پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ، قومی خودمختاری کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، قربانیوں اور آپریشنل تیاری کو خراجِ تحسین پیش کیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے ہر قسم کی جارحیت اور مہم جوئی کے خلاف پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے قومی سلامتی، امن و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور دیگر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عملی تیاری اور عظیم قربانیوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیکلٹی ممبران، زیر تربیت افسران اور دوست ممالک سے آئے ہوئے طلبہ افسران سے خطاب کیا۔

شہدا کو خراجِ عقیدت، مسلح افواج کے کردار کو سراہا

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنے بہادر سپاہیوں اور افسران کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل وقت میں قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور دفاعی تیاری ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

“معرکۂ حق” اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین

وزیراعظم شہباز شریف نے “معرکۂ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخی کامیابی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے قومی دفاع اور استحکام کے لیے بے مثال عزم اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال اور متکبرانہ جارحیت کے باوجود پاکستان نے انتہائی ذمہ دارانہ، بالغ نظر اور دانشمندانہ طرزِ عمل اختیار کیا، جسے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور علاقائی توازن کو ترجیح دی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف “آپریشن غضب للحق” جاری رکھنے کا اعلان

وزیراعظم نے خطاب کے دوران دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “آپریشن غضب للحق” پوری قوت، عزم اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا تاکہ افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد پراکسیز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں، ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام قومی وسائل بروئے کار لا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کشمیر اور فلسطین کے عوام سے اظہارِ یکجہتی

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت اور انصاف پر مبنی مؤقف کی حمایت کرتا رہے گا۔

عسکری سفارتکاری اور علاقائی استحکام پر زور

دوست ممالک سے آئے ہوئے زیر تربیت افسران کی موجودگی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے عسکری سفارتکاری، پیشہ ورانہ تعاون اور بین الاقوامی عسکری روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک “نیٹ ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی اداروں کے درمیان تعاون، تربیت اور تجربات کا تبادلہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کو عسکری تعلیم اور قیادت سازی کا ایک اہم ادارہ قرار دیا۔

اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات کی شرکت

دورے کے دوران وزیر دفاع، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔

قبل ازیں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ پہنچنے پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعظم کا استقبال کیا جبکہ انہیں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دفاعی تیاریوں اور تربیتی امور سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔

کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کی اہمیت

دفاعی ماہرین کے مطابق کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ دنیا کے معتبر عسکری تربیتی اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں پاکستان سمیت مختلف دوست ممالک کے افسران پیشہ ورانہ عسکری تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ ادارہ جدید جنگی حکمتِ عملی، عسکری قیادت، قومی سلامتی اور ملٹی ڈومین آپریشنز کے حوالے سے افسران کی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے اس دورے اور خطاب کا مقصد نہ صرف افواجِ پاکستان کے عزم اور تیاری کو اجاگر کرنا تھا بلکہ خطے میں پاکستان کے امن پسند مگر مضبوط دفاعی مؤقف کو بھی واضح کرنا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button