مشرق وسطیٰ

پینٹاگون کی طرف سے دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر زور

کانگریس کے ارکان ایران سے جنگ اور پینٹاگون کے اضافی اخراجات کے شدید مخالف ہیں

مدثر احمد-ادارت
پینٹاگون امریکی دفاعی صنعت پر ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اس کے ہتھیاروں کا کم ہوتا ہوا ذخیرہ بھرنے میں مدد ملے بشمول وہ ہتھیار جو ایران سے جاری جنگ میں ختم ہو گئے ہیں۔
محکمہ جنگی سازوسامان کا حصول بڑھانے پر سرگرمی سے توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ "ہمارے جنگی سپاہیوں کو اس رفتار سے ہتھیار ملیں جس کا یہ جنگ تقاضہ کرتی ہے،” پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا۔
انہوں نے اس عمل کو نمایاں طور پر تیز کرنے کے لیے گذشتہ ہفتے محکمے کی کوششوں کی تصدیق کی لیکن اصرار کیا کہ یہ ہتھیاروں کی جدیدکاری کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھا جو پانچ ماہ پرانے تنازعے سے پہلے جاری تھیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے حاصل کردہ ایک میمو کے مطابق ڈپٹی ڈیفنس سکریٹری سٹیو فینبرگ نے بدھ کے روز صنعت کے رہنماؤں کو لکھا کہ "نمایاں طور پر تیز رفتار، ترسیل کے تیر تر اوقات اور/یا پیداوار میں اضافے” کے منصوبے پیش کرنے کے لیے ان کے پاس 21 دن سے زیادہ کا وقت نہیں ہے۔
فینبرگ نے مزید لکھا، "ہتھیار سازی کے لیے سالوں کے اوقات قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ہمیں ڈرامائی طور پر اپنے پروگرام کے اوقات کو تیز کرنا اور اب اپنی پیداواری صلاحیت کو توسیع دینا چاہیے۔”
ایک نئے تجزیے کے مطابق یہ میمو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ حالیہ لڑائی میں امریکی فوج کا جدید میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخیرے کا زیادہ حصہ استعمال ہو گیا جو پہلے ہی کم تھا۔ اس سے ممکنہ طور پر امریکی فوجیوں کو مزید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اگر لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔
واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کے کم ہوتے ذخائر امریکہ اور اس کے شرقِ اوسط کے اتحادیوں کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ان فضائی دفاعی ہتھیاروں کا تحفظ کرنے کے لیے مزید خطرات مول لیں۔ مثلاً تھنک ٹینک نے کہا، امریکی افواج آنے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف کم میزائل داغ سکتی ہیں جس سے کسی ایک کے مطلوبہ مقام پر پہنچ جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں گولہ بارود کی کمی کے بارے میں عوامی اطلاعات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس "کافی مقدار” ہے۔ نیز کہا، "ہتھیار بڑی مقدار میں تیار اور ضرورت کے مطابق امریکہ بھیجے جا رہے ہیں۔”
ہفتے کے روز پارنیل نے تصدیق کی کہ فینبرگ کا میمو "حقیقی” تھا جس میں ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ "دفاعی صنعتی بنیاد کی تعمیرِ نو کے لیے جاری کوشش سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔”
دفاعی اخراجات کا ایک بل فی الحال کانگریس میں تعطل کا شکار ہے اور قانون ساز ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غصے میں ہیں اور وائٹ ہاؤس کی درخواست کی مخالفت کر رہے ہیں کہ پینٹاگون کے اخراجات 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھائے جائیں جو گذشتہ سال کے تقریباً 900 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
امریکہ کسی حد تک اپنے انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھرنے میں کامیاب رہا لیکن ذخیرہ اب بھی تنازع سے پہلے کی نسبت کم از کم 38 فیصد کم ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button