
جناح کی زندگی کا حاصل "پاکستان” …….پیر مشتاق رضوی
ان کے پاس نہ مال و دولت تھی نہ اقتدار، نہ فوج تھی نہ کوئی جاگیر۔ انہوں نے وکالت کی لاکھوں کی آمدنی قربان کر دی، بمبئی کا عالیشان بنگلہ چھوڑ دیا اور خالی ہاتھ کراچی آ گئے
قائداعظمؒ محمد علی جناح نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1906ء میں کیا جب وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے اور دادابھائی نوروجی کے پرائیویٹ سیکرٹری بنے اس وقت ان کا نظریہ "ہندو مسلم اتحاد” تھا اور انہیں "ہندو مسلم اتحاد کا سفیر” کہا جاتا تھا۔ 1913ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شامل ہوئے اور 1916ء میں لکھنؤ معاہدہ کرواکر دونوں جماعتوں کو ایک میز پر لانے کی کوش کی۔ لیکن ہندوؤں کی تنگ نظری، تعصب اور مسلم دشمنی نے رفتہ رفتہ ان کی سوچ بدل دی۔1920ء میں گاندھی کی تحریک عدم تعاون اور کانگریس میں مذہبی نعروں کے فروغ کے بعد قائداعظمؒ نے اصول کی بنیاد پر کانگریس چھوڑ دی کیونکہ وہ اسے سیاست کے لباس میں لپٹی ہوئی ہندو متعصب ذہنیت سمجھتے تھے۔ 1937ء کے صوبائی انتخابات کے بعد کانگریسی حکومتوں کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہوا، اردو پر پابندی، مساجد کے سامنے بینڈ بجانا، ملازمتوں سے نکالنا اور "بندے ماترم” کو مسلط کرنا، ان سب واقعات نے قائداعظمؒ کو یہ یقین دلا دیا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جان، مال اور تہذیب محفوظ نہیں رہ سکتی اسی لیے 1940ء میں لاہور کی قرارداد پاکستان میں انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کے مذہب، رسم و رواج اور تاریخ جدا ہیں، اس لیے ان کا مستقبل بھی الگ ہونا چاہیے۔ 1929ء میں نہرو رپورٹ کے جواب میں انہوں نے "چودہ نکات” پیش کیے جو مسلمانوں کا پہلا جامع منشور تھا اور دو ٹوک کہا کہ جب تک ان نکات کو تسلیم نہیں کیا جاتا کوئی آئین مسلمانوں کو قابل قبول نہیں ہوگا اس طرح قائداعظمؒ نے اپنی ساری زندگی برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور آزادی کے لیے وقف کر دی۔قائداعظمؒ نے واقعی تنہا ایک ایسی جنگ لڑی جس میں ان کے مقابلے پر ہندو بنیا، کانگریس، احراری اور کانگریسی مولوی، پنجاب کے یونینسٹ جاگیردار اور طاقتور انگریز سامراج سب ایک طرف تھے۔ ان کے پاس نہ مال و دولت تھی نہ اقتدار، نہ فوج تھی نہ کوئی جاگیر۔ انہوں نے وکالت کی لاکھوں کی آمدنی قربان کر دی، بمبئی کا عالیشان بنگلہ چھوڑ دیا اور خالی ہاتھ کراچی آ گئے۔ لیکن ان کے پاس تین چیزیں تھیں جو کسی کے پاس نہیں تھیں: سچائی اور دلیل، دو قومی نظریہ، اور بے مثال استقامت ،انہوں نے گولی کے بجائے آئین کو ہتھیار بنایا، جلسوں میں عوام کو جگایا اور 46۔1945ء کے انتخابات میں ثابت کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے واحد ترجمان ہیں کیونکہ مسلم لیگ نے 90 فیصد سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ اس طرح انہوں نے ہندو بنیے کو ووٹ سے، مولویوں کو دلیل سے، یونینسٹوں کو پنجاب کے میدان میں اور انگریزوں کو مذاکرات کی میز پر شکست دی۔قیام پاکستان کے لیے قائداعظمؒ نے قیادت کا حق اس طرح ادا کیا کہ دن رات کام کر کے اپنی صحت بھی قربان کر دی۔ 1940ء سے 1947ء تک وہ روزانہ 18 سے 20 گھنٹے کام کرتے تھے، سارا برصغیر چھان مارتے تھے، ایک وقت میں انگریزوں، کانگریس اور اپنی پارٹی کے تینوں محاذ سنبھالتے تھے۔اس دوران وہ ٹی بی اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے کہا "مجھے بس دو سال دے دو، پاکستان بن جائے پھر میں مر بھی جاؤں تو پرواہ نہیں”۔ ان کا وزن 36 کلو رہ گیا تھا، وہ آکسیجن سلنڈر ساتھ رکھ کر جلسوں میں دو گھنٹے تقریر کرتے تھے اور اپنی بیماری قوم سے چھپائے رکھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر دشمنوں کو پتہ چل گیا کہ قائداعظمؒ بیمار ہیں تو وہ مذاکرات میں ٹال مٹول کریں گے، کانگریس انتظار کی پالیسی اپنائے گی اور مسلمانوں میں مایوسی پھیل جائے گی۔ اس لیے انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح اور ڈاکٹروں سے بھی کہا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان مکمل ہو جائے چاہے اس کی قیمت ان کی جان ہی کیوں نہ ہو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان بن گیا اور ایک سال بعد 11 ستمبر 1948ء کو وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔قائداعظمؒ کی جلد وفات نوزائیدہ پاکستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوئی۔ ملک بنے ہوئے صرف تیرہ ماہ ہوئے تھے اور فقائداعظمؒ ابھی ریاست کی بنیادیں رکھ رہے تھے۔ ان کی وفات سے آئین سازی کا عمل نو سال تک لٹک گیا، 1956ء میں پہلا آئین بنا۔ ان کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں تھی جس پر تمام صوبوں اور طبقات کا اعتماد ہو، اس خلا کو بیوروکریسی اور فوج نے پر کیا جس سے سیاست کمزور ہوئی۔ ایک کروڑ مہاجرین کی بحالی کا فکام ادھورا رہ گیا کیونکہ قائداعظمؒ خود کیمپوں میں جاتے تھے اور سختی سے کرپشن کے خلاف تھے۔ خارجہ پالیسی میں بھی نقصان ہوا، وہ 1948ء میں خود کشمیر جانا چاہتے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے نہ جا سکے اور مسئلہ آدھا رہ گیا۔ سب سے بڑا نقصان نظریاتی تھا۔ 11 اگست 1947ءکی تقریر میں قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ پاکستان میں ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اقلیتیں آزاد ہیں، قانون کی حکمرانی ہوگی۔ وہ ایک روادار، جمہوری اور انصاف پر مبنی پاکستان چاہتے تھے۔ ان کے بعد مختلف گروہوں نے "اسلامی ریاست” کی اپنی تعبیر پیش کی اور اصل وژن دھندلا پڑ گیا۔ فاطمہ جناح نے لکھا کہ بھائی آخری وقت تک کہتے تھے "کام، کام اور صرف کام”۔قائداعظمؒ نے تن من دھن پاکستان کی خاطر قربان کر کے برصغیر کے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کو تین بنیادی پیغام دیے۔ پہلا پیغام "ایمان، اتحاد، نظم” کا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر قوم ایمان کے ساتھ محنت کرے، متحد رہے اور نظم و ضبط اپنائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ دوسرا پیغام خودداری اور خود انحصاری کا تھا۔ انہوں نے کہا "بھیک نہیں مانگو، اپنا حق چھین کر لو” اور خود اپنی مثال قائم کی۔ تیسرا پیغام یہ تھا کہ "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ”۔ یعنی یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے جہاں انصاف ہوگا، قانون ہوگا اور سب کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ ان کی زندگی خود ایک درس تھی۔ تن سے انہوں نے بیماری کی پرواہ نہیں کی، من سے انہوں نے دس سال تک مخالفت اور گالیاں سہیں لیکن نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے، اور دھن سے انہوں نے کروڑوں کی وکالت چھوڑ دی اور مرتے وقت ان کے پاس چند ہزار روپے تھے۔قائداعظمؒ نے تن تنہا ، بیماری اور ہر قسم کی مخالفت اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر کے ہمیں ایک آزاد وطن دیا تاکہ یہاں ایمان، اتحاد اور نظم کی بنیاد پر انصاف، قانون کی حکمرانی اور رواداری کا نظام قائم ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان مذہبی، لسانی اور صوبائی تعصب سے پاک ہو، کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ ہو، اور ہر شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنی عبادت گاہ میں آزاد ہو۔ لیکن آج کا پاکستان ان کے اس خواب سے کئی جگہ دور نظر آتا ہے۔ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی مگر اتحاد کھو دیا، نظم کی جگہ افراتفری نے لے لی، اور ایمان کو صرف نعروں تک محدود کر دیا۔ معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور نظریے سے دوری وہ زخم ہیں جن کا مداوا صرف قائداعظمؒ کے اصولوں پر واپس آ کر ہی ممکن ہے۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم "کام، کام اور صرف کام” کے قائداعظمؒ کے پیغام کو اپنائیں، ذاتی مفاد سے اوپر قوم کا مفاد رکھیں، اور اس امانت کی حفاظت کریں جو انہوں نے اپنی جان دے کر ہمیں سونپی تھی، تاکہ پاکستان واقعی وہ فلاحی، خودمختار اور باوقار ریاست بن سکے جس کا خواب قائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔ اللہ قائداعظمؒ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو پورا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔


