انچل ووہرا کے ساتھ
اس عدالتی پیش رفت کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ یورپی یونین کے نئے مائیگریشن معاہدے کے نفاذ سے یہ ریلیف کتنے عرصے تک برقرار رہے گا، اس بارے میں سوالات موجود ہیں۔
یہ مقدمہ ایک بنیادی سوال کے گرد گھومتا تھا کہ جب کوئی شخص پناہ کی درخواست کے فیصلے یا ایک یورپی ملک سے دوسرے یورپی ملک منتقلی کا انتظار کر رہا ہو، تو باوقار زندگی گزارنے کے لیے اسے کن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے؟
یورپی عدالت برائے انصاف کے ججوں کو یہ طے کرنا تھا کہ آیا جرمنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات یورپی یونین کے مقرر کردہ معیار سے کم تھیں یا نہیں۔
یورپی عدالت سے ایک افغان پناہ گزین، جسے عدالتی دستاویزات میں ”ایف بی‘‘کہا گیا، کے حقوق کی تشریح کرنے کو کہا گیا تھا۔ جرمنی نے اس کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی تھی اور اسے رومانیہ واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جہاں اس نے 2021 میں پہلی بار پناہ کی درخواست دی تھی۔

منتقلی کے انتظار کے دوران ایف بی کو خوراک، رہائش، صفائی ستھرائی اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں، لیکن کپڑوں اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے کوئی امداد نہیں دی گئی۔ جرمنی کے ایک قانون کے تحت مسترد شدہ پناہ گزینوں کے لیے امداد میں نمایاں کمی کی جا چکی ہے، جسے انسانی حقوق کے کارکنوں نے ”بستر، روٹی اور صابن‘‘ تک محدود امداد قرار دیا۔
ایف بی نے 2022 میں اپنی امداد کم کیے جانے کے خلاف جرمنی کے باویریا صوبے کے شہر شوائنفورٹ کے ضلعی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جو بالآخر یورپی عدالتِ انصاف تک پہنچا۔
جمعرات کو عدالت نے پناہ گزین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کی پناہ کی درخواست مسترد بھی ہو جائے تو بھی اس سے کپڑوں اور گھریلو استعمال کی بنیادی اشیاء جیسی ضروری سہولیات واپس نہیں لی جا سکتیں۔
عدالت کے مطابق کپڑے انسان کی ”بنیادی ترین ضروریات‘‘ میں شامل ہیں۔ مزید برآں، روزمرہ ضروریات کے لیے نقد امداد، جیسے سفری ٹکٹ یا مواصلاتی آلات مثلاً موبائل فون، اس شخص کو اُس ملک کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں کم از کم سطح پر شریک ہونے کا موقع فراہم کرتے ہے جہاں وہ مقیم ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ امداد نہ صرف درخواست گزار کی گزر بسر کو یقینی بناتی ہے بلکہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس کے اثرات پوری یورپی یونین میں محسوس کیے جائیں گے۔ تاہم، نئے یورپی مائیگریشن معاہدے کے بعد صورتحال کچھ غیر واضح ہو گئی ہے۔

جرمنی میں پناہ گزینوں کے لیے امداد محدود
ایف بی نے 2021 میں جرمنی میں پناہ کی درخواست دی تھی، لیکن ایک سال بعد اس کی درخواست کو ”ناقابلِ قبول‘‘ قرار دے دیا گیا۔
یورپی یونین کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی ”ڈبلن ریگولیشن‘‘ کے تحت چلتی ہے، جس کے مطابق اگر کسی دوسرے یورپی رکن ملک نے پہلے ہی کسی پناہ گزین کے کیس کی ذمہ داری قبول کر لی ہو تو نئی درخواست ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے۔
اس نظام کا مقصد پناہ گزینوں کی ثانوی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیں چند مخصوص ممالک میں جمع ہونے کے بجائے پوری یورپی یونین میں تقسیم کرنا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران جرمنی میں مہاجرت ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی نے اس موضوع کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا ہے۔ اسی تناظر میں ووٹرز کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں جرمن حکومت پر بھی پناہ گزینوں کے لیے مالی امداد کم کرنے کا دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
دو ہزار چوبیس میں ”اسائلم سیکرز بینیفٹس ایکٹ‘‘ میں ترمیم کے بعد جرمنی نے خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات برقرار رکھیں، لیکن نقد امداد میں نمایاں کمی کر دی۔
یورپی پناہ گزینوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی جرمن تنظیم Pro Asyl کی پالیسی افسر ویبکے یوڈتھ کے مطابق، ”عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پناہ گزینوں کو نقد رقم بہت کم یا بالکل نہ ملے۔‘‘
کارکنوں کا مؤقف تھا کہ کپڑوں اور نقد امداد کی عدم فراہمی مناسب معیارِ زندگی کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے اور یورپی یونین کی ”ریسیپشن کنڈیشنز ڈائریکٹو‘‘ کی روح کے منافی ہے، جو پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے کم از کم امدادی معیار مقرر کرتی ہے، خواہ ان کی درخواست مسترد ہی کیوں نہ ہو چکی ہو۔
پرو اسائلم نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے جرمن قانون نے ”کم از کم معیارِ زندگی کے سماجی اور ثقافتی پہلو‘‘ کو ختم کر دیا تھا، لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں اس کمی کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔
عدالت کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسترد شدہ پناہ گزین بھی اس وقت تک بنیادی امداد کے حق دار ہیں جب تک ان کی منتقلی عملی طور پر انجام نہ پا جائے۔
اے ایف ڈی، مہاجرین کی امداد کے خلاف
یورپ میں دائیں بازو اور بعض قدامت پسند سیاست دان پناہ گزینوں کے لیے نسبتاً بہتر فلاحی سہولیات پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ”فیاض فلاحی نظام‘‘ غیر یورپی ممالک کے افراد کو یورپ کی جانب ہجرت کے لیے راغب کرتا ہے۔
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت AfD کا دعویٰ ہے کہ مہاجرین نقد امداد اپنے پاس رکھتے ہیں یا اپنے آبائی ممالک میں خاندانوں کو بھیج دیتے ہیں۔ 2024 میں جرمن حکومت کی جانب سے نقد رقم کے بجائے محدود استعمال والی ڈیبٹ کارڈ اسکیم متعارف کرانے پر اے ایف ڈی نے اس کا کریڈٹ بھی لیا تھا۔
تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی پابندیاں ہجرت کو نہیں روک سکتیں بلکہ لوگوں کو غیر رسمی معیشت کا حصہ بننے پر مجبور کرتی ہیں۔ ویبکے یوڈتھ کے مطابق جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے افراد کو صرف اس وجہ سے نہیں روکا جا سکتا کہ انہیں کم مالی امداد ملے گی۔



