
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت میں عوامی مسائل حل نہیں ہوئے، شہباز شریف
وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر توجہ دینے کا حکم، دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کا اعتراف، پولیس کی استعداد بڑھانے اور سیف سٹی منصوبے قائم کرنے پر زور
سید عاطف ندیم- ادارت پاکستان
اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز، پاکستان): وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تقریباً 13 سالہ دورِ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی ترقیاتی ضروریات کو مطلوبہ ترجیح نہیں دی گئی، جبکہ سیاسی نعروں اور تقسیم پر مبنی سیاست کے باعث متعدد عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور قلیل مدتی فلاحی منصوبوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ صوبے کے شہریوں، پولیس، مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھاری قیمت ادا کی، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے باعث نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ قومی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور معاشرتی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ان کے مطابق ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی، مؤثر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومتوں کی کارکردگی، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، پولیس کی استعداد، نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والے وسائل، گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے، وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا صوبہ رہا ہے۔ یہاں کے عوام نے دہشت گردی کے نتیجے میں جانی، مالی اور معاشرتی نقصانات برداشت کیے، جبکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے امن کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف فوجی کارروائیوں سے حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے لیے مضبوط پولیس نظام، مؤثر انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، عوامی تعاون اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری قوم اور ریاستی اداروں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کوششیں کیں۔ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی نے ملک میں امن کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے تدارک کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے اور صوبے کی ترقی، امن و امان اور عوامی فلاح کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول آج بھی قوم کے لیے ایک گہرا زخم ہے
وزیراعظم نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر دہشت گرد حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے تاریک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے اور معصوم بچوں کی شہادت آج بھی پوری قوم کے لیے ایک گہرا زخم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے نے پاکستانی معاشرے کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا واضح پیغام دیا تھا۔ سانحے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے لیے قومی سطح پر عزم کا اظہار کیا گیا۔
شہباز شریف کے مطابق اس نوعیت کے واقعات اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے طویل عرصے تک دہشت گردی کے اثرات برداشت کیے ہیں، اس لیے صوبے میں امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت پر تنقید، ترقیاتی منصوبوں پر سوالات
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے طویل دورِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے متعدد علاقوں میں بنیادی مسائل کے حل اور عوامی سہولتوں کی فراہمی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کو ترجیح دی گئی، جبکہ پشاور، کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع سمیت مختلف علاقوں کے متعدد مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کو ہدایت کی کہ وہ عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے منصوبوں پر توجہ دے جن کے نتائج مختصر مدت میں سامنے آ سکیں اور جن سے عام شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری آئے۔
ان کے مطابق سیاست کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو محض بیانات اور الزامات تک محدود رہنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار، شہری سہولتوں اور امن و امان جیسے معاملات پر عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
وزیراعظم کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ عوامی فلاح کے منصوبوں کو بھی نمایاں کرنا چاہتی ہے۔
تاہم، صوبے میں ترقیاتی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے لیے مختلف ادوار میں مختص کیے گئے بجٹ، مکمل ہونے والے منصوبوں، عوامی خدمات کے اعداد و شمار اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہوگا۔
دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے اور افغانستان سے متعلق الزامات
شہباز شریف نے دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 2019 اور 2020 کے دوران افغانستان سے بعض دہشت گردوں کو واپس لا کر پاکستان میں دوبارہ آباد کیا گیا تھا۔
وزیراعظم کے مطابق ایسے اقدامات کے نتیجے میں ملک کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچا اور دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت متاثر ہوئی۔
تاہم، ان الزامات کی مکمل جانچ کے لیے متعلقہ پالیسی فیصلوں، سکیورٹی اداروں کی رپورٹس اور دیگر شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں کے مؤقف میں اختلاف پایا جا سکتا ہے، اس لیے الزامات کو وزیراعظم سے منسوب کرتے ہوئے پیش کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کو حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی، خصوصاً افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں مؤثر سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
وزیراعظم کے خطاب میں دہشت گردی کے مسئلے پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان تعاون کی ضرورت بھی نمایاں رہی۔ ان کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی سلامتی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
2026 کے پہلے نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس آپریشنز کا ذکر
وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فراہم کردہ معلومات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 5,143 آپریشنز کیے، جن میں 2,410 دہشت گردوں کو ہلاک یا ناکارہ بنایا گیا۔
یہ اعداد و شمار ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، ان کارروائیوں کے جغرافیائی پھیلاؤ، مختلف علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں اور نتائج کی مکمل تصویر کے لیے وزارتِ داخلہ کی اصل رپورٹ اور متعلقہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا بنیادی مقصد خفیہ معلومات کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نیٹ ورکس اور ممکنہ حملوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے سکیورٹی ادارے مخصوص اہداف کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر پولیس، انسدادِ دہشت گردی کے محکموں اور دیگر سکیورٹی اداروں کی صلاحیت بڑھانے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔
وزیراعظم کے مؤقف کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید وسائل، بہتر تربیت اور مؤثر نگرانی کے نظام سے لیس کرنا ضروری ہے تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
این ایف سی ایوارڈ کے تحت اضافی وسائل اور صوبائی اخراجات پر سوال
وزیراعظم شہباز شریف نے 2010 کے ساتویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لیے دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی حیثیت سے وفاقی وسائل میں اضافی ایک فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو اس مد میں تقریباً 800 ارب روپے ملے، لیکن اس رقم کو انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور پولیس کی تقریباً پانچ ہزار خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
ان کے مطابق صوبے کو دستیاب وسائل کا استعمال پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے، جدید ہتھیاروں اور آلات کی فراہمی، تربیت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر کیا جانا چاہیے تھا۔
یہ معاملہ صوبائی مالیاتی انتظام اور امن و امان کے اخراجات سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ تاہم، این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص وسائل، ان کی اصل ادائیگیوں اور صوبے کے اخراجات کی مکمل تصویر کے لیے مالیاتی دستاویزات اور آڈٹ رپورٹس کی جانچ ضروری ہے۔
اسی طرح صوبے میں پولیس کی خالی اسامیوں، بھرتیوں، سیف سٹی منصوبوں اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مختص بجٹ کے بارے میں درست صورتِ حال جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری اعداد و شمار سامنے لانا اہم ہوگا۔
سیف سٹی منصوبے اور پولیس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبوں کی تعداد اور پولیس کی خالی اسامیوں کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔
سیف سٹی منصوبوں میں عموماً نگرانی کے کیمرے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، مواصلاتی نظام اور جرائم یا دہشت گردی کے ممکنہ واقعات پر فوری ردعمل کے لیے تکنیکی سہولتیں شامل ہوتی ہیں۔
ایسے منصوبوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی، شواہد جمع کرنے اور ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ ٹیموں کو بروقت متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، سیف سٹی نظام کی افادیت کا انحصار صرف کیمروں کی تنصیب پر نہیں بلکہ تربیت یافتہ عملے، مؤثر نگرانی، ڈیٹا کے محفوظ استعمال، فوری ردعمل اور پولیس کے دیگر شعبوں کے ساتھ رابطے پر بھی ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس کو جدید وسائل اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق دستیاب وسائل کو ایسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
2014 کا دھرنا اور پاک چین اقتصادی تعاون
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں 2014 کے سیاسی دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی احتجاجی صورتِ حال کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان ملتوی ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر نے بالآخر 2015 میں پاکستان کا دورہ کیا، جس کے دوران متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
یہ دورہ پاکستان اور چین کے اقتصادی تعلقات کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت اہم منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
وزیراعظم کے اس بیان کا مقصد سیاسی احتجاج اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنا تھا۔ ان کے مطابق ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل اہم ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں توانائی، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے، صنعتی ترقی اور علاقائی رابطوں جیسے شعبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، مؤثر عمل درآمد اور طویل مدتی اقتصادی منصوبہ بندی کی ضرورت رہتی ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام حالات کی سنگینی کے پیش نظر ناگزیر ہو گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل کمیٹیوں نے تقریباً 48 گھنٹے تک بات چیت کی۔
وزیراعظم کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک مسودہ تیار کیا گیا، تاہم اس پر اتفاق رائے کے باوجود اسے حتمی منظوری نہیں مل سکی۔ ان کے بقول صورتِ حال ایسی ہو گئی تھی کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کے تحفظ کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ مزید تاخیر صوبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی، اسی لیے حکومت نے دستیاب حالات کی روشنی میں یہ قدم اٹھایا۔
تاہم، گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات آئینی، قانونی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کے جواز کا جائزہ متعلقہ آئینی دفعات، قانونی تقاضوں، متعلقہ اداروں کے مؤقف اور دستیاب شواہد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
اس معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے مؤقف میں اختلاف ہو تو خبر میں دونوں جانب کے مؤقف کو مناسب جگہ دینا صحافتی توازن کے لیے ضروری ہے۔
عوام کو ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے کی سبسڈی
وزیراعظم نے عالمی حالات اور خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
ان کے مطابق ایندھن پر سبسڈی کے ایک منصوبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے لیے عوام کو معاشی دباؤ سے بچانا اور بنیادی ضروریات تک رسائی کو ممکن بنانا اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے متعدد معاشی چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خورونوش کی ترسیل، صنعتی پیداوار اور دیگر شعبوں پر مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے کم آمدنی والے طبقات کے گھریلو بجٹ پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومتیں مختلف اوقات میں سبسڈی یا دیگر امدادی اقدامات کے ذریعے اس اثر کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم، 75 ارب روپے کے منصوبے کے تحت مستفید ہونے والے افراد کی تعداد، امداد کے طریقۂ کار، اہلیت کے معیار اور ادائیگیوں کی تفصیلات کی تصدیق متعلقہ سرکاری دستاویزات سے کی جانی چاہیے تاکہ اس منصوبے کے حقیقی دائرۂ کار اور نتائج کو واضح کیا جا سکے۔
معاشی استحکام اور سیاسی و عسکری قیادت میں تعاون
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت نے مل کر کام کیا ہے۔
ان کے مطابق معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، سرمایہ کاروں کا اعتماد، مالیاتی نظم و ضبط اور قومی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
پاکستان کو مہنگائی، توانائی کے اخراجات، بیرونی ادائیگیوں اور روزگار کے مواقع جیسے متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے نتائج کو جانچنے کے لیے متعلقہ اقتصادی اعداد و شمار اور زمینی حقائق اہمیت رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی ترقی، خوشحالی اور عوامی بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
انہوں نے بالخصوص خیبر پختونخوا میں عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں دہشت گردی کے طویل اثرات اور بنیادی سہولتوں کی ضروریات بدستور اہم چیلنجز سمجھی جاتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کے لیے عوامی خدمت کا پیغام
وزیراعظم کے خطاب کا ایک اہم پہلو مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا میں قیادت کو عوامی فلاح کے منصوبوں پر توجہ دینے کی ہدایت تھی۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کے روزمرہ مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، بہتر شہری سہولتوں اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے قابلِ عمل منصوبوں کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، پولیس کی استعداد میں اضافہ اور مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کا نفاذ ایسے شعبے ہیں جن میں مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کے بیان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو صوبے میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ عوامی خدمت کے ایسے اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے جن کے فوائد شہریوں تک پہنچ سکیں۔
تاہم، ان اہداف کے حصول کے لیے واضح منصوبہ بندی، دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال، شفاف نگرانی اور متعلقہ صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
نتیجہ: امن، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور
وزیراعظم شہباز شریف کے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتِ حال، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت پر تنقید، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی قربانیوں، پولیس کی استعداد، مالی وسائل کے استعمال اور وفاقی حکومت کے معاشی اقدامات کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا کے عوام اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی بہتری اور عوامی سہولتوں کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ہدایت کی کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت اور مختصر مدت میں نتائج دینے والے منصوبوں کو ترجیح دے۔
دوسری جانب، صوبے میں گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی، این ایف سی وسائل کے استعمال، پولیس کی خالی اسامیوں اور گورنر راج کے فیصلے سے متعلق وزیراعظم کے دعووں کی مکمل جانچ کے لیے سرکاری ریکارڈ، مالیاتی اعداد و شمار اور متعلقہ سیاسی فریقوں کے مؤقف کا جائزہ ضروری ہوگا۔
مجموعی طور پر وزیراعظم کا پیغام یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے سیاسی قیادت، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔



