کالمزپیر مشتاق رضوی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، عالمی امن کے علمبردار ۔۔۔۔ !! پیر مشتاق رضوی

یہ 2001ء کے بعد پہلا موقع تھا جب کسی پاکستانی فوجی سربراہ نے امریکی صدر سے ملاقات کی- ٹرمپ نے کہا کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کا تنازع زیر بحث آیا

فخر سادات فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں امن قائم کرنے اور ایران، امریکہ جنگ بند کرانے میں کامیاب رہے انہوں نے نے ناممکن کو ممکن بنایا اور پاکستان کا عالمی سطح پر وفار بلند کیا انہوں نے عالمی امن کو تباہ وبرباد ہونے سے بچایا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ ایران امریکہ مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا حالیہ رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ثالثی اور بیک ڈور چینل رابطوں کے سلسلے حیرت انگیز اور بے مثال سفارتکاری کرکے اپنا لوہا منوایاپاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے خود کو "لیڈ میڈی ایٹر” کے طور پر پیش کیا۔انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر افراد اور ایران کے درمیان بیک چینل کمیونیکیشن کی۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے فون پر بات کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات کی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال 18 جون 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ یہ 2001ء کے بعد پہلا موقع تھا جب کسی پاکستانی فوجی سربراہ نے امریکی صدر سے ملاقات کی- ٹرمپ نے کہا کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کا تنازع زیر بحث آیا۔ ان کے مطابق "پاکستان ایران کو بہت اچھی طرح جانتا ہے” اور "صورتحال سے خوش نہیں”۔ ٹرمپ نے منیر کو "انتہائی بااثر” قرار دیا۔پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کی اور اسلام آباد کو مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا۔ امریکہ اور ایران کو مذکرات کی میز بٹھایا گویا کہ آگ اور پانی کو اکٹھا کر دکھایافیلڈ مارشل عاصم منیر نے براہ راست صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے ایران کے معاملے پر پاکستان کی بصیرت شیئر کی، جسے ٹرمپ نے اہم قرار دیا۔ پاکستانی قیادت نے جنگ بندی میں سہولت کاری کی مذاکرات کی میزبانی کرکے امن کی پیامبری کی فیلڈ مارشل عاصم منیر امن کے علمبردار ہیں عالم اسلام کو فیلڈ مارشل عاصم منیر پر فخر ہے یہ اللہ تعالی’ کی خصوصی کرم نوازی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں” معرکہ حق” کی برکات کے نتیجہ پاکستان کو آج دنیا بھر میں انتہائی باوقار مقام حاصل ہوا اور عالمی سطح پر اسلامک سپر پاور بن کر ابھرا یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے عظیم سپہ سالار ہیں پورا عالم اسلام اپنے عظیم بہادر سپہ سالار پر فخر کرتا ہے انہوں نے "معرکۀحق” میں جرات و بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی وفاقی کابینہ کے تاریخ ساز فیصلے میں پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر (نشانِ امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کرنا قومی تقاضوں کے ہم اہنگ ہے ۔قومی امنگوں کے مطابق یہ فیصلہ "معرکۀ حق” اور آپریشن "بنیان اُلمرصوص” میں ان کی تاریخی کامیاب عسکری حکمت عملی، دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے پر کیا گیا ہے فخر السادات جنرل عاصم منیر کی قیادت میں قوم نے بے مثال اتحاد، اعتماد ،جرات اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اُن کی قیادت میں دشمن کو ہر محاذ فیصلہ کن شکست دی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے پوری قوم پاک افواج کے شہداء اور غازیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے پاک افواج نے پاکستان اور عالم اسلام کا سر فخر سے بلند کیا اور یہود و ہنود کو شکست فاش سے دوچار کیا یہ اعزاز نہ صرف جنرل صاحب کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے فخر ہے۔جنرل عاصم منیر کو حکومت پاکستان نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر فائیو اسٹار جنرل یعنی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی یے فیلڈ مارشل ایک اعزازی اور علامتی فوجی رینک ہے جو پاکستان آرمی میں سب سے ہائی رینک مانا جاتا ہے اور یہ کسی جرنیل کو اس کی غیر معمولی عسکری یا قومی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے یہ رینک ملنے سے کسی افسر کو اگر اس کے پاس کمان نہ ہو تو کسی فورس کی کمان یا آپریشنل اختیارات نہیں دیئے جاتے یہ عہدہ صرف اعزاز، احترام اور تاحیات شناخت کے لئے خدمات کا اعتراف ہوتا ہے جیسے لائیو ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کہا جاتا ہےفیلڈ مارشل عام فوجی افسران کی طرح ریٹائر نہیں ہوتا بلکہ انہیں تاحیات ایک معزز فوجی بزرگ کی حیثیت حاصل رہتی ہے اس وقار احترام کے باوجود فوج کی کمان یا پالیسی سازی میں اسے شامل نہیں کیا جاتا لیکن عاصم منیر صاحب کے لئے ایسا نہیں ہے کیوں کہ وہ پہلے ہی آرمی کی کمان کر رہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف ایک ہی فیلڈمارشل جنرل محمد ایوب خان گزرے ہیں وہ 1951ہ میں پاکستان آرمی کے کمانڈر ان چیف بنے انہوں نے 1958ء میں ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور 1959ء میں خود کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی تھی جبکہ بھارت نے 1971 کی جنگ جیت کر جنرل مانک شا کو فیلڈ مارشل بنایا تھا،اب جبکہ پاکستان نے 2025ء میں بھارت کے خلاف جنگ جیت کر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنایا، اور حساب برابر کردیا ہے بھارتی میڈیا کی جانب سے جنرل عاصم منیر کو “جہادی جنرل” کہنا درحقیقت اس گھبراہٹ کا اظہار ہے جو ان کی نظریاتی مضبوطی، اسلامی شعور، اور کشمیر و بھارت کے حوالے سے دوٹوک مؤقف سے پیدا ہوئی ہے۔ ایک ایسا سپہ سالار جو قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کرے اور دشمن کے عزائم کو بے نقاب کرے، وہ فطری طور پر بھارت جیسے توسیع پسند ملک کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ بھارتی ادارے، جیسے انڈیا ٹوڈے، ان کے اسلامی رجحان کو نشانہ بنا کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اصل مسئلہ ان کا مذہبی پس منظر ہے، نہ کہ ان کی پیشہ ورانہ قابلیت۔ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا رینک ان کی بے مثال خدمات، بے مثال جذبہ ایمانی ،نظریاتی وابستگی، اور قومی خودمختاری کے تحفظ پر دیا گیا — اور یہی بات دشمن کو برداشت نہیں ہو رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایسے ہی مخلص، بااصول اور جری قائدین کی ضرورت ہے جو نہ صرف دشمن کی چالوں کو سمجھے بلکہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔راولپنڈی کے علاقے ڈھیری حسن آباد سے تعلق رکھنے والے جنرل عاصم منیر پاکستان کی فوج کے اُن افسران میں سے ہیں جو آفیسر ٹریننگ سکول (او ٹی ایس) کے ذریعے آرمی آفیسر بنے۔ ان کا تعلق منگلا کے سترھویں او ٹی ایس کورس سے ہے۔ جنرل حافظ سید عاصم منیر احمد شاہ ہلالِ امتیاز، ایک پاکستانی فور سٹار رینک کے جنرل اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف ہیں، آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل کمانڈ کر رہے تھے۔انھوں نے 17 جون 2019ء سے 6 اکتوبر 2021ء تک گوجرانوالہ میں10. کور (پاکستان) کی کمانڈ کی۔ انھوں نے آئی ایس آئی کے 23 ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں یہاں تک کہ ان کی جگہ16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تعینات کیا گیا۔ جنرل عاصم منیر نے افسران کی تربیت گاہ، منگلا میں کیڈٹ کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر "اعزازی تلوار” حاصل کی تھی 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مقرر کی گیا جنرل عاصم منیر وہ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جو ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں خفیہ اداروں کی سربراہی کر چکے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر کو جب افواج پاکستان کا چیف اف دی ارمی سٹاف بنایا گیا ملک کو اندرونی اور بیرونی سنگین چیلنجز کا سامنا تھا ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار تھا بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسند سرمچاروں نے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا کے پی کے سمیت ملک میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی کا عفریت سر اٹھا رہا تھا خوارجین نے اپنی دہشت گرد کاروائیوں میں اضافہ کر دیا تھا سپہ سالار پاکستان جنرل عاصم منیر نے پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کے لیے” ہارڈ سٹیٹ پالیسی” اپنائی ملکی معیشت کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیۓ ملک میں جاری سیاسی افرا تفری اور انتشار پر بھی بخوبی کنٹرول حاصل کیا ملک میں لوٹ مار کرنے والے مافیاز کو بھی لگام ڈالی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا گیا ترکی ،ایران، سعودی عرب اور چائنہ جیسے برادر اور دوست ممالک سے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا گیا ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیاپاکستان کے دفاع کو مسٹحکم کیا گیا بلوچستان میں سرمچاروں کی سر کوبی جاری ہے خوارجین کو بھی جہنم واصل کیا جا رہا ہے خوارجین کی دہشت گردانہ کاروائیوں پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے سپہ سلار پاکستان جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک افواج اور حکومت پاکستان نے موثر اشتراک عمل سے ملک کو درپیش ففتھ جنریشن وار اور ڈیجیٹلائزیشن ٹیررازم کا موثر سدباب کیا ہے حالیہ پاک بھارت جنگ سے قبل جنرل عاصم منیر کی تاریخی تقریر قومی امنگوں کی ائینہ دار تھی اور دشمنان پاکستان کے لیے "حیدری للکار” تھی جس کا عملی ثبوت دنیا نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں دیکھا تاریخ پاکستان اور تاریخ اسلام میں بلا شبہ جنرل سید حافظ عاصم منیر کو ایک عظیم سپہ سالار کے طور پر یاد رکھا جائے گا ان کے فاتحانہ کارنامے تاریخ میں امر ہو چکے ہیں جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں حالیہ پاک بھارت جنگ کے چند گھنٹوں کے فیصلہ کن” معرکہ حق” پر دنیا ورطہ حیرت میں ڈوبی ہوئی ہے عالمی فوجی طاقتیں پاک فوج کی جدید ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حیرت انگیز فاتحانہ معرکوں پر حیران و پریشان ہو کر رہ گئی ہیں کیونکہ ایک بار پھر جنرل سید عاصم منیر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور پاکستان ایک ناقابل شکست مملکت خدا داد ہے جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں صرف بھارت کو شکست فاش نہیں ہوئی بلکہ اسرائیل، فرانس ،امریکہ اور روس کہ جدید عسکری ٹیکنالوجی پر پاکستانی برتری حاصل کر کے یہود و ہنود کے گٹھ جوڑ کو بھی خاک میں ملا دیا جنرل عاصم منیر نے صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کوسر بلند کیا اور پاکستان کے وقار کو بحال کیا گو کہ ایران امریکہ مذاکرات بے بتائج ٹھہرے لیکن امید کی کرن باقی ہے امریکہ اپنی شرائط پر ڈیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ایران نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ نامعقول شرائط کا قبول کرنے سے انکار کردیا گیا،، لیکن فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان ایکبار پھر گیا، ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے بدستور سرگرم عمل رہے گا پاکستان اپنے دوست ممالک چین اور ترکیہ کے ساتھ ملکر خطے میں امن برفراررکھے گا اور عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی بنانے کے لئے اپنی بے مثال سفارتکای جاری رکھے گا

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button