اے ایف پی
یورپی یونین نے منگل کو روسی تیل پر امریکی پابندیوں کی تازہ ترین رعایت پر تنقید کی ہے جس کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب جی سیون ممالک کے وزراء خزانہ متعدد اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کی غرض سے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اجلاس منعقد کر رہے تھے۔
واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد توانائی کی قیمتیں کم کرنے میں مدد کرنا ہے جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے آسمان کو چھو رہی ہیں کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمدورفت مؤثر طریقے سے بند کر رکھی ہے۔
لیکن یورپی یونین کے کمشنر اقتصادیات ویلڈیس ڈومبرووسکس نے اس نرمی کی مذمت کی جس سے ماسکو کو یوکرین کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے مالیاتی وسائل مل رہے ہیں۔
"یورپی یونین کے نکتۂ نظر سے ہم نہیں سمجھتے کہ یہ روس پر دباؤ کم کرنے کا وقت ہے،” ڈومبرووسکس نے پیرس میں جی سیون مذاکرات کے دوسرے دن کے دوران صحافیوں سے کہا۔
انہوں نے کہا، "درحقیقت یہ روس ہے جو ایران میں جنگ اور حیاتیاتی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر کچھ کرنا ہے تو ہمیں دباؤ مضبوط کرنا ہو گا۔”
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ فرانس کی میزبانی میں گروپ آف سیون مذاکرات کے لیے پیرس میں موجود ہیں۔ اس وقت گروپ کی گردشی صدارت فرانس کر رہا ہے۔
"سیکریٹری بیسنٹ ہمیں یقین دلا رہے تھے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ پہلے ہی اس اقدام کی دوسری توسیع ہے جو ابتدائی طور پر صرف 30 دن تک رہنا تھا،” ڈومبرووسکس نے کہا۔
فرانسیسی وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکور نے کہا ہے کہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان بہرحال جاری کیا جائے گا جو منگل کو ختم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا، "ہم لوگوں کے درمیان انتہائی بے تکلف گفتگو ہوئی ہے جو ضروری نہیں کہ ہر چیز پر متفق ہوں لیکن وہ ہر چیز کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔”
مذاکرات کا مقصد مکالمے کو کھلا رکھنا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات کی وجہ سے پیداشدہ تجارتی تنازعات سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں مزید شدت پیدا کرتے ہیں۔



