
حوثیوں کا یمن کے ساحلی شہر مخا پر قبضہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے مخا پر قبضے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل حنیش جزائر پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
وقت اشاعت 14 گھنٹے پہلےآخری اپ ڈیٹ 7 گھنٹے پہلے
حوثیوں کا یمن کے ساحلی شہر مخا پر قبضہ، بحیرہ احمر کے راستے تجارت اور تیل سپلائی کو نیا خطرہ
یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں نے جمعرات کو اہم ساحلی اور بندرگاہی شہر مخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
حوثی باغیوں کے اس اقدام سے عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی امید کا اظہار کیا ہے۔
یمنی حکومت کے فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے باب المندب آبنائے پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین بحری تجارتی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے مخا پر قبضے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل حنیش جزائر پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
حوثیوں نے 28 مارچ کو اسرائیل پر حملے کے ساتھ موجودہ جنگ میں ایران کا ساتھ دیتے ہوئے شمولیت اختیار کی تھی۔ تاہم اس کے بعد وہ نسبتاً خاموش رہے۔ جولائی میں انہوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ ستمبر میں مملکت کے جنوبی علاقوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔
عالمی سطح پر تیل کی منڈی بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کے ساتھ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے اپنی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر انحصار بڑھا دیا تھا۔ ایسے میں باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیاں توانائی کی سپلائی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب ریاض اور تہران کے تعلقات میں اگرچہ چین کی ثالثی کے نتیجے میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم دونوں ممالک طویل عرصے سے خطے میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں اور ان کے درمیان گہری بداعتمادی اب بھی موجود ہے۔
چین کی ایک بندرگاہ پر مال بردار جہاز میں آتشزدگی، 25 افراد ہلاک

چینی سرکاری میڈیا نے جمعرات کو بتایا کہ ایک بندرگاہ میں مرمت کے لیے جانے والے ایک مال بردار جہاز میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے۔
چین کے شمال مشرقی ساحل پر واقع ایک بڑے جہاز رانی کے مرکز چنگ ڈاؤ کی بندرگاہ پر واقع بیہائی شپ بلڈنگ کمپنی میں جہاز کی مرمت کی جا رہی تھی۔
شنہوا نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک تصویر میں جہاز کی شناخت اوشین میلوڈی کے طور پر کی گئی ہے، جو ٹریکنگ ویب سائٹ ویسل فائنڈر کے مطابق لائبیریا کے جھنڈے کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
شنہوا نے رپورٹ کیا کہ جہاز پر کل 42 افراد سوار تھے، اور ان میں سے 12 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ پانچ زخمی ہوئے، جنہیں ہسپتال لے جایا گیا اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
آگ جمعرات کی صبح تقریباً 11 بجے لگی اور اس پر قابو دوپہر 2:30 بجے تک پایا جا سکا۔ مقامی وقت آن لائن ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ جہاز پر موجود کارکن آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شنہوا نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کو فوری طور پر تلاش کرنے کے لیے ’’اہم ہدایات‘‘ جاری کی ہیں۔
شی نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ ’’حفاظتی انتظامات کو اچھی طرح سے نافذ کیا جائے‘‘ اور ’’بڑے اور تباہ کن حادثات کو پوری طرح سے روکا
جائے۔‘‘
بیہائی شپ بلڈنگ ریاستی ملکیت میں قائم چائنا اسٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن کا حصہ ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی جہاز ساز کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے بنیادی کاروبار میں جہاز سازی اورجہازوں کی مرمت شامل ہیں۔
بحیرہ اسود میں کارگو جہاز پر ڈرون حملہ، دو آذربائیجانی شہری ہلاک

بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچا ہے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق بدھ کے روز ایک کارگو جہاز پر ہونے والے ڈرون حملے میں عملے کے دو ارکان ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ زخمی ہونے والے دونوں افراد کو یوکرین کے شہر چورنومورسک کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزارت نے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران بحیرہ اسود ایک بار پھر خطرناک محاذ بنتا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی برآمدی تنصیبات اور اناج بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے عالمی تجارتی راستوں اور خوراک کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
موجودہ کشیدگی کو ماہرین بحیرہ اسود کی تجارت کے لیے ساڑھے چار سالہ جنگ کے دوران سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم آذربائیجان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون حملہ روس نے کیا یا یوکرین نے۔
سعودی عرب میں خمیس مشیط میں الرٹ ختم، حوثیوں کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود خطرہ ٹل گیا، سعودی سول ڈیفنس حکام

سعودی سول ڈیفنس حکام نے جمعرات کو جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں جاری ہنگامی الرٹ ختم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ خمیس مشیط میں 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے الرٹ جاری کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد کہہ دیا کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور شہریوں کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے منگل کو بتایا کہ حالیہ حوثی حملوں میں خمیس مشیط سمیت سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کے چار شہروں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔ اس اتحاد کے مطابق ان حملوں میں سعودی عرب کی تیل کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران نواز حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے خمیس مشیط کے ایک فضائی اڈے اور قریبی شہروں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق یہ فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد سعودی عرب پر کیے جانے والے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔
دریں اثنا سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے بدھ کو بھی قومی اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھیں۔
حالیہ مہینوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک تھم جانے والا تنازع دوبارہ وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) کے بعد ختم ہو جائے گی تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اس کی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سمندری محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
علاقائی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔ سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط میں جمعرات کو 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایران نواز حوثی باغیوں اور مخالف قوتوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی شدت دیکھی گئی۔
توانائی کی عالمی منڈی بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہونے کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے عالمی سپلائی اور تجارتی راستوں کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا۔ تہران کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو ڈبونے کے جواب میں کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا یہ سلسلہ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے، جس سے قریب مستقبل میں جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے امکانات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بحری راستوں پر حملوں اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی) زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکتے۔ وہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بے چین ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔
بعد ازاں وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہیں، نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ تنازع ان کی صدارتی مدت کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے، جو جنوری 2029 میں ختم ہو گی۔ تاہم روئٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں کر سکا۔



