
وقت بدل جاتا ہے آخر !……ناصف اعوان
حکومت اسے ترقی کہہ رہی ہے اس کے بہی خواہ بھی یہی کہہ رہے ہیں مگرحزب اختلاف اسے ترقی معکوس کہتی ہے اگر ترقی
دیکھا گیا ہے کہ حکمران عوامی رائے کا احترام نہیں کرتے۔ان کے خیال میں عوام کم علم ناسمجھ اور جاہل ہوتے ہیں وہ ٹھیک ہی خیال کرتے ہیں کہ اب بھی ان ہی اہل اختیار سے وہ اپنے جیون میں بہار لانا چاہتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی تخت پر بیٹھنے کے بعد پلٹ کر ان کی طرف نہیں دیکھا وہ صرف اور صرف واشنگٹن اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب دیکھتے رہے کہ انہیں ان کی آشیر باد حاصل ہوتی لہذا انہیں ناراض نہیں کیا جا سکتا تھا بصورت دیگر منظر بدل جاتے۔ تاریخ یہ سب بتاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ملک میں ہمیشہ غربت بیماری جہالت اور بے روزگاری موجود رہے حکمرانوں نے جو بھی مدد اور قرضہ لیا اسے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کےلئے نہیں غیر پیداواری منصوبوں اور سکیموں پر خرچ کرنے کےلئے لیا۔ مقصد عوام کو عارضی ریلیف دے کر خوش کرنا ہوتا اور وہ خوش ہو بھی جاتے کیونکہ جس مسافر کو دھوپ میں چلتے ہوئے شجر سایہ مل جائے تو اس کو نئی زندگی کا احساس ہوتا ہے بالکل اسی طرح اہل وطن کے ساتھ ہوتا رہا اور انہوں نے اٹھہتر برس گزار لئے مگر اب جب ان کی شعور کی آنکھ کھلی ہے تو انہیں معلوم ہوا ہےکہ ان کے ساتھ ان کے حاکمان وقت کیا کرتے رہے۔ انہوں نے دانستہ ایسے پروجیکٹس کی تعمیر نہیں کی یا انہیں کرنے ہی نہیں دی گئی کہ جس سے انہیں دوسروں کی محتاجی نہ رہتی کہ ان کے سامنے صنعتوں کا ایک جال بچھا ہوتا جس میں وہ محنت کرتے اور بے روزگاری سے نجات پاتے مگر ایسا کچھ نہیں تھا ہاں البتہ انہوں نے بڑی بڑی شاہراہیں اور پُل ضرور بنتے دیکھے جس سے انہیں آنے جانے میں آسانی ہو گئی مگر جب روزگار کے ذرائع ہی محدود ہوں اور وہ بھی سکڑنے لگیں تو کوئی آئے گا کہاں اور جائے گا کہاں ؟ ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے بہت سے لوگ بڑی شاہراہوں پر سفر کرنے سے محروم ہیں لہذا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ غربت کو ختم کرنے کے لئے سوچ بچار کی جاتی مگر ہمارے آشیر بادی اہل اقتدار نے کبھی بھی کچھ نہ سوچا ؟
نتیجتاً آج ہم قرضوں سے دال روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں ۔ بجٹ میں تعلیم وصحت کے لئے معمولی رقم مختص کی جاتی ہے جبکہ دوسرے ملکوں میں اس کے بر عکس ہوتا ہے۔ حیرت یہ ہے اور افسوس بھی کہ حکمران طبقہ بظاہر تعلیم کے حصول پر زور بہت دیتا ہے ۔نئی نئی پالیسیاں و منصوبے بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ کہ وہ عام لوگوں کے بچوں کو تعلیم سے محروم ہی رکھنا چاہتا ہے اگر ان کے بچے مڈل میٹرک کر بھی جاتے ہیں تو جو مشکلات انہیں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے پیش آتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔
بہرحال موجودہ حکومت جسے دو برس ہو چلے ہیں اگر پچھلے دو برس بھی شامل کر لیے جائیں تو چار برس ہو گئے ہیں مگر ترقی کی بنیاد صنعتیں توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کہیں دکھائی نہیں دیتے ہاں مگر ایسے پروگرام ضرور نظر آتے ہیں جن سے غربت مہنگائی روزگار کے مسائل گمبھیر ہو سکتے ہوں۔ کمیشن خوروں کےلئے البتہ مواقع پیدا ہو گئے ہیں اور ان کی پانچوں گھی میں ہیں؟
حکومت اسے ترقی کہہ رہی ہے اس کے بہی خواہ بھی یہی کہہ رہے ہیں مگرحزب اختلاف اسے ترقی معکوس کہتی ہے اگر ترقی
ہو بھی رہی ہے تو پھرچہرے مرجھائے ہوئے کیوں؟
یہ شور کیوں اُٹھ رہا ہے ہر کوئی پریشان کیوں ہے ؟ ان سوالوں کا جواب حکومت کو دینا چاہیے مگر شاید وہ اس کی پابند نہیں کیونکہ اس نے اقتدار بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے جس سے وہ محروم نہیں ہونا چاہتی مگر یہ اس کا خیال ہے یہاں بھٹو صاحب اپنی کرسی کو بڑا مضبوط کہتے تھے ان کی یہ خوشی فہمی اس وقت تحلیل ہو گئی جب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نوے روز میں عام انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا مگر پھر جو ہوا وہ تاریخ ہے لہذا کوئی پتا نہیں کہ سیاست میں کب بھونچال آجائے؟ اگرچہ بھونچال کی باتیں ہورہی ہیں بڑے حکومتی عہدیداروں کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی دِلی دُور است یہ حکومت ایسے تیسے اپنی مدت پوری کرے گی اس کے منصوبے جاری رہیں گے اور جب مکمل ہوں گے تو ہمارے اوپر قرضہ بے بہا چڑھ چکا ہو گا جسے اتارنے کے لئے لازمی نئی حکومت بھی وہی کچھ کرے گی جو کچھ اس سے پہلے والی نے کیا ہو گا۔ اب بھی جتنے ٹیکس لگائے جارہے ہیں خواہ پٹرول کی صورت میں ہوں یا بجلی گیس کی شکل میں ان کا مقصد قرضہ اتارنا ہی ہے کیونکہ پیداواری ذرائع اتنے نہیں کہ جن کی پیداوار کو برآمد کرکے قرضے اتارے جا سکیں لہذا عوام کو ہی زحمت دینا پڑ رہی ہے اور وہ بلبلا رہے ہیں مگر حکومت کو اس کی قطعی پروا نہیں اس نے ان کی لب کشائی کو روکنے کے لئے طرح طرح کے اخلاقی ضابطے وضع کر لئے ہیں اس کے باوجود آوازیں فضاؤں میں بلند ہو رہی ہیں ۔ جن محکموں کو آگے لایا گیا ہے وہ بھی تنگ آچکے ہیں کیونکہ لوگ ان کے گریبانوں کو آرہے ہیں ہاتھا پائی کے مناظر کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ خوش کن وعدوں کا دور اب بھی جاری ہے ۔ آج جن کا اعلان کیا جاتا ہےکل بھلا دئیے جاتے ہیں۔ حیرانی ہمیں یہ بھی ہے کہ بہتر کاردگی پر توجہ دینے کے بجائے خان کے دور کی بات چھیڑ دی جاتی ہے کہ اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا ٹھیک ہے اس نے کیا ہو گا مگر آپ لوگ تو اس کو سنوارنے کے لیے آئے ہیں تو ابھی تک کیوں نہیں سنوارا جا سکا۔ یہ جو ڈنگ ٹپاؤ منصوبے بنا کر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے ان کی سوچ نہیں بدلنے والی کیونکہ ان کے شعور نے بہت سے مراحل طے کرلئے ہیں لہذا وہ ایسی ترقی کو تسلیم نہیں کرتے کہ جب بے روزگاری بڑھ رہی ہو مہنگائی ان کی کمر توڑ رہی ہو۔ بااثر افراد اسی طرح دندناتے پھر رہے ہوں جس طرح پہلے دندناتے تھے محکموں میں رشوت دھڑلے سے لی جارہی ہو ملازمین اپنی تنخواہیں بڑھانے کٹوتیاں ختم اور پنشن کا پرانا نظام بحال کرانے کے لئے چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر احتجاج کناں ہوں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت تباہ حال ہے کوئی ترقی نہیں ہو رہی ۔ ترقی کی تعریف یہ ہے کہ ملیں کارخانے فیکٹریاں دن رات کام کر رہے ہوں ۔ لوگوں کو سستا اور آسان انصاف مل رہا ہو استحصال کی پرچھائیں تک نہ ہو مگر یہاں ابھی حالات ایسے نہیں پیدا ہوئے‘ پیدا ہو سکتے ہیں اگر حکمران طبقہ آشیربادی کلچر سے علیحدہ ہو جاتا ہے تو پھر یہ ممکن ہو سکتا ہے مگر شاید ایسا کرنا اس کےلئے مشکل ہو گا کیونکہ اس کی جائیدادیں اور کاروبار آشیر بادیوں کے ملکوں میں ہیں۔


