کالمزناصف اعوان

غربت کا خاتمہ بنیادی صنعت کاری سے ؟……ناصف اعوان

دوسرا سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو اب تک کئی پانچ برس مل چکے ہیں جن میں وہ عام آدمی کے حالات بہتر کیوں نہیں کر سکی ؟

جوں جوں آبادی میں اضافہ ہورہا ہے سماجی و معاشی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ روزگار کے ذرائع سکڑ رہے ہیں ۔ سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ توانائی کے بحران نے صورت حال کو گمبھیر بنا دیا ہے ۔ بہت سے صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں کچھ تو ملک بھی چھوڑ گئے ہیں لہذا حالات بہتری کی طرف جانے کے بجائے ابتری کی جانب چل پڑے ہیں۔ اگرچہ حکومت مسائل کی شدت کو کم کرنے کے لئے پیوند لگا رہی ہے مگر اس سے وقتی طور سے سکون و اطمینان تو حاصل ہو جاتا ہے بعد میں پھر وہی اندھیری رات ۔ اس طرز حکومت و سیاست سے مستقلاً راحت کا سامان میسر نہیں آسکتا لہذا لوگوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور وہ حکومت کو جلی کٹی سنانے لگے ہیں مگر حکومت کو کوئی پروا نہیں اور وہ بھاری بھرکم قرضہ لے کر عوام کو خوش کرنے کی کوشش میں ہے ان قرضوں کو سود سمیت کیسے ادا کرنا ہے اس کےلئے اُس نے ٹیکس پروگرام پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے لہذا ایسے ایسے ٹیکس متعارف کروائے جا رہے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے اس کے باوجود معیشت کا پہیہ سست ہے۔ اس معاشی صورت حال نے ترقی و تعمیر پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ جسے ترقی کہا جا رہا ہے وہ ترقی نہیں کیونکہ ترقی اسے کہتے ہیں جب ملک کے اندر بنیادی صنعتوں سے لے کر عام صنعتوں تک سب میں لوگوں کو روزگار مل رہا ہو اور وہ اپنی حالت کو بہتر محسوس کر رہے ہوں برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہو مگر اس وقت تو صورت حال ایسی نہیں ۔ بے روزگاری عام ہے کرنے کو کچھ نہیں‘ نوجوان ویلے پھر رہے ہیں انہیں ہنر مند بننے کی تلقین کی جا رہی ہے وہ با ہنر بھی ہو جاتے ہیں تو جب ان کے ہنر سے مستفید ہونے والے ہی غربت کی دلدل میں دھنس رہے ہوں گے تو انہیں بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک بنیادی پیداواری ذرائع تخلیق نہیں کیے جاتے تب تک لوگ خوشحال نہیں ہو سکتے۔ یہ۔بھی درست ہے کہ آبادی میں اضافہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں مگر انہیں حل کرنا حکومتوں کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے انہیں فقط اپنی مراعات میں ہی اضافہ نہیں کرنا ہوتا عوام کی بھی طرف بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں مگر نہیں ہر حکومت دوسروں سے متعلق کم ہی سوچتی ہےلہذا آج غربت افلاس اور بھوک نے پر پھیلا رکھے ہیں مگر اہل اختیار و اقتدار ان سےبے خبر چین کی بانسری بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں کہ اگر انہیں مزید پانچ برس حکومت کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ سہولتوں اور آسائشوں کی بھرمار کر دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیسے ؟ جو کام اگلے پانچ برسوں میں کرنا ہے وہ اب کیوں نہیں ہو سکتا ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو اب تک کئی پانچ برس مل چکے ہیں جن میں وہ عام آدمی کے حالات بہتر کیوں نہیں کر سکی ؟ سب باتیں کرتے ہیں عوام کو چالاکی دکھاتے ہیں انہیں بیوقوف بناتے ہیں اور پھر اپنے آشیر بادیوں کو خوش کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جب تک ڈکٹیشن کلچر کو رد نہیں کیا جاتا آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑائی جاتی ممکن ہی نہیں کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ سکیں ۔ ایک تاثر یہ ہے کہ دانستہ حکومتیں عالمی مالیاتی اداروں سے مل کر ان پر قرضے چڑھاتی ہیں انہیں مسائل کے شکنجے میں کستی ہیں تاکہ ان کے نظام سرمایہ داری کی حفاظت ہو سکے اگر یہ ان سے کہیں کہ وہ جو قرضہ دیتے ہیں اور جن شرائط کے ساتھ دیتے ہیں ضروری نہیں کہ ان کے مطابق منصوبے بنائے جائیں کیونکہ انہوں نے ایسے اقدامات کرنا ہیں جو ان کی معیشت کو مضبوط بنا سکیں مگر اتنی جرآت ان میں نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ جب ان میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ آئی ایم ایف یا اس جیسے کسی دوسرے ادارے کو تجویز دے سکیں یہی وجہ ہے کہ ایسی کوئی بہرحال تمام سیاسی جماعتیں اگر ان میں تھوڑا سی بھی عوامی خدمت کا جذبہ موجود ہے تو وہ یک جان ہو کر مسائل کے حل کے لئے اکھٹی ہو جائیں وگرنہ آنے جانے کاچکر چلتا رہے گا مگر یہ بھی ہے کہ اب عوام میں شعوری ارتقاء نے اپنی آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کر دیا ہے اسی لئے وہ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو اقتدار میں نہیں اور پچھلے چار برس سے مسلسل مشکلات کا شکار ہے لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ اب روایتی طرز سیاست ہو یا روایتی حکمرانی پس پشت ڈالے جانے والے ہیں ان کے خلاف توانا آوازیں اٹھ رہی ہیں جنہیں مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں سے دبایاجا رہا ہے مگر وہ خاموش ہونے میں نہیں آرہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ انہیں بولنے دیا جائے ان کے وجود کو تسلیم کیا جائے تاکہ وہ مظلومیت ثابت نہ کر سکیں اور ان کے سیاسی قد میں مزید اضافہ نہ ہو سکے مگر بات وہی کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ اگر عوامی رائے کا احترام کیا جاتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ویسے یہ دن عوام کو ہی دیکھنا پڑ رہے ہیں دولت والوں کی تو پانچوں گھی میں ہیں ان کے اثاثوں میں دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مطمئن ہیں جبکہ عوام میں غم وغصہ جنم لے رہا بے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے اس کا سبب معاشی حالات کی نہیں عدم سیاسی استحکام بھی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جارہی اور بیانات و تقاریر سے عوام کو وادی پُر بہار دکھائی جا رہی ہے ۔ غریبوں کے آنسو پونچھنے کے لئے قرض لے کر انہیں ہر ماہ دس بارہ ہزار روپے دے دئیے جاتے ہیں اور یہ معیشت کی چولیں ہلا دینے کے مترادف ہے لہذا حکومت کو چین اور روس کی قربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیوی قسم کی انڈسٹری کے قیام کی طرف آنا چاہیے دونوں ملک جدید ٹیکنالوجی دینے کو تیار ہیں ان سے تیل اور گیس بھی لی جائے۔ اب امریکا کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے کیونکہ وہ سپر پاور نہیں رہا اس کی ایران نے قلابازیاں لگا دی ہیں لہذا وہ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ اس نے اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے لہذا ہماری خارجہ پالیسی تبدیل ہونی چاہیے جو سیاسی استحکام لائے بغیر ممکن نہیں مگر شہ دماغ شاید اس پہلو کو اہمیت نہیں دیتے اور ایسے تیسے معاملات مملکت چلانا چاہتے ہیں جس کے ردعمل میں ایک اضطراب پیدا ہو رہا ہے اور بیرونی سطح پر اس کا تاثر غلط پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری کم ہے لہذا غربت اور بے روزگاری کی وجوہات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے پالیسیاں اور منصوبے بنائے جائیں تو ایک خوشگوار معاشی و سماجی منظر اُبھر سکتا ہے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button