
عوام کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح، ایل پی جی مافیا کا دور ختم ہو چکا، دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 28 ارب روپے جاری کیے ہیں اور اب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد براہِ راست اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا، توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا اور ملک کو معاشی و سکیورٹی چیلنجز سے نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی فراہمی میں غیر شفاف طریقوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ موسم سرما کے دوران عوام کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) کے ذریعے ایل پی جی کی شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ صارفین کو مناسب قیمتوں پر ایندھن دستیاب ہو اور مصنوعی قلت و ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
وزیراعظم نے عوامی ریلیف کے لیے حکومتی اقدامات، فیول سبسڈی اسکیم، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 28 ارب روپے جاری کیے ہیں اور اب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد براہِ راست اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔
ایل پی جی مافیا کا دور ختم، توانائی کی فراہمی میں شفافیت یقینی بنائیں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کے شعبے میں غیر شفاف کاروباری طریقوں، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ایل پی جی مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘‘
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ ایل پی جی کی درآمد، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں مسابقت اور شفافیت کو فروغ دیا جائے تاکہ چند مخصوص کاروباری عناصر کے بجائے صارفین کے مفادات کو ترجیح حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس او، سوئی سدرن اور پارکو جیسے اہم قومی اداروں کے ذریعے توانائی کی فراہمی کے انتظامات بہتر بنائے جا رہے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور شفاف کاروباری انتظامات سے ایل پی جی کی دستیابی بہتر بنانے اور مارکیٹ میں غیر ضروری قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ایل پی جی مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری کے مکمل خاتمے اور قیمتوں میں استحکام کے دعووں کی عملی جانچ کے لیے مارکیٹ کی صورتحال، سرکاری نرخوں اور صارفین کو دستیاب قیمتوں کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
موسم سرما میں گیس اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ موسم سرما میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر حکومت پیشگی انتظامات کر رہی ہے۔
پاکستان میں سردیوں کے دوران گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ صنعتوں، تجارتی اداروں اور دیگر شعبوں کو بھی توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضرورت رہتی ہے۔
ایسے حالات میں قدرتی گیس کی دستیابی، ایل پی جی کی سپلائی اور متبادل توانائی کے ذرائع کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ توانائی کی فراہمی کے انتظامات کو مؤثر بنایا جائے اور عوام کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے بروقت فیصلے کیے جائیں۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق سردیوں میں گیس کی طلب اور دستیاب وسائل کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے درآمدی انتظامات، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، مؤثر تقسیم اور صارفین کے لیے واضح پالیسی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 28 ارب روپے جاری، ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ حکومت نے عوام کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم کے تحت 28 ارب روپے جاری کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد براہِ راست اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی مشکلات کے باوجود عوام پر مالی بوجھ کم سے کم رکھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے مستحق اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف مل سکے۔
فیول سبسڈی جیسے پروگراموں کا بنیادی مقصد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہونے والے صارفین کو مالی معاونت فراہم کرنا ہوتا ہے۔
تاہم فراہم کردہ خطاب میں اس اسکیم کے تحت فی مستفید شخص امداد کی رقم، اہلیت کے معیار اور ادائیگی کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے پروگراموں کی کامیابی کے لیے شفاف مستحقین کی شناخت، بروقت ادائیگیوں اور مؤثر نگرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل کرنے کے بجائے ریفائنریز کو اس کی ذمہ داری اٹھانے کا پابند کیا۔
ان کے مطابق ریفائنریز کو ہدایت کی گئی کہ وہ غیر متوقع اضافی منافع، جسے ونڈ فال پرافٹ کہا جاتا ہے، میں سے یہ بوجھ برداشت کریں۔
وزیراعظم نے اس فیصلے کو عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
ونڈ فال پرافٹ سے مراد ایسا غیر متوقع اضافی منافع ہے جو کسی کمپنی یا کاروباری ادارے کو مخصوص معاشی یا مارکیٹ حالات کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔
حکومت کے مؤقف کے مطابق ایسے حالات میں جب عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بعض کاروباری اداروں کو اضافی مالی فائدہ حاصل ہو، اس فائدے کے ایک حصے کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ریفائنریز پر اس مالی بوجھ کے نفاذ، متعلقہ قانونی یا انتظامی طریقہ کار اور اس کے مالی اثرات کی تفصیلات فراہم کردہ خطاب میں واضح نہیں کی گئیں۔
عالمی توانائی بحران اور پاکستانی معیشت پر اثرات
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث پاکستان بھی مختلف معاشی اور توانائی سے متعلق چیلنجز سے متاثر ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ بیرونی منڈیوں سے حاصل کرتا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں تبدیلی ملکی درآمدی بل، زرمبادلہ کی ضروریات اور صارفین کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عالمی توانائی کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں، سمندری تجارتی راستوں کو لاحق خطرات اور علاقائی تنازعات کے باعث بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں توانائی کے ذخائر، درآمدی ذرائع میں تنوع اور داخلی سطح پر توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ضروری ہوتا ہے۔
دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک ملک میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا، تاہم بعد کے واقعات اور حالات کے باعث دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔
انہوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا دوبارہ بڑھنا ملک کے امن، ترقی اور عوام کے تحفظ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھے گی اور ملک کو اس خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے ریاستی اداروں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں 2018 تک دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ضرور آئی تھی، تاہم اس سال دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ وزیراعظم کا بیان اس عرصے میں حاصل ہونے والی سکیورٹی کامیابیوں کے سیاسی و حکومتی جائزے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و ترقی کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 160 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا قیام اور عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک اہم سرحدی صوبہ ہے، جہاں امن و امان کی صورتحال کا براہِ راست تعلق نہ صرف مقامی آبادی کی زندگی سے ہے بلکہ ملکی سلامتی، تجارت اور معاشی سرگرمیوں سے بھی ہے۔
صوبے کے بعض علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی خدشات نے معمولاتِ زندگی، کاروبار اور ترقیاتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔
اس تناظر میں 160 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری کو ایک اہم مالی اعلان قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس رقم کی تقسیم، منصوبوں کی تفصیلات، فنڈز کے اجرا کے مراحل اور پیکیج کے نفاذ کے لیے مقرر کردہ مدت کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت درکار ہوگی۔
خیبرپختونخوا کی ترقی کو قومی استحکام سے منسلک قرار دیا گیا
وزیراعظم کے خطاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و ترقی کو قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ منسلک کر رہی ہے۔
صوبے میں امن و امان کی بہتری کے ساتھ ساتھ روزگار، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور کاروباری مواقع کی فراہمی بھی طویل المدتی استحکام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور معاشی مواقع میں اضافہ عوامی اعتماد کی بحالی اور مقامی معیشت کی بہتری میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اس کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، وسائل کے شفاف استعمال اور منصوبوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کی امن کوششیں جاری
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن و استحکام کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پاکستان سمیت متعدد ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے تنازعات کا پرامن حل اور سفارتی رابطوں کا تسلسل نہایت ضروری ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ علاقائی معاملات میں بات چیت، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا جائے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور ترکیہ سمیت اہم علاقائی ممالک کے ساتھ روابط کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان کے لیے خطے میں امن و استحکام نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ توانائی کی سلامتی، تجارتی روابط اور معاشی مفادات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران، تہران میں اہم سفارتی رابطے
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم بات چیت ہوئی۔
ان کے مطابق تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفد کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں انتہائی خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئیں۔
وزیراعظم نے ان رابطوں کو علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندوں کی بات چیت علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم فراہم کردہ خطاب میں ان ملاقاتوں کے دوران طے پانے والے کسی مخصوص معاہدے، جنگ بندی کے فیصلے یا مذاکرات کے حتمی نتائج کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
اس لیے ان رابطوں کو مثبت سفارتی پیش رفت کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی حتمی علاقائی سمجھوتے کی تصدیق کے طور پر نہیں۔
ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ رابطوں کی سفارتی اہمیت
ایران، سعودی عرب اور ترکیہ مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے کے اہم ممالک ہیں، جن کے سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق مفادات علاقائی صورتحال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں، تاہم علاقائی امن، توانائی کی سلامتی اور اقتصادی تعاون ایسے معاملات ہیں جن پر مشترکہ مفادات موجود ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستانہ اور دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، تجارت اور علاقائی سلامتی کے معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے قریبی سفارتی، دفاعی اور اقتصادی روابط قائم ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایسے ممالک کے درمیان مسلسل رابطے علاقائی کشیدگی کم کرنے، غلط فہمیوں کے خاتمے اور مذاکرات کے امکانات برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور قومی سلامتی حکومتی ترجیحات
وزیراعظم شہباز شریف کے وفاقی کابینہ سے خطاب میں تین بنیادی موضوعات نمایاں رہے: عوام کو معاشی ریلیف کی فراہمی، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں۔
توانائی کے شعبے میں ایل پی جی کی شفاف فراہمی، فیول سبسڈی کے لیے 28 ارب روپے کا اجرا اور پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہ کرنے سے متعلق اقدامات کو حکومت اپنی عوامی ریلیف پالیسی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکیج اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو داخلی سلامتی اور ترقی کے حوالے سے اہم اقدامات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
علاقائی سطح پر ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سفارتی روابط پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتے ہیں۔
تاہم معاشی اور سلامتی سے متعلق حکومتی اعلانات کے عملی نتائج کا انحصار ان کے نفاذ، مالی وسائل کی دستیابی، ادارہ جاتی تعاون اور زمینی صورتحال میں بہتری پر ہوگا۔
عوامی ریلیف کے وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا اہم چیلنج
پاکستان کو درپیش معاشی اور سلامتی کے چیلنجز کے پیش نظر حکومت کے لیے عوامی ریلیف، توانائی کی دستیابی اور امن و امان کی بہتری اہم ترجیحات ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت عوام کے مفادات کے تحفظ اور معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
تاہم عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ ایل پی جی کی فراہمی میں بہتری، فیول سبسڈی، پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق فیصلوں اور ترقیاتی پیکیجز کے فوائد کس حد تک عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔
وزیراعظم کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ حکومت عوامی ریلیف، توانائی کی سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے بیک وقت کوششیں جاری رکھے گی۔ ان اعلانات کی حقیقی کامیابی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب عوام کو توانائی کی بہتر دستیابی، معاشی سہولت اور امن و امان کی صورتحال میں واضح اور پائیدار بہتری محسوس ہوگی۔



