
نظروں سے اوجھل، نیتن یاہو اور کاٹز نے مشرقی رفح کے حوالے سے منصوبے کی منظوری دے دی
انہوں نے بتایا کہ رفح کا گرین زون ان علاقوں میں شامل ہے ،جو یلو لائن کے پیچھے واقع ہیں اور اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
نظروں سے اوجھل اور کسی سرکاری اعلان کے بغیر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں مشرقی رفح میں تعمیرِ نو کا کام شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبہ ایسے علاقوں میں فلسطینیوں کے لیے رہائشی کمپلیکس قائم کرنے کی اسکیم کا حصہ ہے ،جو حماس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ نیتن یاہو اور کاٹز نے رفح کی تعمیرِ نو سے متعلق یہ فیصلہ خفیہ طور پر کیا۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے بھی اس حوالے سے رپورٹ دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں رفح کے گرین زون میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام شامل ہے، جس کے بعد وہاں فلسطینیوں کے لیے ایک رہائشی منصوبہ قائم کیا جائے گا۔ یہ علاقہ حماس کے کنٹرول سے باہر اور کثیر القومی فورس کی نگرانی میں ہوگا۔
اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے جنگی نامہ نگار نے انکشاف کیا کہ یہ فیصلہ تقریباً دو ہفتے قبل کیا گیا تھا، اسی دوران جب غزہ کی پٹی میں کثیر القومی فورس کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم یہ فیصلہ اب تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا اور نہ ہی باضابطہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رفح کا گرین زون ان علاقوں میں شامل ہے ،جو یلو لائن کے پیچھے واقع ہیں اور اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منظور شدہ کاموں میں زمین کو ہموار اور تعمیر کے لیے تیار کرنا، بجلی، پانی اور سیوریج کے نیٹ ورک بچھانا شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے وضاحت کی کہ ان کاموں میں حصہ لینے والے ٹھیکیدار اور مزدور غزہ کے فلسطینی باشندے ہوں گے، جن کی اس وقت اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شاباک کی جانب سے سکیورٹی جانچ کی جا رہی ہے، تاکہ یلو لائن کے پیچھے واقع علاقوں میں ان کے داخلے کی منظوری دی جا سکے۔
توقع ہے کہ وہ چند ہفتوں میںیا اس کے کچھ عرصے بعد علاقے میں داخل ہونا شروع کر دیں گے۔تاہم ریڈیو کے نامہ نگار نے تصدیق کی کہ اسرائیلی سیاسی قیادت نے اب تک علاقے میں کارواں یا عارضی رہائشی یونٹس داخل کرنے کی منظوری نہیں دی اور کم از کم نومبر 2026 تک، یعنی انتخابات کے بعد تک، اس کی اجازت متوقع نہیں ہے۔
ادھر حماس کے ایک عہدیدار نے گزشتہ روز ہفتے کو تصدیق کی کہ تنظیم اب بھی غزہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔
معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے اس کی پاسداری کی شرط پر حماس کے ہتھیار ڈالنے کی شق بھی شامل ہے۔ عہدیدار نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ معاہدے میں اپنے حصے پر عمل درآمد کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کرے، خصوصاً حملے روکنے، یلو لائن تک پسپائی اختیار کرنے اور مناسب مقدار میں انسانی امداد داخل کرنے پر۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کی فوری آمد کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ پٹی کے انتظام کی ذمہ داریاں سنبھال سکے اور امداد، بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبے شروع کر سکے۔
اس معاہدے کے مطابق جس کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتہ قبل کیا تھا اور جسے ان کی سربراہی میں قائم ”امن کونسل” نے تیار کیا، اسرائیل اور حماس کو اپنی فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔
معاہدے میں غزہ کے ان علاقوں سے جہاں اسرائیلی فوج اب بھی موجود ہے، اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا اور حماس سمیت مسلح گروہوں کو ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے امن کونسل کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے سے اتفاق نہیں کیا۔



