صحتتازہ ترین

پاکستان میں تین کروڑ سے زائد بچے موسمیاتی خطرات سے دوچار

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا، ''موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے۔‘‘

اے ایف پی کے ساتھ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب 10 کروڑ سے زائد بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا بیک وقت سامنا کر رہے ہیں، جن میں پاکستان کے تین کروڑ 40 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں آٹھ بڑے موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا گیا، جن میں ساحلی سیلاب، دریائی سیلاب، خشک سالی، سمندری طوفان، ہیٹ ویوز، شدید گرمی، جنگلاتی آگ اور گرد کے طوفان شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ارب 10 کروڑ بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں۔ ان میں سب سے عام خطرات خشک سالی، شدید گرمی (35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد) اور ہیٹ ویوز کے ہیں۔

یہ خطرناک صورتحال تقریباً 29 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو متاثر کر رہی ہے، جن میں نائجیریا کے سات کروڑ 40 لاکھ، پاکستان کے تین کروڑ 40 لاکھ اور بھارت کے تین کروڑ 20 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

26 ستمبر 2022 کو لی گئی اس تصویر میں سندھ کے ضلع جامشورو میں سیلاب سے متاثرہ اور بے گھر ہونے والے افراد کے بچوں کو ایک عارضی کیمپ کے باہر جمع شدہ پانی کے گڑھے سے پانی پیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے
دنیا بھر میں ایک لاکھ 23 ہزار بچے ایسے ہیں جو سات یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیںتصویر: Rizwan Tabassum/AFP/Getty Images

گزشتہ دو دہائیوں میں متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

یونیسیف کے مطابق گزشتہ 20 برسوں کے دوران تین یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو ارب 30 کروڑ بچے کم از کم ایک موسمیاتی خطرے کی زد میں ہیں، جبکہ دو ارب بچے دو یا اس سے بھی زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح 36 کروڑ 40 لاکھ بچے چار یا اس سے زیادہ خطرات سے متاثر ہیں۔

مزید برآں دنیا بھر میں ایک لاکھ 23 ہزار بچے ایسے ہیں جو سات یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 46 ہزار بچے میانمار میں رہتے ہیں۔

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا، ”موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے۔‘‘

وسطی افریقہ میں ایک دور افتادہ گاؤں میں بچے اور ان کی مائیں (فائل فوٹو)
چاڈ میں 95 فیصد سے زائد بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔تصویر: Florent Vergnes/AFP/Getty Images

افریقہ اور جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر

رپورٹ کے شریک مصنف ٹام سلےمکیر کے مطابق موسمیاتی خطرات دنیا بھر میں یکساں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا، ”بعض علاقے خاص طور پر زیادہ متاثر ہیں، اور یہ خطرات زیادہ تر سب صحارا والے افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں مرکوز ہیں۔‘‘

بنگلہ دیش، بھارت، نائجیریا اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں بچوں کی آبادی بہت زیادہ ہے، میں تین یا تین سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے متاثرہ بچوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔

تاہم تناسب کے اعتبار سے زیریں صحارا والے افریقہ خصوصاً ساحل کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان ممالک میں حکومتی وسائل کی کمی موسمیاتی آفات کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

اس رپورٹ میں چاڈ کی مثال دی گئی ہے، جہاں پانی، بجلی اور خوراک کی محدود دستیابی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس ملک میں 95 فیصد سے زائد بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

رپورٹ کے مطابق 39 جزیرہ یا جزیرہ نما ریاستیں بھی انتہائی حساس قرار دی گئی ہیں۔ ان ممالک کو محدود میٹھے پانی، درآمدات پر انحصار اور سمندری طوفانوں جیسی قدرتی آفات کے بعد محفوظ پناہ گاہوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں ایک پناہ گزین کیمپ میں روہنگیا بچے بیٹھے ہیں
گزشتہ 20 برسوں کے دوران تین یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہےتصویر: Arafatul Islam/Nahid Anjuman/DW

کوئی ملک مکمل طور پر محفوظ نہیں

یونیسیف کی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

ٹام سلےمیکر کے مطابق شمالی نصف کرّے کے بعض ممالک، خصوصاً اسکینڈے نیویا کے چند علاقوں میں ایسے مقامات موجود ہیں، جہاں آبادی کا ایک حصہ ان مخصوص خطرات سے نسبتاً محفوظ ہے۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ رپورٹ میں صرف دنیا کے آٹھ سب سے عام موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان ممالک کے بچوں کو دیگر خطرات جیسے گلیشیئرز کے پگھلنے اور مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے نرم ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جو اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button