اہم خبریںپاکستان

وفاقی کابینہ کے اہم فیصلے؛ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران وزیراعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے، نئے کرنسی نوٹوں اور 10 روپے کے سکے کی منظوری

اس سلسلے میں وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ کو تفویض کردہ روزمرہ انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس، گورنر خیبرپختونخوا کو اختیارات کے استعمال کی ماہانہ رپورٹ وفاق کو پیش کرنے کی ہدایت، پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق، نئے کرنسی نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز اور پائیدار میٹریل استعمال کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا کے انتظامی معاملات، ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کی تیاریوں، 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ سکے کے استعمال اور پاکستان و کویت کے درمیان دفاعی تعاون سمیت متعدد اہم امور سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

فراہم کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران صوبائی انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے وزیراعلیٰ کو تفویض کردہ اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے میں انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا، حکومتی امور میں تسلسل برقرار رکھنا اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کو منظم کرنا بتایا گیا ہے۔

کابینہ نے گورنر خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ وہ منتقل کردہ اختیارات کے استعمال، انتظامی فیصلوں اور صوبائی امور سے متعلق ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں تاکہ صوبے میں انتظامی کارکردگی اور حکومتی اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکے۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق سمیت کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی انتظامی صورتحال اور صوبے میں حکومتی امور کی انجام دہی سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے دوران انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلانے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے انتظامی اختیارات کی منتقلی ضروری سمجھی گئی ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ کو تفویض کردہ روزمرہ انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر بنانا، سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری مؤثر کرنا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے فیصلہ سازی کے عمل کو سہل بنانا ہے۔

تاہم اس فیصلے کے آئینی اور قانونی دائرہ کار کی اہمیت بھی اپنی جگہ موجود ہے، کیونکہ پاکستان کے آئینی نظام میں صوبائی حکومتوں کے اختیارات، گورنر کے کردار اور ہنگامی حالات میں وفاقی مداخلت کے لیے مخصوص آئینی طریقہ کار مقرر ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا ہر ماہ وفاقی حکومت کو کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے

وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا منتقل کردہ انتظامی اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ماہانہ بنیادوں پر وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے۔

اس رپورٹ کا مقصد انتظامی فیصلوں، صوبائی امور اور متعلقہ اقدامات کا جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔

ماہانہ رپورٹنگ کے نظام کے ذریعے وفاقی حکومت صوبے میں کیے جانے والے اقدامات، انتظامی ترجیحات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی سے آگاہ رہ سکے گی۔

کابینہ نے امید ظاہر کی کہ گورنر کی قیادت میں انتظامی ادارے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود، امن و امان کی بہتری اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔

خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل سے امن و امان اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر کردار کی توقع

وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کے کردار سے متعلق بھی امید ظاہر کی کہ یہ کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبے کے عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے بھرپور کوششیں کرے گی۔

کابینہ کے مطابق صوبے میں امن و امان کا قیام، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی امور کی بہتری اہم ترجیحات ہوں گی۔

خیبرپختونخوا کو گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور انتظامی نوعیت کے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں صوبائی اداروں کی مؤثر کارکردگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

مبصرین کے مطابق صوبے میں انتظامی اختیارات کی کسی بھی غیر معمولی منتقلی کے نتیجے میں عوامی خدمات کے تسلسل کے ساتھ ساتھ آئینی تقاضوں، صوبائی خودمختاری اور سیاسی نمائندگی سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے اختیارات کی منتقلی اور آئینی پہلو

خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری پاکستان کے آئینی اور وفاقی نظام کے حوالے سے ایک غیر معمولی نوعیت کا معاملہ ہے۔

آئینِ پاکستان کے تحت صوبائی حکومت کا انتظامی اختیار عمومی طور پر وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے ذریعے استعمال ہوتا ہے، جبکہ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہوتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں مخصوص حالات کے دوران ہنگامی اقدامات اور صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی سے متعلق الگ الگ انتظامات موجود ہیں۔

ان دفعات کے تحت کسی بھی غیر معمولی اقدام کے لیے متعلقہ آئینی شرائط، باضابطہ اعلامیوں اور پارلیمانی تقاضوں کی اہمیت ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کے لیے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں انتظامی اختیارات کی منتقلی کس مخصوص آئینی شق اور قانونی حکم کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے، اور اس کی مدت، حدود اور نگرانی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری اور آئینی طور پر اختیارات کی مؤثر منتقلی دو الگ قانونی مراحل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے فیصلے کے عملی نفاذ کی حتمی نوعیت متعلقہ سرکاری اعلامیے، آئینی حکم اور قانونی دستاویزات سے واضح ہوگی۔

نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری، جدید خصوصیات متعارف کرانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر پاکستان میں نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری بھی دے دی۔

اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری، ان کے ڈیزائن، سیکیورٹی خصوصیات اور استعمال ہونے والے میٹریل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی تیاری کے لیے ملک بھر سے مصوروں، ڈیزائنرز اور تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد کی تجاویز حاصل کی گئیں۔

وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے بھی متعلقہ اداروں اور دیگر فریقوں سے مشاورت کی، جس کے بعد ڈیزائن کی تجاویز منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں۔

حکومتی بریفنگ کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر معیار کے میٹریل کے استعمال کو اہمیت دی جائے گی تاکہ نوٹوں کی حفاظت اور پائیداری میں اضافہ کیا جا سکے۔

جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے جدید سیکیورٹی فیچرز

وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں جعل سازی کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی فیچرز بہتر بنائے جائیں گے۔

جدید کرنسی نوٹوں میں دنیا بھر میں مختلف حفاظتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں خصوصی واٹر مارکس، سیکیورٹی تھریڈز، مائیکرو پرنٹنگ، مخصوص روشنائی اور دیگر جدید تکنیکی خصوصیات شامل ہو سکتی ہیں۔

تاہم پاکستان کے نئے کرنسی نوٹوں میں کون سے مخصوص سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے، اس کی مکمل تفصیلات فراہم کردہ اعلامیے میں بیان نہیں کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق بہتر سیکیورٹی خصوصیات کے حامل نوٹ جعلی کرنسی کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد بڑھانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

جدید میٹریل کے استعمال سے کرنسی نوٹوں کی عمر میں اضافہ ہونے کی بھی توقع کی جاتی ہے، جس سے طویل مدت میں خراب یا ناکارہ نوٹوں کی تبدیلی اور دوبارہ چھپائی کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی منظوری

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے سے متعلق کیا گیا۔

کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی، جس کے تحت 10 روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ سکے کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔

عام طور پر کم مالیت کے کرنسی نوٹ زیادہ استعمال ہونے کے باعث جلد خراب ہو جاتے ہیں، جبکہ دھاتی سکے نسبتاً زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہ سکتے ہیں۔

اس تناظر میں 10 روپے کے سکے کے استعمال کو بڑھانے سے کرنسی کی تبدیلی اور نئے نوٹوں کی چھپائی کے بعض اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں 10 روپے کا سکہ پہلے سے موجود ہے، اس لیے اس فیصلے کو بالکل نئے مالیتی سکے کے اجرا کے بجائے 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ سکے کے استعمال سے متعلق پالیسی اقدام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

البتہ کابینہ کے فیصلے کے بعد 10 روپے کے موجودہ کاغذی نوٹ کی قانونی حیثیت، اس کی ممکنہ مرحلہ وار واپسی اور نئے انتظامات کے نفاذ کی تاریخ سے متعلق تفصیلات ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔

کیا پرانے کرنسی نوٹ فوری طور پر بند ہو جائیں گے؟

نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری کے بعد عوام کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ کرنسی نوٹ فوری طور پر بند ہو جائیں گے یا نئے نوٹ مرحلہ وار متعارف کرائے جائیں گے۔

فراہم کردہ سرکاری معلومات میں موجودہ کرنسی نوٹوں کی فوری منسوخی یا انہیں کسی مخصوص تاریخ تک تبدیل کرانے کی ہدایت شامل نہیں ہے۔

نئے نوٹوں کے اجرا، پرانے نوٹوں کی قانونی حیثیت اور ممکنہ تبدیلی کے طریقہ کار سے متعلق حتمی تفصیلات اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ حکام کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔

اس لیے شہریوں کو کسی غیر مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر موجودہ نوٹ تبدیل کرانے یا انہیں ناقابلِ استعمال سمجھنے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی بھی توثیق کر دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کویتی حکومت نے بھی 19 جولائی کو اس معاہدے کی توثیق کی تھی، تاہم اس تاریخ کے ساتھ سال کی وضاحت موجود نہیں۔

پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں، جن میں سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو اہم مقام حاصل ہے۔

دفاعی تعاون سے متعلق معاہدوں کے ذریعے ممالک باہمی رابطوں، ادارہ جاتی تعاون، تربیت اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے جیسے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔

تاہم زیرِ بحث معاہدے کی مکمل شقیں فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اس کے تحت کسی مخصوص مشترکہ فوجی سرگرمی، تربیتی پروگرام یا دفاعی منصوبے کو حتمی طور پر معاہدے کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان اور کویت کے دفاعی تعلقات کی علاقائی اہمیت

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت خلیجی خطے کی سلامتی اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔

دوسری جانب کویت کے لیے بھی علاقائی استحکام، دفاعی صلاحیتوں کی بہتری اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون اہمیت رکھتا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ دونوں ممالک کے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس تعاون کی عملی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین معاہدے کی متعلقہ شقوں اور دونوں حکومتوں کے آئندہ فیصلوں کے مطابق ہوگا۔

حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں، سی سی او ایس او ایز (CCOSOEs)، کے 26 اکتوبر کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔

یہ کمیٹی حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق پالیسی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

پاکستان میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط، انتظامی اصلاحات اور حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال جیسے معاملات معاشی پالیسی کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

تاہم فراہم کردہ اعلامیے میں 26 اکتوبر کے اجلاس میں کیے گئے انفرادی فیصلوں کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان کی نوعیت یا ممکنہ مالی اثرات کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے متعدد فیصلوں کی منظوری

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے مقدمات، سی سی ایل سی (CCLC)، کے مختلف اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔

ان میں 22 جنوری، 26 فروری، 5 اگست، 18 اگست، 27 اگست، 11 ستمبر اور 22 ستمبر کے اجلاس شامل ہیں۔

کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے مقدمات حکومتی قانونی تجاویز، مجوزہ قوانین، قواعد اور متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کابینہ کی جانب سے ان فیصلوں کی توثیق متعلقہ حکومتی امور کو آگے بڑھانے کے لیے ایک انتظامی مرحلہ ہے۔

البتہ فراہم کردہ تفصیلات میں ان اجلاسوں کے مخصوص قانونی مسودوں یا فیصلوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔

وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے سیاسی، انتظامی اور معاشی اثرات

وفاقی کابینہ کے حالیہ فیصلے مختلف نوعیت کے معاملات کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں صوبائی انتظامی اختیارات، مالیاتی نظام کی جدید کاری، دفاعی تعاون اور حکومتی اداروں سے متعلق اصلاحاتی امور شامل ہیں۔

ان فیصلوں میں خیبرپختونخوا کے انتظامی اختیارات کی منتقلی سب سے زیادہ آئینی اور سیاسی اہمیت کا حامل معاملہ ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق صوبائی حکومت کے اختیارات اور وفاقی نظام سے ہے۔

اسی طرح نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ سکے کے استعمال کا فیصلہ عام شہریوں، بینکاری نظام اور روزمرہ مالی لین دین سے متعلق ہے۔

پاکستان اور کویت کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق دونوں ممالک کے تعلقات میں ادارہ جاتی تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔

مبصرین کے مطابق ان فیصلوں کے حقیقی اثرات کا اندازہ ان کے نفاذ، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی ہدایات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

اہم فیصلوں پر عمل درآمد اور شفافیت بنیادی تقاضے

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے حکومتی پالیسی کے مختلف شعبوں میں اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران انتظامی اختیارات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ صوبائی نظم و نسق اور آئینی معاملات کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ کرنسی نوٹوں کی جدید کاری اور 10 روپے کے سکے سے متعلق اقدامات مالیاتی نظام کی بہتری سے منسلک ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق دوطرفہ تعلقات کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہے۔

وفاقی کابینہ کے ان فیصلوں کی کامیابی کا بنیادی انحصار آئینی و قانونی تقاضوں کی پابندی، انتظامی شفافیت، متعلقہ اداروں کی مؤثر کارکردگی اور عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے پر ہوگا۔

ادارتی نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ کابینہ اعلامیے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ خصوصاً خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، وزیراعلیٰ کے اختیارات کی منتقلی اور گورنر کے قانونی اختیار سے متعلق اصل آئینی حکم یا سرکاری گزٹ کی تصدیق اشاعت سے قبل ضروری ہے۔ نئے کرنسی نوٹوں کی منظوری کو ان کے فوری اجرا یا موجودہ نوٹوں کی منسوخی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے.

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button