بین الاقوامیاہم خبریں

بوشہر کے ایرانی جوہری پلانٹ میں اب ہمارے بیس کارکن موجود ہیں، روسی ادارے کے سربراہ کا بیان

انہوں نے کہا، ’’ان دونوں یونٹوں پر کام کی بحالی، وہ جب بھی ممکن ہو، ہماری اولین ترجیح رہے گی۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

روس کے جوہری توانائی کے ریاستی ادارے روساٹوم کے سربراہ نے منگل 14 اپریل کے روز کہا کہ ایران کے شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر میں اب اس کے صرف 20 کارکن موجود ہیں۔

روس کی اسٹیٹ نیوکلیئر کارپوریشن کی طرف سے کل پیر کے دن کہا گیا تھا کہ اس نے بوشہر کے ایرانی ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے حتمی مرحلے کا آغاز کر دیا تھا۔ اب اس روسی کارپویشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہاں اس کے عملے کے ارکان میں سے فی الوقت صرف 20 باقی ہیں۔

ایران میں بوشہر کی نیول بیس پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر
ایران میں بوشہر کی نیول بیس پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویرتصویر: Vantor/AP Photo/picture alliance

روساٹوم کی طرف سے بوشہر کی جوہری تنصیبات والے علاقے میں دو نئے یونٹ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں اور ان کے ساتھ ہی ایران جنگ کے آغاز کے بعد اس روسی نیوکلیئر کارپوریشن نے بوشہر سے اپنے عملے کے سینکڑوں ارکان کو نکال لیا تھا۔

روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف نے کہا کہ روساٹوم کو لازمی طور پر اس حالت میں رہنا چاہیے کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے دوسرے اور تیسرے یونٹ کی تعمیر کا کام کسی بھی وقت دوبارہ شروع کرنے کے لیے اس کی تیاریاں ہر ممکن حد تک مکمل ہوں۔

انہوں نے کہا، ’’ان دونوں یونٹوں پر کام کی بحالی، وہ جب بھی ممکن ہو، ہماری اولین ترجیح رہے گی۔‘‘

روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوف
روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچوفتصویر: Alexander Ryumin/ITAR-TASS/imago images

لیخاچوف نے کہا، ’’ہم نے وہاں سے اپنے کارکنوں کے جس آخری گروپ کو نکالا ہے، وہ 108 افراد پر مشتمل ہے اور یہ گروپ متوقع طور پر منگل 14 اپریل کی رات زمینی سر‌حد پار کر کے ایران سے آرمینیا میں داخل ہو جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button