پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم پنجاب حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، ڈاکٹر عاصمہ ناہید

آٹزم ایک ایسا اعصابی و نشوونمائی عارضہ ہے جس کے شکار بچوں کو خصوصی توجہ، تربیت اور معاون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے

قاسم بخاری -پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سپیشل نیڈز کنسلٹنٹ ڈاکٹر عاصمہ ناہید نے مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کو پنجاب حکومت کا ایک منفرد، مثالی اور فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی تعلیم، تربیت، بحالی اور سماجی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت قائم کیا جانے والا یہ مرکز خصوصی بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے امید، اعتماد اور سہولتوں کا ایک جامع پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے نمائندے سید محمد قاسم بخاری کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عاصمہ ناہید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے ایسے منصوبوں کی بنیاد رکھی ہے جو نہ صرف بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرتے ہیں بلکہ ان کی سماجی، ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آٹزم ایک ایسا اعصابی و نشوونمائی عارضہ ہے جس کے شکار بچوں کو خصوصی توجہ، تربیت اور معاون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں قائم کیا گیا ہے، جہاں بچوں کو عالمی معیار کی تعلیمی اور بحالی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر عاصمہ ناہید نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کے مطابق ادارے کے قیام اور ترقی کے تمام مراحل میں معیار اور سہولت کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے ایسا محفوظ، معاون اور آٹزم فرینڈلی ماحول تشکیل دیا گیا ہے جو ان کی انفرادی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس ماحول میں بچوں کی ذہنی استعداد، مواصلاتی صلاحیتوں، سماجی رویوں اور تعلیمی قابلیت کو بہتر بنانے کے لیے جدید تدریسی اور تربیتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارے میں بچوں کی تشخیص، خصوصی تعلیم، اسپیچ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، نفسیاتی معاونت اور والدین کی رہنمائی سمیت متعدد سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف بچوں کی صلاحیتوں میں بہتری آ رہی ہے بلکہ والدین کو بھی اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال اور تربیت کے حوالے سے رہنمائی حاصل ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ ناہید نے کہا کہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے معیاری سہولیات کی فراہمی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور حکومت پنجاب اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم جیسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے تاکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ خاندان ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو معاشرے کا فعال اور خوداعتماد حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، مناسب تربیت اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم اسی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے جو خصوصی بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے۔
سپیشل نیڈز کنسلٹنٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت اور خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کے وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے انسان دوست، فلاحی اور جامع ترقیاتی ایجنڈے کا واضح عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کے لیے ایسے اداروں کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت معاشرے کے ہر طبقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ ناہید نے مزید بتایا کہ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں ادا کیے گئے تعریفی کلمات ان کے لیے ایک بڑا اعزاز اور حوصلہ افزائی کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اعتراف نے انہیں خصوصی بچوں کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے مزید جذبے اور عزم کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی حکومت پنجاب خصوصی تعلیم اور بحالی کے شعبے میں مزید اصلاحات اور منصوبے متعارف کرائے گی تاکہ خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کو معاشرے میں باوقار اور بااعتماد زندگی گزارنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم نہ صرف خصوصی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اضافہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کی معاونت اور بحالی کے لیے ایک جدید ماڈل کے طور پر بھی ابھر رہا ہے، جس سے آنے والے برسوں میں ہزاروں خاندان مستفید ہو سکیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button