مشرق وسطیٰتازہ ترین

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے چینی صدر شی کی چار نکاتی تجویز

یہ بات چین کے سرکاری میڈیا نے اس وقت رپورٹ کی جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا۔

روئٹرز کے ساتھ

چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک چار نکاتی تجویز پیش کی ہے۔ منگل کے روز انہوں نے یہ تجویز بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کے دوران پیش کی۔

چین کے صدر  نے یہ تجویز بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کے دوران پیش کی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، نے خطے میں کشیدگی کو شدید حد تک بڑھا دیا۔ واشنگٹن نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں ہزاروں مقامات کو زمین، سمندر اور فضا سے نشانہ بناتے ہوئے ایک شدید فوجی مہم شروع کر دی۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے امن کو فروغ دینے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنے کے حوالے سے چین کے اصولی موقف پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

یہ بات چین کے سرکاری میڈیا نے اس وقت رپورٹ کی جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا۔

چین کے صدر شی جن پنگ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران
شی جن پنگ نے امن کو فروغ دینے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنے کے حوالے سے چین کے اصولی موقف پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گاتصویر: Shen Hong/Xinhua News Agency/picture alliance

شی جن پنگ کی تجویز

صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ قومی خود مختاری کے اصول پر عمل کیا جائے اور کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے کے ممالک کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے، ساتھ ہی عملے، تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔

بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول کے حوالے سے شی جن پنگ نے کہا کہ اس کی بالا دستی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ دنیا ‘جنگل کے قانون‘ کی طرف واپس نہ چلی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقی اور سلامتی کو باہم مربوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مل کر ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جس سے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے ممالک کی ترقی ممکن ہو سکے۔

خیال رہے کہ کئی ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد دس اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک اور مشروط جنگ بندی طے پائی تھی، جس میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد دو ہفتوں کے لیے لڑائی روکنا تھا تاکہ بڑے فوجی حملوں کو روکا جا سکے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کو دوبارہ کھولا جا سکے، تاہم بنیادی اختلافات بدستور حل طلب ہیں۔

دونوں فریقوں نے اس جنگ بندی کو اپنی اپنی کامیابی قرار دیا جبکہ طویل المدتی حل کے حوالے سے ان کے موقف مختلف ہیں۔

دریں اثنا چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مشروط اور عارضی جنگ بندی کو ”امید کی ایک کرن‘‘ قرار دیتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے مسلسل مذاکرات پر زور دیا۔

قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے پر زور

چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کے روز کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے دیا۔

بیجنگ اس سے قبل بھی امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے، تاہم صدر شی جن پنگ نے اس تنازعے کے بارے میں عوامی سطح پر کم ہی تبصرہ کیا ہے۔ وہ اگلے ماہ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک متوقع ملاقات میں بات چیت کریں گے۔

شنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو ”اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق استعمال‘‘نہیں کیا جا سکتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button