بین الاقوامیتازہ ترین

آر ایس ایس کی عالمی امیج بہتر بنانے کی مہم، امریکہ اور یورپ میں سفارتی رابطوں کا آغاز

بھارتی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی ماضی میں کئی بار آر ایس ایس پر الزام لگا چکے ہیں کہ تنظیم بھارتی معاشرے میں مذہبی تقسیم کو فروغ دے رہی ہے

جاوید -بھارت،وائس آف جرمنی اردو نیوز
بھارت میں ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے اور خود کو ’’نیم فوجی تنظیم‘‘ قرار دیے جانے کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے مختلف ممالک میں سفارتی اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کے مطابق اس مہم کے تحت امریکہ، برطانیہ، جرمنی، یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک میں اجتماعات اور ملاقاتوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
آر ایس ایس، جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی و نظریاتی بنیاد سمجھی جاتی ہے، نے کہا ہے کہ بیرون ملک اس کے خلاف پائے جانے والے ’’غلط تاثرات‘‘ کو دور کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ مودی اپنی جوانی میں آر ایس ایس کے پرچارک (کل وقتی رکن) رہ چکے ہیں جبکہ ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ملک گیر سیاسی طاقت کو بھی آر ایس ایس کے وسیع رضاکار نیٹ ورک سے جوڑا جاتا ہے۔
تنظیم کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں آر ایس ایس پر الزام عائد کیا کہ یہ تنظیم ’’دہائیوں سے اقلیتی گروہوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔‘‘ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 1925 میں قائم ہونے والی آر ایس ایس پر مختلف ادوار میں کئی مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ 1948 میں تنظیم پر اس وقت پابندی لگائی گئی تھی جب اس کے سابق رکن ناتھو رام گوڈسے نے بھارت کے بانی رہنما مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔
بھارتی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہول گاندھی ماضی میں کئی بار آر ایس ایس پر الزام لگا چکے ہیں کہ تنظیم بھارتی معاشرے میں مذہبی تقسیم کو فروغ دے رہی ہے اور ہندو اکثریتی نظریے کے ذریعے ملک کے سیکولر تشخص کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔
تاہم آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ایک ’’ہندو تہذیبی اور ثقافتی تحریک‘‘ قرار دیتی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ہندوؤں کو متحد کرنا، مذہبی و ثقافتی اقدار کا تحفظ کرنا اور بھارت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط قوم بنانا ہے۔
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسبولے نے غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے رہنما پہلے ہی امریکہ، جرمنی اور برطانیہ میں مختلف تقریبات اور اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں جبکہ مزید دوروں کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کا مقصد دنیا بھر میں آر ایس ایس کے بارے میں ’’آگاہی‘‘ پیدا کرنا اور اس سے متعلق پائی جانے والی ’’غلط فہمیوں‘‘ کو ختم کرنا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button