بین الاقوامیاہم خبریں

آر ایس ایس پر عالمی دباؤ میں اضافہ، اقلیت مخالف سرگرمیوں پر شدید تنقید

تنظیم کے رہنما امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہو گئے ہیں جبکہ دہلی میں آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

نیوز ڈیسک
نئی دہلی: ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اقلیت مخالف سرگرمیوں اور شدت پسند نظریات کے الزامات کے بعد شدید عالمی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کئی مرتبہ اپنے شدت پسند رجحانات کے باعث پابندیوں کی زد میں بھی آ چکی ہے، جبکہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں تنظیم کی نفرت انگیز سیاست کو مزید تقویت ملی۔ رائٹرز نے رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو آر ایس ایس ایجنڈے کی دو بڑی کامیابیاں قرار دیا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے تنظیم کو اقلیتوں کے خلاف تشدد اور عدم برداشت سے جوڑا ہے۔ سفارشات میں آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرنے اور امریکہ میں اس کے ارکان کے داخلے پر پابندی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ پابندیوں اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے بعد آر ایس ایس نے دنیا بھر میں لابنگ مہم تیز کر دی ہے۔ تنظیم کے رہنما امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہو گئے ہیں جبکہ دہلی میں آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق آر ایس ایس رہنما مودی حکومت پر لگنے والے مذہبی شدت پسندی کے الزامات ختم کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ 1925 میں قائم ہونے والی آر ایس ایس کا نام مہاتما گاندھی کے قتل کے تناظر میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے امریکہ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے لابنگ فرموں کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں، جبکہ بھارتی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ایک شدت پسند تنظیم کا امیج بہتر بنانے پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت اپنے شدت پسند نظریات کے باعث عالمی سطح پر دباؤ کا شکار ہے اور مودی کی آر ایس ایس سے وابستگی نے بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد پر مبنی کارروائیاں بھارت اور یورپی ممالک کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button