اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

سی ایس ایس امتحان اور سول سروس کا موجودہ ڈھانچہ ختم کیا جائے، طارق محمود اعوان کا وزیراعظم کو خط

پی ایم ایس پنجاب کے سابق صدر نے سول سروس کے نظام کو آئینی وفاقیت اور جدید حکمرانی سے ہم آہنگ کرنے کی تجویز دے دی؛ سروسز کے قیام کے لیے قانون سازی، وفاقی و صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے دائرۂ اختیار کے تعین اور مشترکہ مفادات کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام پر زور

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

پنجاب مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) پنجاب کے سابق صدر طارق محمود اعوان نے پاکستان کے موجودہ سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان اور اس سے وابستہ سول سروس کے ڈھانچے پر بنیادی آئینی، انتظامی اور پالیسی نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہوئے وزیراعظم کو خط ارسال کیا ہے، جس میں موجودہ بھرتی کے نظام کو ختم کرکے اس کی جگہ جدید، تخصص پر مبنی اور وفاقی آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سول سروس کا موجودہ ڈھانچہ بڑی حد تک برطانوی نوآبادیاتی دور کی انتظامی روایت سے جڑا ہوا ہے، جبکہ ملک کا آئینی نظام وفاقیت، وفاقی و صوبائی اختیارات کی تقسیم اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی وضاحت پر مبنی ہے۔ خط کے مطابق وقت کے ساتھ آئین اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلیاں تو آئیں، تاہم سول سروس کی بنیادی ساخت، بھرتی کے طریقۂ کار اور عمومی نوعیت کے کیڈرز میں مطلوبہ تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔

طارق محمود اعوان نے وزیراعظم کو بھیجی گئی تجاویز میں کہا ہے کہ پاکستان کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور انتظامی نظام کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سول سروس میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں وفاقی اور صوبائی ذمہ داریوں، مختلف محکموں کی تخصصی ضروریات اور افسران کی بھرتی کے طریقۂ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا سی ایس ایس پر مبنی موجودہ بھرتی کا نظام پاکستان کے وفاقی آئین کی روح سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور کیا عمومی نوعیت کے امتحان کے ذریعے مختلف تخصصی شعبوں کے لیے افسران کا انتخاب جدید حکمرانی کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔

نوآبادیاتی انتظامی روایت اور وفاقی آئینی ڈھانچے کا سوال

طارق محمود اعوان کے مطابق پاکستان کو آزادی کے بعد برطانوی دور کا انتظامی نظام ورثے میں ملا، جس میں مرکزی اختیار، عمومی نوعیت کے انتظامی افسران اور کمان کی ایک مربوط زنجیر کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ان کے بقول پاکستان کے آئینی ارتقا کے باوجود سول سروس کا ڈھانچہ اس انداز میں تبدیل نہیں کیا گیا جو ایک وفاقی جمہوریہ کی ضروریات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔

خط میں آئین کے آرٹیکل 1 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہے، لہٰذا ریاستی اداروں کی تنظیم اور انتظامی اختیارات کی تقسیم بھی وفاقی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

طارق محمود اعوان نے خاص طور پر ’’سینٹرل‘‘ اور ’’سپیریئر‘‘ کی اصطلاحات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الفاظ سے ایک ایسے انتظامی تصور کی عکاسی ہوتی ہے جس میں مرکز کو برتر اور دوسرے انتظامی ڈھانچوں کو اس کے ماتحت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی نظام میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں کام کرتی ہیں، اس لیے سول سروس کی اصطلاحات اور ساخت کا جائزہ بھی اسی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔

ان کا استدلال ہے کہ وفاقی نظام میں اختیارات محض مرکز سے صوبوں کو منتقل نہیں کیے جاتے بلکہ آئین خود وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم متعین کرتا ہے۔ اس لیے سول سروس کا ڈھانچہ بھی ایسی تقسیم کا احترام کرے جو صوبائی خودمختاری اور وفاقی ذمہ داریوں کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھ سکے۔

خط میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ جدید حکمرانی کے تقاضے عمومی انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ مخصوص شعبوں میں مہارت، پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی خودمختاری کے متقاضی ہیں۔ صحت، مالیات، توانائی، پولیسنگ، ریگولیشن، شہری انتظام اور ڈیجیٹل گورننس جیسے شعبوں کے لیے متعلقہ مہارت اور تجربے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

آرٹیکل 240 کے تحت سول سروسز کے قانونی قیام پر زور

طارق محمود اعوان نے اپنے خط میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 240 کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سروسز کے قیام، تقرریوں اور ملازمت کی شرائط کے قانونی پہلوؤں کا واضح تعین ضروری ہے۔

آرٹیکل 240 وفاقی امور سے متعلق سروسز، وفاقی عہدوں اور آل پاکستان سروسز کے لیے قانون سازی کا طریقۂ کار بیان کرتا ہے، جبکہ صوبائی سروسز اور صوبائی عہدوں کے لیے متعلقہ صوبائی قانون سازی کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سول سرونٹس کے ملازمت کے قواعد اور شرائط کا تعین کرنے والے قوانین اور کسی مخصوص سروس یا کیڈر کے قانونی قیام کے سوال کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ طارق محمود اعوان کے مطابق موجودہ نظام میں متعدد سروسز کی تشکیل، تنظیم نو اور ناموں میں تبدیلی انتظامی احکامات، قواعد اور نوٹیفکیشنز کے ذریعے ہوئی، اس لیے ہر سروس کے قانونی جواز اور متعلقہ قانون سازی کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ سروسز اور کیڈرز کی قانونی بنیاد واضح کی جائے اور جہاں ضروری ہو، انہیں مجاز مقننہ کے ایکٹ کے ذریعے باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واضح قانون سازی سے تقرریوں کے اختیار، سروس کے دائرۂ کار، ملازمت کی شرائط اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں میں شفافیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس سے انتظامی صوابدید کے دائرے کو واضح کرنے اور سرکاری ملازمتوں کے نظام کو زیادہ منظم بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے اختیارات کا معاملہ

طارق محمود اعوان نے آئین کے آرٹیکل 242 کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) اور صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے دائرۂ اختیار کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

خط میں ان کا مؤقف ہے کہ وفاقی پبلک سروس کمیشن کو وفاقی امور سے متعلق تقرریوں اور صوبائی پبلک سروس کمیشنز کو صوبائی امور سے متعلق بھرتیوں کے لیے واضح طور پر ذمہ دار بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی اداروں کے اختیارات میں ایسی وضاحت ضروری ہے جس سے کسی دوسرے آئینی دائرۂ اختیار میں غیر ضروری مداخلت کا تاثر پیدا نہ ہو۔

انہوں نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنرز کی بھرتی اور پولیس سروس کے تحت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کی تقرری کے طریقۂ کار کو اس بحث کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ان عہدوں کی نوعیت، متعلقہ سروسز کی قانونی حیثیت اور وفاقی و صوبائی ذمہ داریوں کے درمیان تعلق کا آئینی جائزہ ضروری ہے۔

خط میں آرٹیکلز 97، 137 اور 142 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی انتظامی اختیارات کی حدود کو آئینی و قانونی بنیادوں پر واضح کیا جانا چاہیے۔ طارق محمود اعوان کے مطابق بھرتی کے نظام میں ایسی اصلاحات ہونی چاہئیں جو متعلقہ اداروں کے دائرۂ اختیار اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔

تاہم، خط میں پیش کیے گئے ان نکات کو قانونی طور پر طے شدہ نتیجہ قرار دینے کے بجائے آئینی تشریح اور انتظامی اصلاحات سے متعلق مصنف کے مؤقف اور سوالات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان تجاویز پر عمل درآمد سے قبل متعلقہ آئینی دفعات، سول سروس قوانین، سروس رولز اور موجودہ عدالتی تشریحات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوگا۔

عمومی نوعیت کے کیڈرز کے بجائے تخصص پر مبنی بھرتی کی تجویز

خط میں سول سروس کے عمومی نوعیت کے کیڈرز پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ طارق محمود اعوان کے مطابق موجودہ نظام میں ایک ہی مسابقتی امتحان کے ذریعے مختلف نوعیت کے شعبوں کے لیے افسران منتخب کیے جاتے ہیں، حالانکہ ہر شعبے کے تقاضے، فنی ضروریات اور پیشہ ورانہ اہلیت مختلف ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جدید ریاستی نظم و نسق میں اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایسے افراد کی بھرتی ضروری ہے جن کے پاس متعلقہ شعبے کا علم، مناسب تربیت اور عملی مہارت موجود ہو۔ ان کے مطابق عمومی نوعیت کے کیڈرز میں ترقی کے روایتی راستوں کے باعث بعض اوقات اداروں کی تخصصی ضروریات اور افسران کے کیریئر کے تقاضوں کے درمیان عدم مطابقت پیدا ہو سکتی ہے۔

طارق محمود اعوان نے تجویز دی ہے کہ ہر وزارت اور متعلقہ ادارے کو اپنی حقیقی ضروریات کے مطابق اہلکاروں اور افسران کی بھرتی کا مؤثر نظام فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق مالیات، محصولات، تجارت، کسٹمز، اطلاعات، مواصلات اور دیگر شعبوں کے لیے متعلقہ مہارت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

خط میں ان لینڈ ریونیو سروس، کامرس اینڈ ٹریڈ سروس اور کسٹمز سروس کو ایک وسیع تر ریونیو اور مالیاتی انتظامی ڈھانچے میں ضم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اسی طرح پوسٹل سروس کو وزارتِ مواصلات کے تحت مربوط کرنے اور ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس گروپ کے انتظامی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔

آفس مینجمنٹ گروپ اور انفارمیشن گروپ کے حوالے سے بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی بھرتی اور ترقی کے نظام کو متعلقہ اداروں کی حقیقی ضروریات اور پیشہ ورانہ مہارت کے مطابق مرتب کیا جانا چاہیے۔

ان تجاویز کا بنیادی مقصد، خط کے مطابق، ایسے انتظامی نظام کی تشکیل ہے جس میں ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں کے لیے موزوں انسانی وسائل حاصل کر سکے اور افسران کی تقرری و ترقی کا طریقۂ کار ادارہ جاتی کارکردگی سے مربوط ہو۔

پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس پر بھی سوالات

طارق محمود اعوان نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس (پی اے اے ایس) کے حوالے سے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے کے بعض پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں آڈٹ اور اکاؤنٹس کے فرائض کے درمیان مناسب پیشہ ورانہ علیحدگی اور ادارہ جاتی خودمختاری کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔

ان کے مطابق آڈٹ کے عمل میں غیر جانب داری اور آزادانہ جانچ بنیادی اصول ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اکاؤنٹس سے متعلق ذمہ داریاں ادا کرنے والے انتظامی ڈھانچے اور ان حسابات کے آڈٹ کے عمل کے درمیان مؤثر علیحدگی کس طرح یقینی بنائی جا سکتی ہے۔

خط میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آئینی کردار اور پیشہ ورانہ آڈٹ صلاحیتوں کے بہتر استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے۔ طارق محمود اعوان کے مطابق آڈٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایسے انتظامی اور پیشہ ورانہ طریقۂ کار پر غور کیا جانا چاہیے جو شفافیت، غیر جانب داری اور جواب دہی کو مضبوط بنائیں۔

یہ تجویز سرکاری مالیاتی نظام میں آڈٹ کی آزادی اور اکاؤنٹس کی تیاری و جانچ کے درمیان ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق ایک اہم پالیسی بحث کو سامنے لاتی ہے۔ تاہم، موجودہ آئینی اور قانونی انتظامات میں تبدیلی کے لیے متعلقہ اداروں کے فرائض، اختیارات اور جواب دہی کے نظام کا تفصیلی جائزہ درکار ہوگا۔

ریلوے اور مشترکہ مفادات کونسل کے انتظامی ڈھانچے کا جائزہ

خط میں پاکستان ریلوے کی سروس اور اس کے انتظامی ڈھانچے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ طارق محمود اعوان نے وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ دوم اور مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے آئینی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے معاملات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ فیصلہ سازی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

ان کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کو آئینی طور پر تفویض کردہ ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کے لیے ایک مضبوط، مستقل اور پیشہ ورانہ انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ خط میں آرٹیکل 154 کا حوالہ دیتے ہوئے کونسل کے مستقل سیکرٹریٹ اور اس کے لیے ایک مشترکہ سروس کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

طارق محمود اعوان کے مطابق ایسی سروس کو وفاق اور صوبوں کے مشترکہ مفادات کے مطابق کام کرنا چاہیے اور اس کا قانونی قیام پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے عمل میں لایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے لیے ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ وفاقی اکائیوں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور مشترکہ معاملات کو مؤثر انداز میں چلانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ کونسل کے سیکرٹریٹ میں ایسی پیشہ ورانہ صلاحیتیں شامل کی جائیں جو توانائی، قدرتی وسائل، بین الصوبائی معاملات اور دیگر مشترکہ شعبوں میں پالیسی سازی اور عمل درآمد کے لیے ضروری ہوں۔

وفاقی حکومت کے حجم اور سول سروس کی ساخت میں توازن

خط میں وفاقی حکومت کے حجم اور سول سروس کی تنظیم کے درمیان تعلق پر بھی بحث کی گئی ہے۔ طارق محمود اعوان کے مطابق حکومت کی ذمہ داریوں اور متعلقہ وزارتوں کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سول سروس کا حجم اور اس کی ساخت طے کی جانی چاہیے۔

ان کا مؤقف ہے کہ انتظامی ڈھانچہ اس انداز میں تشکیل دیا جانا چاہیے کہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں پورا کر سکیں، نہ کہ سروسز کے موجودہ کیڈرز اور ترقی کے راستے حکومتی ڈھانچے کے پھیلاؤ پر اثرانداز ہوں۔

انہوں نے عمومی نوعیت کے کیڈرز کو محدود کرنے، متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی بھرتی بڑھانے اور اداروں کو اپنی انسانی وسائل کی ضروریات کے مطابق اہلکار منتخب کرنے کے زیادہ مؤثر مواقع فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشترکہ مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہونے والے امیدواروں کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مختلف شعبوں کی ضروریات سے مربوط کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تخصص پر مبنی امتحانات، متعلقہ شعبے کی اہلیت اور پیشہ ورانہ تربیت کو زیادہ اہمیت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

کوٹہ نظام اور میرٹ کے بارے میں مؤقف

طارق محمود اعوان نے سی ایس ایس کے بھرتی کے نظام میں میرٹ، صوبائی نمائندگی اور مختلف زمروں کے لیے مخصوص نشستوں کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھلے میرٹ پر بھرتی ہونے والی نشستوں کا تناسب محدود ہے اور باقی نشستیں صوبائی کوٹے اور دیگر مخصوص زمروں کے تحت تقسیم ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق وفاقی نظام میں تمام صوبوں کی مناسب نمائندگی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم بھرتی کے نظام کو پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی ضروریات اور شفاف مسابقت کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے۔

خط میں خواتین، اقلیتوں، معذور افراد اور دیگر مخصوص زمروں کے لیے مختص نشستوں کے علاوہ بعض دیگر بھرتی کے راستوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، خط میں بیان کردہ کھلے میرٹ کے 7.5 فیصد تناسب اور دیگر کوٹہ تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، کیونکہ درست تناسب متعلقہ بھرتی پالیسی، کوٹے کی تعریف اور زیرِ بحث نشستوں کی نوعیت پر منحصر ہو سکتا ہے۔

طارق محمود اعوان کے مطابق بھرتی کا ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو قومی نمائندگی کے تقاضوں اور اہل امیدواروں کے منصفانہ انتخاب کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھ سکے۔

وزیراعظم کو پیش کی گئی اہم تجاویز

طارق محمود اعوان نے اپنے خط میں سول سروس کے نظام میں اصلاحات کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، جن میں نمایاں نکات یہ ہیں:

  • موجودہ سی ایس ایس پر مبنی سول سروس کے ڈھانچے کا آئینی، قانونی اور انتظامی جائزہ لیا جائے۔
  • وفاقی اور صوبائی سروسز کے قیام اور ان کی قانونی حیثیت کو واضح کیا جائے، اور جہاں ضروری ہو، مجاز مقننہ کے ایکٹ کے ذریعے انہیں باقاعدہ قانونی بنیاد فراہم کی جائے۔
  • وفاقی پبلک سروس کمیشن اور صوبائی پبلک سروس کمیشنز کے دائرۂ اختیار کو واضح کرکے ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
  • عمومی نوعیت کے کیڈرز کے بجائے متعلقہ شعبوں کی ضروریات کے مطابق تخصص پر مبنی بھرتی اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دیا جائے۔
  • مشترکہ مفادات کونسل کے لیے مستقل سیکرٹریٹ اور ایک مشترکہ سروس کے قیام پر غور کیا جائے۔
  • مختلف سروسز اور گروپس کی تنظیم نو کرکے غیر ضروری تکرار اور انتظامی پیچیدگیوں کو کم کیا جائے۔
  • سول سروس کی ساخت اور حجم کا تعین حکومتی ذمہ داریوں، ادارہ جاتی ضروریات اور عوامی خدمت کے تقاضوں کے مطابق کیا جائے۔
  • میرٹ، صوبائی نمائندگی، شفافیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جائے۔

سول سروس اصلاحات پر نئی بحث کی ضرورت

طارق محمود اعوان کے وزیراعظم کو بھیجے گئے خط نے پاکستان کے سول سروس نظام کی ساخت، بھرتی کے طریقۂ کار اور وفاقی آئینی اصولوں کے ساتھ اس کی مطابقت سے متعلق اہم سوالات سامنے رکھے ہیں۔ خط میں پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے صوبائی خودمختاری، ادارہ جاتی تخصص اور سرکاری کارکردگی کو بہتر بنانے کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم، سی ایس ایس امتحان اور اس سے وابستہ سروسز کو مکمل طور پر ختم کرنے یا ان کی جگہ نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ ایک وسیع آئینی، قانونی، انتظامی اور پالیسی جائزے کا متقاضی ہوگا۔ اس عمل میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ سروس کمیشنز، سول سروس کے نمائندوں، ماہرینِ قانون اور انتظامی اصلاحات کے اداروں کی مشاورت اہم ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر طارق محمود اعوان کی تجاویز کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی سول سروس کو ایک ایسے نظام میں تبدیل کیا جائے جو وفاقی آئین کی روح سے ہم آہنگ، پیشہ ورانہ مہارت پر مبنی، شفاف اور جدید حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق ملک کی انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری عہدوں، سروسز اور بھرتی کے طریقۂ کار کا تعین واضح قانونی بنیادوں اور اداروں کی حقیقی ضروریات کے مطابق کیا جائے۔

اب اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ سی ایس ایس نظام میں مرحلہ وار اصلاحات کافی ہوں گی یا پاکستان کو سول سروس کی تنظیم اور بھرتی کے لیے ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے۔ اس سوال کا جواب آئینی تشریح، قانونی جائزے اور وفاقی و صوبائی سطح پر وسیع مشاورت کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button