
رپورٹ سید عاطف ندیم-ادارت
11 ستمبر 1965 کی رات پاک فضائیہ کی تاریخ میں ان کارروائیوں کے حوالے سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے جن میں محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی جرات، منصوبہ بندی، کم ارتفاع پر پرواز، رات کے وقت درست حملہ اور دستیاب فضائی پلیٹ فارمز کے منفرد استعمال کا مظاہرہ کیا گیا۔
جنگِ ستمبر 1965 کے دوران پاک فضائیہ نے صرف روایتی جنگی طیاروں تک اپنی کارروائیوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف پلیٹ فارمز کو جنگی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کی۔ 11 ستمبر کی رات ہونے والی کارروائیاں اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں، جب اس وقت کے اسکواڈرن لیڈر رئیس رفیع نے بی-57 بمبار طیاروں کی چار جہازوں پر مشتمل فارمیشن کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے اہم فارورڈ بیس ہلوارہ ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا۔

ہلوارہ ایئر فیلڈ کے خلاف رات کی کارروائی
11 ستمبر کی رات اسکواڈرن لیڈر رئیس رفیع کی قیادت میں بی-57 طیاروں کی چار جہازوں پر مشتمل فارمیشن نے ہلوارہ ایئر فیلڈ کی جانب پیش قدمی کی۔
ہلوارہ اس دور میں بھارتی فضائیہ کے اہم فضائی اڈوں میں شمار ہوتا تھا، اس لیے اسے نشانہ بنانا ایک اہم آپریشنل مقصد سمجھا جاتا تھا۔ کارروائی کی نوعیت اس لحاظ سے بھی مشکل تھی کہ مشن رات کے وقت انجام دیا جا رہا تھا اور طیاروں کو دشمن کے فضائی دفاع کے ممکنہ ردعمل کا سامنا تھا۔
فراہم کردہ تاریخی بیان کے مطابق فارمیشن نے بلیک آؤٹ حالات میں انتہائی کم سطح پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کے علاقے میں خاصی گہرائی تک رسائی حاصل کی۔ کم ارتفاع پر پرواز کا مقصد فضائی نگرانی اور دشمن کے دفاعی نظام کی جانب سے بروقت شناخت کے امکانات کو کم کرنا تھا، تاہم اس حکمت عملی میں پرواز اور نیوی گیشن کے حوالے سے بھی خطرات شامل تھے۔
فارمیشن نے ہدف کے قریب پہنچنے کے بعد حملے کے لیے بلندی حاصل کی اور ہلوارہ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔
شدید طیارہ شکن فائر کے باوجود حملہ جاری
ہلوارہ کے خلاف کارروائی کے دوران پاک فضائیہ کے بمباروں کو شدید طیارہ شکن فائر کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود فارمیشن نے مشن کو مکمل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
تاریخی بیان کے مطابق بمباروں نے رن وے پر حملہ کیا اور اس کے بعد آنے والی فارمیشنوں نے بھی ایئر فیلڈ پر موجود اہداف کو نشانہ بنایا۔ متعدد حملوں کے نتیجے میں ہلوارہ ایئر فیلڈ میں آگ بھڑکنے اور تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بیان کی گئی ہیں۔
رات کے اندھیرے میں اس نوعیت کی کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ حملہ آور طیاروں کو نہ صرف اپنے ہدف کی درست شناخت کرنا تھی بلکہ محدود بصری حالات میں بمباری بھی کرنا تھی۔ اس کے ساتھ دشمن کے فضائی دفاع سے بچنے اور بحفاظت واپسی بھی مشن کا لازمی حصہ تھی۔
یہ کارروائی اس امر کی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ 1965 کی جنگ کے دوران پاک فضائیہ نے رات کی کارروائیوں کو بھی اپنی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنایا اور دشمن کے اہم فضائی اڈوں پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
ہلوارہ پر پے در پے حملوں کی اہمیت
ہلوارہ پر ایک ہی رات میں مختلف فارمیشنوں کی کارروائی کا مقصد محض ایک ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ دشمن کے ایک اہم فضائی مرکز کو مسلسل دباؤ میں رکھنا بھی تھا۔
فضائی جنگ میں کسی فارورڈ ایئر بیس کی فعالیت انتہائی اہم ہوتی ہے، کیونکہ ایسے اڈے جنگی طیاروں کی پرواز، دوبارہ مسلح کرنے، ایندھن کی فراہمی، دیکھ بھال اور دیگر آپریشنل سرگرمیوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی لیے ایسے اڈوں کو نشانہ بنانا دشمن کی فضائی کارروائیوں کی رفتار اور صلاحیت کو متاثر کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جاتا ہے۔
11 ستمبر کی کارروائی کو اسی وسیع تر جنگی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں دونوں ممالک کی فضائی افواج ایک دوسرے کے ایئر بیسز، رن ویز اور دیگر اہم فضائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
سی-130 کا غیر معمولی بمباری مشن
اسی رات پاک فضائیہ کی جانب سے ایک اور غیر معمولی کارروائی بھی بیان کی جاتی ہے، جس میں جی پی کیپٹن ایرک گورڈن ہال نے پی اے ایف کے پہلے لائیو سی-130 بمباری مشن کی قیادت کی۔
سی-130 ہرکیولس بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ طیارے کے طور پر جانا جاتا ہے، نہ کہ روایتی بمبار کے طور پر۔ تاہم جنگی حالات میں دستیاب وسائل کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ پاک فضائیہ کی اس دور کی عملی سوچ اور جدت کی مثال قرار دیا جاتا ہے۔
فراہم کردہ بیان کے مطابق اس مشن میں مکمل طور پر غیر مسلح ہرکیولس طیارے کو تقریباً 28 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کا بوجھ لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ ایک غیر معمولی فیصلہ تھا، کیونکہ ایک ٹرانسپورٹ طیارے کو اس نوعیت کے جنگی مشن کے لیے استعمال کرنا روایتی فضائی جنگی طریقہ کار سے مختلف تھا۔
کٹھوا پل کو ہدف بنایا گیا
اسی رات، پھر جی پی کیپٹن ایرک گورڈن ہال نے پی اے ایف کے پہلے لائیو C-130 بمباری مشن کی قیادت کی، جس نے کٹھوا پل کو نشانہ بنایا۔ مکمل طور پر غیر مسلح ہرکیولس نے 28,000 پاؤنڈ وزنی بم کا بوجھ اٹھایا، جس نے ایک طاقتور اور غیر متوقع دھچکا پہنچایا جس نے چھمب سیکٹر میں ہندوستانی پیش قدمی کی رفتار کو توڑنے میں مدد کی۔
جنگ کے دوران پل، سڑکیں اور دیگر مواصلاتی راستے فوجی نقل و حرکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی اہم پل کو نشانہ بنانے کا مقصد دشمن کی فوجی پیش قدمی، کمک اور رسد کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔
روایتی طیارے سے ہٹ کر جنگی پلیٹ فارم کا استعمال
سی-130 مشن کا سب سے نمایاں پہلو اس کا غیر روایتی ہونا تھا۔
فضائی جنگ میں عمومی طور پر بمباری کے لیے ایسے طیارے استعمال کیے جاتے ہیں جو اسی مقصد کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہوں۔ اس کے برعکس ٹرانسپورٹ طیارے کا بنیادی کردار فوجی اہلکاروں، سازوسامان، رسد اور دیگر ضروری سامان کی نقل و حمل ہوتا ہے۔
لیکن جنگی حالات میں جب دستیاب وسائل، وقت اور آپریشنل ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا ہو تو بعض اوقات غیر روایتی حل اختیار کیے جاتے ہیں۔
11 ستمبر 1965 کا یہ مشن اسی تصور کی ایک مثال کے طور پر سامنے آتا ہے کہ کس طرح ایک ٹرانسپورٹ پلیٹ فارم کو مخصوص جنگی ضرورت کے لیے استعمال کیا گیا۔
کم ارتفاع پر پرواز اور رات کے حملوں کی دشواری
11 ستمبر کی کارروائیوں میں رات کے وقت کم ارتفاع پر پرواز ایک اہم عنصر تھا۔
کم سطح پر پرواز کرنے والے طیاروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ زمین سے فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے معمولی نیوی گیشنل غلطی بھی خطرناک ہو سکتی ہے، جبکہ رات کے اندھیرے میں زمینی نشانات کی شناخت مزید مشکل ہوجاتی ہے۔
اس کے باوجود اگر فارمیشن کامیابی سے دشمن کے علاقے میں داخل ہو اور مقررہ ہدف تک پہنچ جائے تو اس سے حملے کی اچانک نوعیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہلوارہ کے خلاف کارروائی میں یہی حکمت عملی اختیار کیے جانے کا ذکر ملتا ہے، جہاں بمبار طیاروں نے کم سطح پر پرواز کرتے ہوئے ہدف کے قریب پہنچنے کے بعد حملے کے لیے بلندی حاصل کی۔
حساب شدہ خطرہ اور جنگی حکمت عملی
11 ستمبر 1965 کی کارروائیوں کو صرف بہادری کے واقعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے جنگی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک طرف بی-57 بمبار طیاروں کو دشمن کے اہم فضائی اڈے تک پہنچنا تھا، جبکہ دوسری طرف سی-130 جیسے بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ کردار رکھنے والے طیارے کو ایک جنگی مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔
دونوں کارروائیوں میں خطرہ موجود تھا، لیکن ان کے پیچھے ایک مشترکہ تصور نظر آتا ہے: دستیاب وسائل کو جنگی ضرورت کے مطابق زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا۔
یہی وجہ ہے کہ 11 ستمبر کی رات کے واقعات کو پاک فضائیہ کی جنگی تاریخ میں جدت، جرات اور غیر روایتی سوچ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
1965 کی جنگ میں فضائی طاقت کا وسیع کردار
1965 کی جنگ میں فضائی طاقت نے زمینی محاذوں پر ہونے والی کارروائیوں کو براہ راست متاثر کیا۔ فضائی حملوں کا مقصد صرف دشمن کے جنگی طیاروں کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ ایئر بیسز، رن ویز، مواصلاتی راستوں، رسدی مراکز اور دیگر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنانا تھا۔
ایسے حالات میں فضائی افواج کے لیے صرف جدید یا مخصوص جنگی طیاروں کا ہونا کافی نہیں ہوتا، بلکہ مشن کی منصوبہ بندی، پائلٹوں کی تربیت، درست نیوی گیشن، بروقت فیصلہ سازی اور دشمن کے فضائی دفاع سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
11 ستمبر کی کارروائیاں اسی وسیع تر جنگی ماحول میں انجام دی گئیں، جہاں فضائی اور زمینی کارروائیاں ایک دوسرے سے منسلک تھیں۔
ہلوارہ اور چھمب—دو مختلف اہداف، ایک ہی جنگی مقصد
ہلوارہ ایئر فیلڈ پر بمباری اور کٹھوا پل کے خلاف سی-130 مشن بظاہر دو مختلف نوعیت کے اہداف تھے۔
ہلوارہ ایک فضائی مرکز تھا، جبکہ کٹھوا پل زمینی نقل و حرکت کے حوالے سے اہم ہدف تھا۔ تاہم دونوں کارروائیوں کا بنیادی جنگی مقصد دشمن کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کرنا تھا۔
ایک کارروائی کے ذریعے دشمن کے فضائی مرکز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی، جبکہ دوسری کارروائی کا مقصد زمینی نقل و حرکت اور پیش قدمی کو متاثر کرنا تھا۔
اس اعتبار سے 11 ستمبر کی رات کی کارروائیاں فضائی طاقت کے مختلف استعمالات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
پاک فضائیہ کی جنگی جدت کی مثال
11 ستمبر 1965 کی کارروائیوں کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان میں روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ غیر معمولی آپریشنل طریقے بھی اختیار کیے گئے۔
بی-57 بمباروں کا رات کے وقت کم ارتفاع پر ہدف تک پہنچنا، شدید طیارہ شکن فائر کے باوجود حملہ جاری رکھنا اور اس کے بعد مختلف فارمیشنوں کا کارروائی میں شامل ہونا ایک مربوط فضائی آپریشن کی تصویر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح سی-130 کو بمباری کے مشن میں استعمال کرنا ایک ایسی مثال تھی جس میں دستیاب پلیٹ فارم کو اس کی بنیادی ذمہ داری سے مختلف جنگی کردار دیا گیا۔
یہ تمام عناصر اس دور میں پاک فضائیہ کی جانب سے دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔
تاریخ میں محفوظ ایک غیر معمولی رات
11 ستمبر 1965 کی رات کے یہ واقعات پاک فضائیہ کی جنگی تاریخ میں اس لیے بھی اہم قرار دیے جاتے ہیں کہ ان میں خطرناک حالات کے باوجود مشن مکمل کرنے کے عزم اور غیر روایتی جنگی سوچ کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
ہلوارہ پر رات کی کارروائی اور سی-130 کا کٹھوا پل کے خلاف بمباری مشن اس بات کی مثال کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں کہ جنگ کے دوران محدود وقت اور وسائل میں ایسے فیصلے کس طرح کیے گئے جن کا مقصد دشمن کی فضائی اور زمینی کارروائیوں کو متاثر کرنا تھا۔
عزم، اختراع اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت
11 ستمبر 1965 کی کارروائیاں مجموعی طور پر پاک فضائیہ کے اس جنگی مزاج کی عکاسی کرتی ہیں جس میں اختراع، حساب شدہ خطرہ مول لینے، مشن پر توجہ اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کو اہمیت حاصل رہی۔
ہلوارہ پر رات کے اندھیرے میں کم ارتفاع پر حملہ اور سی-130 ہرکیولس کو بمباری کے لیے استعمال کرنا دونوں واقعات اپنے اندر ایک الگ نوعیت رکھتے ہیں، لیکن دونوں کے درمیان ایک مشترک پہلو موجود ہے: جنگی حالات میں معمول کے طریقہ کار سے ہٹ کر مؤثر حل تلاش کرنا۔
11 ستمبر 1965 کی رات اسی لیے پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک ایسی رات کے طور پر یاد کی جاتی ہے جس میں فضائی جنگ کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر دستیاب ہر ممکن پلیٹ فارم اور صلاحیت کو جنگی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ واقعات 1965 کی جنگ کے عسکری پس منظر کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس دور کے پائلٹوں، فضائی عملے اور منصوبہ سازوں کے سامنے موجود غیر معمولی چیلنجز کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔



