روس اور یوکرین کے درمیان جمعے کو 185 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا، جس کے لیے متحدہ عرب امارات نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ رہا کیے گئے قیدیوں میں ایسے فوجی بھی شامل ہیں جو 2022 سے روسی قید میں تھے۔
زیلنسکی کے مطابق ان فوجیوں نے ماریوپول اور ازووستال اسٹیل پلانٹ کے دفاع میں حصہ لیا تھا، جبکہ کچھ ڈونیٹسک، لوہانسک، خارکیف، خیرسون، سومی، کییف اور کرسک کے محاذوں پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
صدر زیلنسکی نے کہا،’’اپنے لوگوں کی وطن واپسی یوکرین کی مستقل ترجیح ہے۔ ہم ہر روز اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ہر یوکرینی مرد اور خاتون کو قید سے آزاد کرایا جا سکے۔‘‘
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ 185 روسی فوجیوں کو بھی اس علاقے سے واپس لایا گیا جسے روسی حکام ’’کییف حکومت کے زیرِ قبضہ علاقہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران قیدیوں کا تبادلہ ان چند عملی معاملات میں سے ایک ہے جن میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ اور تعاون برقرار رہا ہے، جبکہ دیگر سفارتی اور سیاسی روابط انتہائی محدود ہیں۔


