور مستند شواہد کو سمجھے بغیر خوف پھیلانا عوام کی رہنمائی نہیں، ان کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانا ہے۔
مائیکروسافٹ کی PhotoDNA ٹیکنالوجی اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ تصاویر کے ڈیجیٹل نشانات کے ذریعے معلوم غیر قانونی مواد، بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تصاویر، کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا بھر کے ہر شخص کے فون میں موجود ہر تصویر لازماً اسکین ہو رہی ہے۔ اس کا استعمال متعلقہ پلیٹ فارم، نظام اور پالیسی پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی طرح آن لائن سروسز کی جانب سے کسی مواد کی شناخت، اس کی رپورٹنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم کرنے کے طریقے بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس فرق کو نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر میں کیمرے نصب ہونے سے یہ نتیجہ نکال لیا جائے کہ ہر گھر کے اندر بھی مسلسل نگرانی ہو رہی ہے۔تاہم ٹیکنالوجی کے بارے میں مبالغہ آرائی کی تردید کرتے ہوئے ہمیں دوسری انتہا پر بھی نہیں جانا چاہیے۔ یہ سمجھنا بھی خطرناک ہے کہ موبائل فون میں محفوظ مواد ہمیشہ پوشیدہ رہے گا اور کوئی ادارہ اس تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مختلف قسم کی معلومات رکھتے ہیں، بعض مواد کی خودکار شناخت کرتے ہیں اور مخصوص حالات میں اپنی پالیسیوں یا قانونی تقاضوں کے تحت معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن پیغامات کے مواد کو عام ترسیل کے دوران محفوظ رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے، مگر اس سے ہر قسم کی معلومات، بیک اَپس، صارف کے آلے یا رپورٹ کیے گئے مواد کے بارے میں مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی۔ دوسری طرف یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ کوئی تحقیقاتی ادارہ ہر صارف کا ہر ڈیٹا بلاشرط اور بلاحد حاصل کر سکتا ہے۔ قانون، اختیار، طریقۂ کار اور دستیاب شواہد اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس پوری بحث میں ایک پہلو ایسا ہے جس پر ہماری توجہ ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے۔ آخر ہم کسی دوسرے شخص کی نجی تصویر اپنے فون میں کیوں رکھتے ہیں؟ ہمیں کسی کی ذاتی ویڈیو دوستوں کو دکھانے میں خوشی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے والا مواد ہمارے لیے تفریح کیسے بن جاتا ہے؟ ہم کسی کی زندگی کے انتہائی نجی لمحے کو اپنی محفل کا موضوع بناتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ تصویر میں موجود شخص بھی ہماری طرح احساسات رکھتا ہے، اس کے بھی گھر والے ہیں، اس کی بھی سماجی زندگی ہے اور اس کی عزت بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی ہماری اپنی؟یہاں مسئلہ صرف قانون شکنی کا نہیں، کردار کی کمزوری کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ کسی کی نجی تصویر حاصل کرنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، اسے آگے بھیجنے کو معمولی مذاق قرار دیتے ہیں اور دوسروں کو دکھا کر اپنی اہمیت جتاتے ہیں۔ بعض افراد اسی مواد کو بلیک میلنگ اور مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے رویوں کو محض چند برے لوگوں کی حرکت کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جب معاشرہ کسی کی تذلیل پر ہنستا ہے تو وہ انجانے میں اس تذلیل کو قبولیت بھی دے رہا ہوتا ہے۔ جرم کرنے والا ہاتھ ضرور ذمہ دار ہے، مگر ہر وہ شخص بھی اپنے حصے کی ذمہ داری رکھتا ہے جو اس مواد کو پھیلاتا، اس کی حوصلہ افزائی کرتا یا متاثرہ شخص کی تکلیف کو تماشا سمجھتا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اس معاملے کی انتہائی سنگین صورت ہے۔ بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے نام پر ہونے والی ہر گفتگو میں ضروری ہے کہ عام خاندانی تصاویر اور بچوں کے استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ اپنے بچوں کے ساتھ عام تصاویر بنانا کوئی جرم نہیں، اور ایسی تصاویر کو محض بچوں کی موجودگی کی وجہ سے مشتبہ قرار دینا غیر منطقی ہے۔ اس کے برعکس بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد حاصل کرنا، محفوظ رکھنا یا پھیلانا انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس کے قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس مواد کو تجسس، مذاق یا کاروبار کا ذریعہ بنانے والے افراد نہ صرف قانون بلکہ انسانی ضمیر کے بھی مجرم ہیں۔ ایسے مواد سے واسطہ پڑنے پر اسے آگے بھیجنے کے بجائے متعلقہ پلیٹ فارم پر رپورٹ کرنا اور مناسب قانونی طریقے سے اطلاع دینا چاہیے۔یہاں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہم بچوں کو موبائل پکڑا دیتے ہیں، انٹرنیٹ تک رسائی دے دیتے ہیں، مگر انہیں یہ سمجھانے کی زحمت کم کرتے ہیں کہ آن لائن دنیا میں اجنبیوں پر اندھا اعتماد کیوں خطرناک ہے، ذاتی تصاویر کیوں شیئر نہیں کرنی چاہییں اور کسی کے دباؤ یا دھمکی کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے قابل اعتماد بالغ فرد سے مدد کیوں لینی چاہیے۔ پھر جب کوئی بچہ آن لائن استحصال کا شکار ہوتا ہے تو ہم ٹیکنالوجی کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ والدین کی نگرانی کا مطلب بچوں کی ہر سانس پر پہرہ دینا نہیں، بلکہ انہیں اتنا باشعور بنانا ہے کہ وہ خطرے کو پہچان سکیں اور مشکل میں مدد مانگنے سے نہ ڈریں۔
جعلی کالیں، دھوکے سے حاصل کیے گئے پاس ورڈ، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیمیں، شناخت کی چوری اور بینک اکاؤنٹس کے غلط استعمال جیسے جرائم کے لیے الگ تکنیکی اور قانونی اقدامات درکار ہیں۔ شہریوں کو مشکوک لنکس سے بچنا، ہر اکاؤنٹ کے لیے مضبوط اور مختلف پاس ورڈ رکھنا، دو مرحلوں پر مشتمل تصدیق استعمال کرنا اور کسی کو بھی تصدیقی کوڈ نہ دینا سیکھنا ہوگا۔ وی پی این استعمال کرنا بذاتِ خود کسی شخص کے مجرم ہونے کی علامت نہیں، اور نہ ہی یہ کسی غیر قانونی سرگرمی کے لیے قانونی ڈھال ہے۔ جرم کی نوعیت، شواہد اور قانون اہم ہوتے ہیں، محض کسی ایپ یا ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں۔شہریوں کو صرف گرفتاریوں کی خبریں سنانا کافی نہیں۔ انہیں واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ کون سا عمل جرم ہے، شکایت کیسے درج کرائی جا سکتی ہے، ڈیجیٹل شواہد کو قانونی طور پر کیسے محفوظ رکھا جائے اور کسی شخص کے خلاف کارروائی میں بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جاتا ہے۔ قانون کا خوف اسی وقت مفید ہوتا ہے جب اس کے ساتھ قانون کی سمجھ بھی موجود ہو۔ اگر شہری ہر تصویر، ہر اسکرین شاٹ اور ہر خاندانی یاد کو ممکنہ جرم سمجھنے لگیں تو یہ شعور نہیں، غیر ضروری خوف ہوگا۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھیں کہ انٹرنیٹ پر کچھ بھی کرنے سے کوئی جواب دہی نہیں ہوتی تو یہ غفلت انہیں اور دوسروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تحقیقاتی اداروں کو مؤثر بنانا ضروری ہے، کسی کے خلاف شکایت یا شبہ تحقیق کا آغاز ہو سکتا ہے، لیکن اسے خودبخود جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق، ان کا سیاق و سباق، ان تک رسائی کا قانونی طریقہ اور منصفانہ کارروائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر کسی کے خلاف الزام لگا دینا انصاف نہیں۔ اگر ہم بغیر تحقیق کسی کو مجرم قرار دینے لگیں تو ہم بھی اسی بے انصافی کا حصہ بن جاتے ہیں جس کے خلاف آواز اٹھانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شاید ٹیکنالوجی کی طاقت نہیں، بلکہ اپنی عادتوں کو درست سمجھنے کی ضد ہے۔ ہم دوسروں کی رازداری توڑتے ہیں، مگر اپنی رازداری پر حرف آئے تو قانون یاد آ جاتا ہے۔ ہم کسی کی تذلیل پر قہقہے لگاتے ہیں، مگر اپنی عزت مجروح ہونے پر پورے معاشرے سے انصاف مانگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ذمہ دار ہوں، ادارے مستعد ہوں اور قانون سخت ہو، لیکن خود اپنی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں سے بچ نکلنے کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ختم کیے بغیر کوئی ٹیکنالوجی ہمیں مہذب نہیں بنا سکتی۔آنے والا دور ڈیجیٹل نگرانی، مصنوعی ذہانت اور آن لائن شناخت کے حوالے سے مزید پیچیدہ ہوگا۔ ہماری معلومات کی حفاظت کے لیے بہتر قوانین، مضبوط تکنیکی نظام اور شفاف ادارے درکار ہوں گے۔ مگر ان سب کے باوجود ایک سوال ہر انسان کے سامنے رہے گا۔ کیا ہم صرف اس لیے غلط کام سے بچیں گے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے، یا اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ کسی دوسرے کی عزت، آزادی اور تحفظ کو نقصان پہنچانا غلط ہے؟ اگر ہماری دیانت صرف نگرانی کی موجودگی سے قائم رہتی ہے تو مسئلہ موبائل فون میں نہیں، ہماری تربیت میں ہے۔ مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص پکڑے جانے سے ڈرتا ہو، بلکہ وہ ہے جہاں انسان کو کسی کی عزت پامال کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز سنائی دیتی ہو۔

