پاکستاناہم خبریں

پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری، مشترکہ کاوشوں سے ترقی کا نیا سفر طے کریں گے: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ اعتماد، بھائی چارے اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک لازوال رشتہ ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر پروقار تقریب

پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی دنیا کے لیے ایک منفرد مثال ہے جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔

تقریب میں آصف علی زرداری، اسحاق ڈار، یوسف رضا گیلانی، ایاز صادق، وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، پاکستان میں چین کے سفیر اور چینی نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے وائس چیئرمین سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔

“پاکستان چین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا”

اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا کے اولین ممالک اور پہلا مسلم ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ 75 سال قبل دونوں ممالک کے بانی رہنماؤں نے اس عظیم دوستی کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد پاک چین تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ اعتماد، بھائی چارے اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک لازوال رشتہ ہیں۔

“چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا”

وزیراعظم نے کہا کہ زلزلوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سمیت ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کا بے مثال ساتھ دیا اور ہمیشہ چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔

انہوں نے 2010 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے ہیلی کاپٹرز، ادویات، ماہرین اور امدادی سامان کے ذریعے پاکستان کی فوری مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام چین کی ان خدمات اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔

“پاک چین دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے”

شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی ایک تاریخی اور لازوال تعلق ہے جسے دنیا بھر میں “سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی” دوستی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے کبھی کسی سیاسی مفاد کے بغیر ایک دوسرے کی حمایت کی اور ہر عالمی و علاقائی مسئلے پر قریبی تعاون جاری رکھا۔

سی پیک کو اقتصادی ترقی کا سنگِ میل قرار

وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو چین کے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی، توانائی، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی گھروں، ڈیمز، شاہراہوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں چین کا کلیدی کردار ہے، جس نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دی۔

سی پیک 2.0 میں جدید شعبوں پر توجہ

وزیراعظم نے کہا کہ اب دونوں ممالک سی پیک 2.0 کے تحت نئے شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں، جن میں:

  • زراعت
  • انفارمیشن ٹیکنالوجی
  • مصنوعی ذہانت (AI)
  • کان کنی و معدنیات
  • صنعت کاری
  • جدید ٹیکنالوجی

شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑا سرمایہ ہے اور چین کے تعاون سے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

زرعی شعبے میں چین کا تعاون

وزیراعظم نے بتایا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس نے چین میں جدید زرعی تربیت مکمل کی ہے، جس سے پاکستان میں زرعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کو زرعی جدید کاری، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے۔

“چین کی ترقی دنیا کے لیے مثال ہے”

شہباز شریف نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکال کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج چین کی اقتصادی اور فوجی قوت پوری دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے اور پاکستان چین کی ترقی سے سیکھتے ہوئے اپنے ترقیاتی سفر کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے کا اعلان

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اپنے آئندہ دورۂ چین کے دوران وہ چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر کیا جائے گا۔

ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کا اعادہ

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ ون چائنہ پالیسی کی حمایت کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عالمی سطح پر کثیرالجہتی، امن، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔

صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کی امید

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کا سفر آنے والے برسوں میں مزید مضبوط اور وسیع ہوگا اور دونوں ممالک مشترکہ کاوشوں سے ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button