پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان میں نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وائس چانسلرز اور سینئر اساتذہ سے خصوصی نشست

شرکاء کو انفارمیشن وارفیئر، سوشل میڈیا کے منفی استعمال، فیک نیوز، پروپیگنڈا مہمات اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

راولپنڈی میں منعقدہ نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026 میں ملک بھر کی جامعات سے تعلق رکھنے والے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں قومی سلامتی، انفارمیشن وارفیئر، داخلی استحکام اور نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ورکشاپ میں پاکستان کی 200 سے زائد جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ لاہور، کراچی، پشاور، مظفرآباد، ملتان اور کوئٹہ سے متعدد شرکاء آن لائن بھی اس اہم نشست کا حصہ بنے۔ اس خصوصی سیشن میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے شرکاء سے ملک کی مجموعی داخلی صورتحال اور سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔


قومی سلامتی اور اکیڈیمیا کے تعلق پر خصوصی توجہ

ورکشاپ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ دور میں قومی سلامتی صرف عسکری معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں تعلیمی، فکری، سماجی، معاشی اور اطلاعاتی پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔

خصوصی نشست میں مقررین نے کہا کہ جامعات اور تعلیمی ادارے قومی بیانیے، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور معاشرتی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اکیڈیمیا اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

شرکاء کو انفارمیشن وارفیئر، سوشل میڈیا کے منفی استعمال، فیک نیوز، پروپیگنڈا مہمات اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔


ڈی جی آئی ایس پی آر کی اہم گفتگو

خصوصی نشست کے دوران انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے قومی سلامتی کے بدلتے ہوئے تقاضوں، خطے کی صورتحال، داخلی استحکام اور معلوماتی جنگ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں، اکیڈیمیا، میڈیا اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل کو درست معلومات کی فراہمی اور منفی پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے کے مراکز نہیں بلکہ قومی شعور، ذمہ دار شہری اور مستقبل کی قیادت تیار کرنے کے اہم ادارے ہیں۔


شرکاء کا پاک فوج پر بھرپور اعتماد کا اظہار

ورکشاپ میں شریک وائس چانسلرز، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے  پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ ملک کے دفاع، استحکام اور سلامتی کے لیے قابلِ فخر خدمات انجام دی ہیں۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ:

“معرکۂ حق میں پاکستان کو پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قربانیوں اور حکمت عملی کے باعث عظیم کامیابی نصیب ہوئی۔”

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ملکی دفاع مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے اور افواجِ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔


آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کا اعتماد

ورکشاپ میں شریک مقررین نے کہا کہ  پاک فوج پر نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی فخر ہے۔

شرکاء کے مطابق کشمیری عوام پاکستان کی مسلح افواج کو اپنی امید اور تحفظ کی علامت سمجھتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔


طلبہ کو منفی پروپیگنڈے سے بچانے پر زور

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور میں نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف قسم کے منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سامنا ہے، جس کے تدارک کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ورکشاپ میں شریک اساتذہ کا کہنا تھا کہ انہیں طلبہ کو درست معلومات فراہم کرنے، قومی شعور اجاگر کرنے اور غلط بیانیے کا مؤثر جواب دینے کے حوالے سے واضح رہنمائی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات کو اب صرف تدریس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں نوجوانوں کی فکری، اخلاقی اور قومی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔


انفارمیشن وارفیئر پر تفصیلی آگہی

ورکشاپ میں شرکاء کو انفارمیشن وارفیئر، سائبر چیلنجز، ڈیجیٹل میڈیا کے اثرات اور بیرونی پروپیگنڈا مہمات کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دی گئی۔

ماہرین نے کہا کہ آج کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ معلومات، بیانیے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اکیڈیمیا، میڈیا اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

شرکاء نے کہا کہ انہیں ملک کو درپیش مختلف سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے جامع آگہی حاصل ہوئی، جو مستقبل میں نوجوان نسل کی بہتر رہنمائی میں مددگار ثابت ہوگی۔


آئی ایس پی آر کے اقدام کو بھرپور سراہا گیا

ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے وائس چانسلرز اور اکیڈیمیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت تھی۔

شرکاء کے مطابق:

  • اس قسم کی نشستیں قومی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں
  • اکیڈیمیا اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے
  • نوجوان نسل کی بہتر فکری رہنمائی ممکن بنتی ہے
  • قومی سلامتی سے متعلق آگہی میں اضافہ ہوتا ہے

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے مکالمے اور ورکشاپس کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ تعلیمی ادارے قومی ترقی، استحکام اور سلامتی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔


قومی یکجہتی اور فکری استحکام کی ضرورت پر زور

ورکشاپ کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ قومی اتحاد، فکری ہم آہنگی اور درست معلومات کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نوجوان نسل کو مثبت سوچ، قومی شعور اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی طرف راغب کرنا موجودہ دور کی سب سے اہم ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے اکیڈیمیا اور قومی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button